qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

قم میں انہدام جنت البقیع کے سلسلے میں انٹرنیشنل کانفرنس

آل سعود نہ صرف اسلام بلکہ مسلمان اور اسلامی آثار کے بھی دشمن ہیں۔ وہ قبلہ اول کی حفاظت کے بجائے یہودیوں کو مدد کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قم میں یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر منعقدہ انٹر نیشنل کانفرنس میں ڈاکٹر سید عباس مہدی حسنی نے کیا۔

قم المقدسہ میں واقع مدرسہ امام خمینیؒ کے شہید عارف حسینی ہال میں یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر تحریر پوسٹ، انجمن محبان آل یاسینؑ،انڈین اسلامک اسٹوڈنٹس یونین، مرکز افکار اسلامی انجمنوں کے زیر اہتمام  اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں مقررین نے آل سعود کے مظالم کے خلاف آوازیں بلند کیں اور جنت البقیع کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ ۔اس موقع پر شعرائے کرام مولانا سید عامر عباس عابدی نوگانوی اور مولانا اظہر باقر خان جونپوری نے بقیع اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کے حوالے سے اشعار پیش کئے ۔ کانفرنس کی نظامت مولانا سید حیدر عباس زیدی نے  کی۔

عاشق حسین میر  کی تلاوت قرآن کریم سے کانفرنس کا آغاز  ہوا۔ جنت البقیع کے سلسلے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی اور آیت اللہ العظمی شیخ صافی گلپائیگانی قدس سرہ کے بیان کی کلپ چلائی گئی۔البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہماری آرگنائزیشن نے بقیع کے سلسلے میں اپنی آواز اقوام متحدہ تک پہنچائی ہے، اقوام متحدہ کی وبسائٹ پر بقیع کی تعمیر کے سلسلے میں ہمارے مطالبات موجود ہیں۔انہوں نے پوری دنیا میں جنت البقیع کی تعمیر کے سلسلے میں عالمی مہم چلانے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ مومنین کے لیے ضروری ہے کہ جنت البقیع کے سلسلے میں مجلس، احتجاج، کانفرنس اور مختلف تحریکیں چلائیں اور اہلبیت علیہم السّلام کی مظلومیت کو دنیا کو بتائیں، اور آئمہ بقیع کے کارناموں کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور ان ذوات مقدسہ کا تعارف کرائیں، اس طرح کی کانفرنس منعقد ہونا ضروری ہے تا کہ بقیع کا پیغام پہنچ سکے۔اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ شیخ باقر مقدسی نے جنت البقیع کی اہمیت، یہودیت اور وہابیت کے درمیان اشتراکات اور جنت البقیع کی تاریخ کو تذکرہ کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت البقیع کی بنیاد اپنی حیات طیبہ میں مسلمانوں کے قبرستان کے طور رکھی تھی۔

ایران کے شہرت یافتہ خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر ناصر رفیعی نے  بھی کانفرنس سےخطاب  کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو سال پہلے جب آل سعود نے جنت البقیع کو مسمار کیا تھا تو پندرہ مفتیوں نے جنت قبور پاک کو مسمار کرنے کا فتویٰ صادر کیا تھا۔ شیعہ علماء نے اس کے جواب میں کتابیں لکھیں، وہابیت اس وقت قدیمی اور ماڈرن دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے، اس وقت وہابیت ماڈرن وہابیت ہے جو صرف پیسوں کے بل پر چل رہی ہے، عقائد کے بل پر نہیں۔انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اس طرح کے کانفرنس منعقد کر کے آئندہ نسل تک اس پیغام کو پہنچائیں کہ جنت البقیع میں ائمہ معصومین علیہم السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبور کو کس نے مسمار کیا تھا۔

اس کانفرنس کے آخری خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین سید احتشام عباس زیدی نے کہا: عالم اسلام میں جہالت سب سے بڑا مرض ہے، داعش، طالبان، بوکوحرام وغیرہ جیسے دہشت گرد عناصر جہالت اور وہابیت کے پروردہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم صرف جنت البقیع کے سلسلے میں آواز اٹھاتے تو شاید ہماری آواز میں اتنی طاقت نہ ہوتی اور دب جاتی، لیکن امام خمینیؒ نے یہودیت اور وہابیت کے خلاف آواز اٹھائی ، اسی طرح اسرائیل کے خلاف ایران کے حملوں میں سعودی عرب کا اسرائیل کی حمایت میں کردار ادا کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آل سعود ہرگز مسلمان نہیں ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید حیدر عباس زیدی نے آل سعود کے پانچ بڑے مظالم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاانہیں عالم اسلام کبھی فراموش نہیں کر سکتا، 1. انہدام جنت البقیع 2. انہدام زادگاہ پیغمبر (ص) 3. انہدام خانہ حضرت خدیجہ (س) 4. اس گھر کا منہدم کرنا جس میں حضرت علی علیہ السلام پلے بڑھے، 5. اس کتاب خانہ کا منہدم کرنا جس میں 60 ہزار سے زائد نادر کتابیں موجود تھیں تاکہ حقائق لوگوں تک نہ پہنچ سکیں۔

اس کانفرنس کا اختتام جنت البقیع کی تعمیر کے سلسلے میں دعائیہ کلمات پر ہوا۔کانفرنس میں طلاب ہندوستان کی بعض انجمنوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تعاون کرنے والی انجمنوں میں انجمن محبان آل یاسینؑ، انڈین اسلامک اسٹوڈنٹس یونین، الامام الحسین (ع) ٹرسٹ، مرکز افکار اسلامی کے نام قابل ذکر ہیں۔

Related posts

ایران کی المصطفیٰ یونیورسٹی اور دہلی یو نیورسٹی کےدرمیان معاہدہ

qaumikhabrein

رومانیہ میں تابکاری مخالف آئوڈین گولیاں لینے کا حکم

qaumikhabrein

پریس کی آزادی کے معاملے میں ہندستان150ویں مقام پر لیکن نفرت پھیلانے میں اول

qaumikhabrein

Leave a Comment