qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

  یہ جبر اور  اختیار کی جنگ ہے۔ سراج نقوی

    2024   کے پارلیمانی انتخابات کے دو مرحلے گزر چکے ہیں۔ان دو مرحلوں کی پولنگ سے جو اشارے مل رہے ہیں وہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کے لیے اطمیان بخش نہیں ہیں،بلکہ اس کے برعکس پریشان کن ہیں۔لیکن اسے کیا کہیے کہ وزیر اعظم مودی اور ان کی پارٹی اب بھی ووٹوں کی طاقت کے مقابلے میں اقتدار کی طاقت اور جبر کو ہتھیار بنا کر الیکشن جیتنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

مودی سرکار نے جمہوریت کے ذریعہ ملی اقتدار کی طاقت کو کس طرح جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اس پر اگر تفصیلی گفتگو کی جائے تو ایک مضمون  نہیں بلکہ کئی زخیم کتابوں میں بھی اس موضوع کو سمیٹنا مشکل ہوگا،لیکن رواں انتخابی عمل کے دوران ہندوتو کے لیباریٹری گجرات کے سورت پارلیمانی حلقے سے ایک ایسی خبر سامنے  آئی ہے کہ جس نے واضح کر دیا ہے کہ مودی اور بی جے پی کی  طاقت اب عوامی حمایت نہیں رہ گئی ہے،بلکہ حکومت سے عوام کی جمہوری ناراضگی کو جبر کے سہارے رضامندی میں بدلنے کی بزدلانہ کوششیں ہو رہی ہیں۔

آمریت اگر جمہوریت کا لباس پہن کر اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنے لگے اور یہ  سب ہندوستان جیسی دنیا کی بڑی جمہوریت میں ہو رہا  ہوتو پھر ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنی تمام تر طاقت اور صلاحیت کے ساتھ ایسی آمریت کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور اختیار یعنی جمہوریت کو جبر یعنی آمریت میں بدلنے کی کوشش کرنے والوں کے نیچے سے مسند اقتدار کھینچ کر انھیں  ان کی اوقات بتا دے۔اختیار کو جبر کا یرغمال بنانے والوں کے خلاف ایسا کرنا ضروری ہے،اس لیے کہ یہ الیکشن صرف  دو یا کئی سیاسی پارٹیوں کے درمیان جمہوری طور طریقوں سے کسی ایک پارٹی کو اقتدار کے لیے  منتخب کرنے کا عمل نہیں ہے،بلکہ حکمراں جماعت کی کارگزاریوں کے سبب یہ جبر اور اختیار کے درمیان ایک جنگ کی شکل لے چکا ہے۔میں یہاں کسی سیاسی پارٹی کے ذریعہ انصاف دلانے کے وعدوں کا ذکر نہیں کرونگا اس لیے کہ نہ توانتخابی ضابطہ اخلاق اس کی اجازت دیتا ہے،اور نہ ایک غیر جانبدار صحافی کو انتخابی عمل کے دوران ایسا کرنا چاہیے۔لیکن حکمراں جماعت بی جے پی کے ہی زیر اقتدار ریاست گجرات کے سورت پارلیمانی حلقے میں جس طرح بی جے پی امیدوار کو بغیر انتخابی عمل مکمل ہوئے فاتح قرار دے دیا گیا اسے جمہوریت کو آمریت میں بدلنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔یہ بات صرف اس لیے باعث تشویش نہیں ہے کہ سورت کے ضلع کلکٹر نے بطور ریٹرننگ افیسر بی جے پی امیدوار کو کس طرح اور کس قانون کے تحت فاتح قرار دے دیا،بلکہ اس پورے معاملے میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ونود تاوڑے نے جو بیان دیاہے  وہ بی جے پی اور گجرات میں حکومت کے کارندوں کی جانبدار ی کی پول کھلتا ہے۔

بی جے پی امیدوار کو جیت کا سرٹی فکیٹ بھی دیدیا گیا

ونود تاوڑے نے گزشتہ منگل یعنی23اپریل کو میڈیا سے بات چیت میں یہ اعتراف کیا کہ بی جے پی نے سورت میں آزاد امیدواروں سے اپنا نام واپس لینے کے لیے کہا تھا۔اس کے بعد ہی بی جے پی کے سورت سے لوک سبھا امیدوار مکیش دلال کو بلا مقابلہ منتخب مان کر انھیں فاتح کا سرٹیفیکیٹ دے دیا گیا۔دراصل بی جے پی امیدوار کے فاتح قرار پانے پر ایک صحافی نے تاوڑے سے سوال کیا تھا کہ،”کیا بی جے پی سیاسی سطح پر اتنا گر گئی ہے؟“ اس پر تاوڑے کا جواب تھا کہ،”ہم نے آزاد امیدواروں سے اپنے پرچہ  نامزدگی واپس لینے کی گزارش کی تھی اور انھوں نے نام واپس لے لیے، اس میں سیاسی سطح کی گراوٹ جیسی کیا بات ہے؟“تاوڑے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا بی جے پی نے امیدواروں سے نام واپس لینے کے لیے رابطہ قائم کیا تھا،تو ان کا جواب تھا کہ وہ تمام امیدواروں سے ان کے پرچہ   نامزدگی داخل کرنے سے قبل ہی نام واپس لینے کے لیے رابطہ کر رہے تھے۔ تاوڑے کا یہ بیان دراصل بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا سیاہ سچ سامنے رکھتا ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ پارٹی کس طرح اپنی فتح کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مخالفین پر دباؤ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،اور جمہوری اقدار کا خون کیا جا رہا ہے۔

جس طرح الیکشن کمیشن مودی کے مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان  سمیت دیگر معاملات میں حکمراں جماعت کے سامنے سرنگوں نظر آتا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ امید کرنا لا حاصل ہی ہے کہ سورت کے معاملے میں وہ کوئی ایسی کارروائی کریگا کہ جس سے اس حلقے کے ووٹروں کو ووٹ دالنے کا وہ حق واپس مل سکے کہ جو بی جے پی نے ان سے بالواسطہ طور پر چھین لیا ہے۔ہر چند کہ بلامقابلہ انتخاب کے واقعات اس سے پہلے بھی ہوئے ہیں،لیکن زیر بحث معاملے میں واقعات کا تسلسل یا کانگریس کے جے رام رمیش کی زبان میں کہیں تو ”کرونولوجی“ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا  اور اس میں جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔اس معاملے پر کانگریس کی طرف سے اپنے رد عمل میں جو ”کرونولوجی“ یا سازش کے نکات جے رام رمیش نے پیش کیے ہیں،ان کے مطابق پہلے سورت کے ضلع مجسٹریٹ اور ریٹرننگ آفیسرنے کانگریس کے  امیدوار نیلیش کمبھانی کا پرچہ نامزدگی اس بنا پر رد کیا کہ مبینہ طور پر اس میں دیے گئے ”تین تجویز کنندگان کے دستخط تصدیق میں غلط پائے گئے ہیں۔“ کانگریس کی طرف سے متبادل امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے سریش پڈسالا  کا پرچہ نامزدگی بھی اسی طرح  کے بہانوں سے خارج کر دیا گیا۔ظاہر ہے اب میدان میں صرف آزاد امیدوار رہ گئے تھے۔خطرہ یہ تھا کہ اگر ان میں سے کسی امیدوار کی کانگریس نے حمایت کر دی تو بازی پلٹ سکتی ہے اور جمہوریت کو اغوا کرنے کا جو کھیل شروع کیا گیا ہے اس میں بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑ سکتی ہے۔اس لیے آزاد امیدواروں سے پرچہ نامزدگی واپس لینے کی ”درخواست“کی گئی۔اب یہ بات قارئین خود طے کر سکتے ہیں کہ بی جے پی کے درخواست کرنے کا مطلب جبر ہوتاہے،روپئے دیکر منھ بند کرنے کی کوشش ہوتا ہے یا پھر مختلف طریقوں سے اپنے مخالفین کو قانون کے پھندے میں پھنسانا ہوتا ہے۔بہرحال اس مبینہ درخواست کے بعد کس میں اتنی جرات تھی کہ بی جے پی امیدوار کے خلاف الیکشن لڑنے کا حوصلہ دکھاتا؟نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی امیدوار کو ریٹرننگ آفیسر نے بلا مقابلہ فاتح قرار دے دیا اور اس طرح اختیار کو جبر کے سہارے چھین لینے کی کوشش کامیاب پو گئی۔

کانگریس امیدوار کا پرچہ نامزدگی رد کردیا گیا

مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ بی جے پی کا ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گیا،بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس بلا  مقابلہ انتخاب کے لیے جن طریقوں کا سہارالیا گیا وہ آئین اور قانون کی رو سے کس حد تک درست ہیں؟ کیا قانون کسی کو بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد کوئی پارٹی کسی دوسری پارٹی یا کسی آزاد امیدوار سے یہ درخواست کرے کہ  وہ اپنا پرچہ  نامزدگی واپس لے لے؟بھلے ہی اس میں جبر کا شائبہ تک نہ ہو،اور زیر نظر معاملے میں تو جبر کا شائبہ نہیں بلکہ بڑی حد تک حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنی ”درخواست“ کو یقینی بنانے کے لیے بی جے پی نے کیا ہتھکنڈے اپنائے ہونگے۔کیا کانگریس کے اصل اور متبادل امیدوار کے پرچہ نامزدگی کا رد ہو جانا محض اتفاق ہو سکتاہے، اور وہ بھی گجرات جیسی ریاست میں کہ جہاں بی جے پی کی کاگزاریاں  پورے ملک کے سامنے ہیں؟کیا بی جے پی نے جن آزاد امیدواروں سے پرچہ نامزدگی واپس لینے کی درخواست کی ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ جس نے اس ”درخواست“ کو ٹھکرانے کا حوصلہ دکھایاہوگا؟ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر مان لیجیے کہ بی جے پی ہماری جمہوریت کو اپنے جبر اور اقتدار کی طاقت پر یرغمال بنانا چاہتی ہے،بی جے پی چاہتی ہے کہ جمہوریت میں عام شہریوں کو حاصل اختیارات یا حقوق کوکسی نہ کسی طرح غصب کر لیا جائے اور اس طرح اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا جائے۔ اسی لیے ان انتخابات کو ’جبر اور اختیار کی جنگ‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

naqvisiraj58@gmail.com       Mobile:9811602330  

Related posts

یوکرین تنازعہ ۔ ترکی نے جنگی جہازوں کیلئے اہم سمندری گزرگاہوں کو بند کردیا

qaumikhabrein

امروہا میں لوک سبھا چناؤ ۔ مقابلہ سہ رخی ہے۔

qaumikhabrein

حجاب کے مسئلے پر ہائی کورٹ کا فیصلہ مایوس کن….علمائے البلاغ

qaumikhabrein

Leave a Comment