qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

حسین الحق کا فکشن انسانی اقدار کی بحالی کا خواہاں:مقررین

حسین الحق نے ہمیشہ اپنے فکشن میں انسانی اقدار کی بحالی پر زور دیا۔وہ اقدار کو مذہب سے نہیں جوڑتے تھے بلکہ اسے انسانی اقدار کا اہم حصہ تسلیم کرتے تھے۔ان خیالات کا اظہار ”انسانی اقدار اور حسین الحق کا فکشن“ کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبنار میں ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ پروفیسر عبدالصمد نے کیا۔ ویبنار کا اہتمام معروف فکشن نگاراور دائرہ شاہ حضرت وصی الحق کے سابق سجادہ نشین پروفیسر حسین الحق کے یوم وفات کی مناسبت سے مولانا انوار ؒ الحق اردو لائبریری، گیابہار کے ذریعے کیا گیا تھا۔ آن لائن پروگرام میں متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ 

پروگرام کی صدارت مرزا غالب کالج،گیابہارکے سابق صدر شعبہ انگریزی پروفیسر عین تابش نے کی جب کہ کلیدی خطبہ معروف ناقد اور افسانہ نگار پروفیسر صغیر افراہیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے پیش کیا۔مہمان خصوصی کے طور پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر عبدالصمد نے حسین الحق کے حوالے سے پر مغز گفتگو کی۔پروگرام کا باضابطہ آغاز حسین الحق کے بڑے فرزند شارع علی حق نے کیا جب کہ شافع انوار الحق نے پروفیسر حسین الحق کی شخصیت کے تعلق سے تعارفی کلمات پیش کیے۔

پروفیسر عبدالصمدنے کہاکہ اپنے ہم عصروں میں حسین الحق کئی جہتوں سے ممتاز تھے، وہ صرف افسانہ نگار نہیں تھے بلکہ ناول نگار،شاعر، تنقید نگار اور تجزیہ نگار بھی تھے۔ اپنے مذہب اور مسلک کے حوالے سے بھی کئی ان کی گراں قدر تحریریں موجود ہیں۔ ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اردو ادب میں پوری طرح چھائے ہوئے تھے۔ وہ اکثر اپنے ذریعہ کھینچی گئی لکیروں سے بھی باہر نکلنے کی کوشش کرتے تھے۔ اہم خصوصیت ان کی سلیس اور عام فہم زبان ہے، اسے دیکھ کر ان کے ہم جیسے ہم عصروں کو رشک آتا تھا۔

پروفیسر صغیر افراہیم نے کہاکہ دراصل حسین الحق خانقاہی تھے اور جو خانقاہی مزاج ہے وہاں کوئی تمیزو تخصیص نہیں ہوتی، نہ کسی مذہب کی، نہ ہی کسی مسلک کی، وہاں سب انسان برابر ہیں۔ویبنار میں صحافی اور سماجی کارکن ٹی ایم ضیاء، نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگار ڈاکٹر نورین علی حق، پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر انجم پروین اور ایمن نشاط نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروفیسر عین تابش نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ مقررین کی گفتگو نے مجموعی طور پرپروفیسر حسین الحق کی شخصیت کے کمالات کوبحیثیت فکشن نگار، بحیثیت صوفی، بحیثیت نثر نگار اور بحیثیت انسان نمایاں کیا ہے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹرسید عینین علی حق،دہلی نے انجام دیے۔ شرکاء میں پروفیسر حسین الحق کی اہلیہ محترمہ نشاط اسرار،ونوبا بھاوے یونیورسٹی،ہزاری باغ جھارکھنڈ کے استاذ اور سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر زین رامش،سید اختر،(سابق پرنسپل گیا ہائی اسکول)،محمد امان الحق،(سابق ایئرفورس)،  مرزا غالب کالج میں کامرس کے استاذپرویز وہاب، ایما حسین، علی عدنان، انکت، مشکور عالم،شعار نازش، شعور نازش کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی آن لائن پروگرام میں شامل ہوئے۔

Related posts

ادیبہ اور محققہ کشور جہاں زیدی کو اعزاز سے نوازہ گیا۔

qaumikhabrein

امروہا۔جشن ولادت امام زمانہ۔

qaumikhabrein

ٹھگی کے نئے طریقے سے ہوشیار۔

qaumikhabrein

Leave a Comment