qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ 48 گھنٹوں کے اندر ممکن

ایرانی جوہری معاہدے کو رواں ہفتے کے اوائل میں حتمی شکل دی جا سکتی ہے کیونکہ تیل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مغرب کو روس کے علاوہ دیگر ممالک کی جانب رجوع پر مجبور کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اخبار انڈیپنڈنٹ نے ہفتے کے روز عالمی معاہدے کے مذاکرات میں شریک ایک سینئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ 48 گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے۔

دیگر رپورٹس میں کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی گئی لیکن دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی جلد از جلد معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
دی انڈیپنڈنٹ نے مزید کہا کہ پہلی بار 2005 میں طے پانے والے معاہدے کی بحالی سے ایران پر پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو جائے گی جس سے وہ مغربی ممالک کو تیل کی برآمدات میں اضافہ کر سکے گا کیونکہ اس وقت اکثر ممالک توانائی کی فراہمی کے حوالے سے روس پر انحصار کو روکنا چاہتے ہیں۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار علی باقری کانی

ویانا میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سہولت کار کے طور پر کام کرنے والے آئرش وزیر خارجہ سائمن کووینی نے ایک اور برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ معاہدے کے لیے مثبت اشارے ملے ہیں۔
سائمن کووینی نے بتایا کہ ہم ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، درحقیقت کچھ لوگ کہیں گے کہ اس ہفتے کے آخر میں یا اس کے فوراً بعد ڈیل کے امکانات موجود ہیں۔

آئرش وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روس کے علاوہ دوسرے آپشنز کی تلاش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ایرانی خام تیل کی مارکیٹ میں واپسی کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتوں پر دباؤ کو کم کرنے کے حوالے سے ایک بہت پرکشش امکان ہو گا۔
ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این بی سی ک کہنا ہے کہ امریکا روسی تیل کی درآمدات ختم اور یورپی یونین ماسکو پر توانائی کے انحصار کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے لہٰذا ایرانی خام تیل مزید بہتر آپشن نظر آرہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015 کے معاہدے کی بحالی کے نتیجے میں ایرانی تیل کی مارکیٹ میں واپسی ایک ایسے وقت میں ہوگی جب خام تیل کی قیمت ایک دہائی سے زائد عرصے میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

جوہری معاہدے میں شامل ممالک ویانا میں ایک معاہدے کے قریب تھے تاہم امریکا اور یورپی یونین نے 14 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے کے سبب روس پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
اس کے بعد روس نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مستقبل کی تجارت مغربی پابندیوں سے متاثر نہیں ہونی چاہیے جس کی وجہ سے گزشتہ ہفتے مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔
اپنے حالیہ بیانات میں ایرانی حکام نے عندیا دیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے امریکا پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے ہٹائے۔

Related posts

جادو سے بچنے کے لئے شاہ ولایت کی پناہ میں عقیدت مند

qaumikhabrein

ایک نکاح ایسا بھی

qaumikhabrein

مہاراشٹر۔رواں تعلیمی سال میں 30 ہزار نئے اساتذہ اسکولوں میں ہونگے

qaumikhabrein

Leave a Comment