امریکہ ایران کے تعلق سے ایک بڑا فیصلہ لینے کی تیاری کررہا ہے اور اسرائیل امریکہ کو اس فیصلے سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے ہٹانے کی تیاری کررہا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اسی سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک دستے کے کمانڈر تھے جنہیں بغداد میں ایک ڈرون حملے میں امریکہ نے شہید کردیا تھا۔
اسرائیل کو جب سے امریکہ کے ا س ممکنہ فیصلے کی بھنک لگی ہے اسکی راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔اس سلسلے میں اسرائیلی اخبارات بھی امریکی انتظامیہ کو اس فصلے کے خطرناک نتاٗئج کے بارے میں انتباہ دے رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے اشارے دئے جارہے ہیں کہ ایران کے ساتھ 2015 کے نیو کلیائی معاہدے میں امریکہ کی واپسی کاوقت آگیا ہے۔اسرائیلی حکام اس فکر میں دبلے ہوئے جارہے ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ صلح کی سمت بڑھ رہا ہے۔
جبکہ ایران کردستان میں موساد کے تربیتی مرکز پر حملہ کرکے اپنے عزائم واضح کرچکا ہے۔ اپریل 2019 میں امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نےپاسدران انقلاب کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جسکے جواب میں ایران نے امریکی فوج کی سینٹڑل کمانڈ کو دہشت گرد قراردیدیا تھا۔