qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

بائیڈن کو لے ڈوبے گی اسرائیل کی اندھی حمایت۔ سراج نقوی

 اسرائیل کے ذریعہ غزہ میں فلسطینی بچوں اور خواتین کے قتل عام کی خاموش حمایت کے مجر م  امریکی صدر بائیڈن کو اس حمایت کی قیمت مختلف شکلوں میں چکانی پڑ رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے ہی یہ خبر آئی تھی کہ بائیڈن امریکہ کے صدارتی الیکشن میں کمزور پڑ رہے ہیں اور ان کی حمایت اسرائیل حماس جنگ میں امریکہ کی پالیسی کے سبب مسلسل کم ہورہی ہے۔امریکہ کے کئی اعلیٰ افسران  بھی بائیڈن کی اس پالیسی سے نالاں ہیں،او ر  اب خبر ہے کہ امریکہ کے محکمہ تعلیم کے ایک سینئیر افسر نے بائیڈن کی  اسرائیل پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

خبر کے مطابق امریکہ کے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسر طارق حبش نے ایجوکیشن سکریٹری کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ،وہ بائیڈن انتطامیہ کے ذریعہ فلسطین کے بے گناہوں کے قتل عام پر چشم پوشی اختیار کرنے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔موصوف نے اپنے خط میں اسرائیل کی غزہ میں کارروائی کو حقوق انسانی کے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے ’نسل کشی‘ بھی قرار دیا۔اس سے چند روز قبل ہی بائیڈن  کی  انتخابی مہم کے 17ملازمین نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر صدر کو خط لکھ کر متنبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے قدم اٹھائیں۔

طارق حبش

جبکہ دوسری طرف امریکہ یا بائیڈن کی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ  جنوبی افریقہ کے ذریعہ اسرائیل کا معاملہ بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس میں لے جانے اور غزہ میں اسرائیل کی کارروائی کو نسل کشی قرار دینے پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان میتھیو ملر نے صاف طور پر اس بات سے انکار کیا کہ اسرائیل کی غزہ میں کی جانے والی کارروائیاں نسل کشی ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنگ شروع ہونے کے کچھ دن بعد ہی اسی محکمے کے ایک اعلیٰ افسر جوش پال نے بائیڈن کی پالیسی کو ”اندھی حمایت“  قرار دیتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔گزشتہ برس ہی اکتوبر کے آخری ہفتے میں پال نے بائیڈن کے ذریعہ اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی پر سخت ناراضگی بھی ظاہر کی تھی۔گزشتہ برس نومبر کے وسط میں بائیڈن انتظامیہ کے تقریباً400ملازمین نے بھی صدر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو فوری جنگ بندی پر آمادہ کریں اسرائیل کے ذریعہ منمانے ڈھنگ سے حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔گزشتہ بدھ کو ہی بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل کے ذریعہ بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھے گئے فلسطینیوں کے تعلق سے بتایا گیا ہے۔حالانکہ بی بی سی اس جنگ میں بڑی حد تک اسرائیل کی ہی بالواسطہ حمایت کرتا رہا ہے،لیکن  اس کے باوجود اس نے غیر قانونی حراست کے تعلق سے جو کچھ اپنی رپورٹ میں بتایا ہے وہ اسرائیلی مظالم کا ایک اور ثبوت ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود  امریکہ اور صدر بائیڈن کی اسرائیل کو جاری حمایت فلسطینیوں کی نسل کشی کے معاملے میں امریکہ کی غیر انسانی پالیسیوں کی پول کھولتی ہے۔مختلف ذرائع سے سا منے آنے والی رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی کارروائیوں کے تعلق سے بائیڈن کے رویے سے امریکی عوام میں بھی ناراضگی بڑھ رہی ہے اور حکومت کے خلاف سرکاری و غیر سرکاری افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بے شمار احتجاجی مراسلے اور میمورنڈم بائیڈن کو لکھے جا چکے ہیں۔بہت سے خطوط میں تو بائیڈن سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ذریعہ جاری نسل کشی کو رووکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا کر سختی کریں۔

یعنی اگر اسرائیل عالمی برادری کے دباؤ اور بائیڈن کی اپیلوں کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لے رہا ہے تو اس کے خلاف سخت اقدامات سے بھی گریز نہ کیا جائے۔دراصل معاملہ یہی ہے کہ امریکہ یا مغربی ممالک نے اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کو اس حد تک سر چڑھا لیا ہے کہ اس پر اپیلوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔اس صورتحال کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے پڑوسی مسلم ممالک بھی ذمہ دار ہیں جنھوں نے اپنے محدود مفادات کے لیے فلسطینیوں کے جائز حقوق کے تعلق سے مسلسل چشم پوشی اختیار کی، اور امریکہ و مغربی ممالک سے اس حد تک مرعوب رہے کہ اسرائیل سے مسلسل شکست کے باوجود بھی اس کے خلاف متحد نہیں ہو سکے۔نتیجہ یہ ہے کہ مٹھی بھر صہیونیوں نے مبینہ عالم اسلام کے عزت و وقار کی بار بار دھجیاں اڑائیں اور مغربی ممالک اپنی دیرینہ اسلام دشمنی کے سبب اس پر خوش ہوتے رہے۔امریکہ بھی ان ممالک میں شامل ہے،لیکن امریکہ کی اسرائیل کو جاری غیر مشروط حمایتکا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسرائیل نے،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ صہیونی ایجنٹوں نے منصوبہ بند طریقے سے امریکی معیشت کو اپنی دولت اور کاروباری پالیسیوں کے ذریعہ اس حد تک مٹھی میں لے لیا کہ آج امریکہ میں ڈیموکریٹس کی حکومت ہو یا ریپبلکنس کی دونوں میں سے کوئی بھی صہیونی دولت کے بغیر انتخاب لڑنے کا تصور نہیں کر سکتی۔

اسرائیلی حملوں سے غزہ میں تباہی

امریکہ کے تجارتی ادارے اور تمام بڑی کمپنیاں صہیونی  مقاصد کو کامیاب بنانے کے لیے امریکہ میں بیٹھ کر اسرائیل کی ہر طرح مدد کرتی ہیں۔امریکہ کی دفاعی پالیسیوں اور ہتھیاروں کی تجارت میں بھی اسرائیل کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔یہی سبب ہے کہ جب غزہ پر بھیانک بمباری کے بعد اسرائیل کے پاس بموں کا ذخیرہ کم ہونے لگا تو امریکن کانگریس نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کو بڑی مقدار میں گولے اور دیگر اسلحہ کی سپلائی کی منظوری دی۔حالانکہ غزہ میں جو حالات ہیں انھیں دیکھتے ہوئے نہ صرف اس سے بچا جانا چاہیے تھا بلکہ عوام اور بے شمار سرکاری افسران کے مطالبوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل کو فوری جنگ بندی کے لیے مجبور بھی کیا جانا چاہیے تھا،لیکن ایسااس لیے نہیں ہو سکا کہ بقول علامہ اقبالؔ”فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے۔“ اور یہ اس لیے کہ صہیونی عناصر اپنی کم آبادی کے باوجود اپنی دولت کے سہارے امریکی معیشت پر قابض ہیں۔امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن بھی اسی لیے پنجہ یہود کی گرفت میں ہیں کہ صہوینی دولت سے ہی امریکہ پوری دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود حماس اور اسرائیل کی موجودہ جنگ میں ایسے بہت سے حقائق ہیں کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے پریشانیاں بڑھانے والے ہیں۔کئی دہائیوں سے امریکہ اور مغرب کی طفل تسلیوں پر بہلائے جانے والے مظلوم فلسطینیوں نے اس مرتبہ اسرائیل کے خلاف جس سخت ترین مزاحمت کا  آغاز کیا ہے،اسے دبانے میں ناکام ہونے کے سبب اسرائیل نے فلسطینیوں کی جس طرح نسل کشی شروع کی ہے اس نے دنیا کے ہر دردمند انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ان میں یہودی اور عیسائیوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔وہائٹ ہاؤس کے سامنے ہونے مظاہرے اور مسلم ممالک سے بھی کہیں بڑے پیمانے پر مغربی ممالک میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ظاہر ہے اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر امریکہ پر اس لیے پڑ رہا ہے کہ اب کھلے طور پر صرف امریکہ ہی اسرائیل کے ساتھ کھڑ انظر آتا ہے۔باقی مغربی دنیا نے اس معاملے میں منافقت کی چادر اوڑھ کر خامشی اختیار کر لی ہے۔شائد یہ ممالک اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں اسرائیل کی بیجا حمایت ان کے لیے جی کا جنجال نہ بن جائے۔لیکن بائیڈن ابھی تک اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی انتخابی مہم کے تعلق سے آنے والے سروے بتا رہے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا گراف گر رہاہے۔ انتظامیہ میں ان کے مخالف عناصر کی تعداد بڑھ رہی ہے۔اور اگر یہ حالات  امریکہ کے آئیندہ صدارتی انتخابات تک جاری رہتے ہیں تو اس کا خمیازہ نہ صرف بائیدن بلکہ ان کی پارٹی کو بھی شکست کی صورت میں اٹھانا پڑ سکتا ہے۔اس لیے کہ امریکہ میں بہرحال’اندھ بھکت‘ نہیں پائے جاتے۔

sirajnaqvi08@gmail.com     Mobile:9811602330  

Related posts

سعودی عرب میں معین برطانوی سفارتکار مشرف بہ اسلام۔

qaumikhabrein

یونیورسٹی آف کشمیر میں منایا گیا یوم عالمی تھیٹر

qaumikhabrein

کشمیر میں جاری ہے نوروز کا جشن

qaumikhabrein

Leave a Comment