qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

بنتے بگڑتے محاذوں کی سیاست۔۔۔تحریر۔سراج نقوی

اتر پردیش میں اسمبلی الیکشن کے دن قریب آنے کے ساتھ ہی نئے محاذ اور انتخابی مفاہمت کا سلسلہ زور پکڑنے لگا ہے۔اسی کے ساتھ تقریباً تمام پارٹیوں میں نئے چہروں کے آنے اور جانے میں بھی اچانک تیزی آگئی ہے۔سماجوادی پارٹی کے اکھیلیش یادو نے نہ صرف بی ایس پی اور کانگریس جیسی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو اپنے ساتھ لانے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ حکمراں بی جے پی کے کئی لیڈر بھی اپنے سیاسی مفادات دیکھتے ہوئے یا بی جے پی کی ریاستی قیادت سے ناراضگی کے سبب سماجوادی پارٹی کا دامن تھام چکے ہیں۔چند روز قبل بی جے پی نے اتر پردیش میں اچانک جس طرح اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا اعلان کیا اس سے تمام اپوزیشن پارٹیاں چراغ پا تو ہوئیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی امیدوار کی جیت کے باوجود جو نتائج سامنے آئے وہ بی جے پی کے لئےباعث تشویش بنے ہوئے ہیں۔یہ الگ بات کہ حکمراں جماعت اپنی جیت سے اپنی فکرمندی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں بی جے پی نے سماجوادی کے سابق رکن اسمبلی نریش اگروال کے بیٹے اور فی الحال ہردوئی سے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر آئے باغی نتن اگروال کو امیدوار بنا کے سماجوادی پارٹی کو جھٹکا دینے کی کوشش کی تھی۔اس کوشش میں ظاہری طور پر وہ کامیاب بھی ہو گئی،لیکن بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار کے حق میں پڑے ووٹوں نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ اگر بی جے پی سماج وادی پارٹی میں بغاوت پھیلانے میں اپنے اقتدار کے بل پر کامیاب ہوئی ہے تو سماجوادی پارٹی بھی کراس ووٹنگ میں بی جے پی کے کچھ امیدواروں کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔یہ الگ بات کہ اس کے باوجود د بی جے پی حمایت یافتہ نتین اگروال نے بڑے فرق سے ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن جیتا۔اس کے باوجود سماجوادی پارٹی کے امیدوار کو اپنی پارٹی اور بی ایس پی کے باغی امیدواروں کے مجموعی ووٹ سے زیادہ ووٹ ملنا سماجوادی پارٹی کے لیے امید جگانے والا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ سماجوادی پارٹی کے 49ممبران اسمبلی میں خود نتن اگروال اورشیوپال یادو اور ایک اور ممبر اسمبلی شامل ہیں۔یعنی سماجوادی پارٹی کے پاس درحقیقت صرف 46ووٹ ہی تھے۔ان میں بی ایس پی کے ان آٹھ باغی امیدواروں کو بھی جوڑ لیں کہ جنھوں نے سماجوادی پارٹی کے تئیں اپنی وفاداری کا اعلان کیا ہے توبھی سماجوادی پارٹی کو صرف 54ووٹ ہی ملنے چاہئیں تھے۔لیکن اس نے ۰۶ ووٹ حاصل کیے۔یہ قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کو جو چھ ووٹ زیادہ ملے ان میں حکمراں محاذ کی حلیف اپنا دل اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی بھی شامل ہیں۔اس لیے کہ ان کی حمایت کے بغیر سماجوادی پارٹی کو اتنے ووٹ ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔دوسری طرف بی جے پی کے خیمے میں اپنے، حلیف پارٹیوں اوردیگر کئی پارٹیوں کے باغیوں کے ووٹ بھی جوڑ دیں تو اسے 321کے قریب ووٹ ملنے چاہئیں تھے،لیکن اسے صرف 304 ووٹ ہی ملے۔

ظاہر ہے حکمراں جماعت اپنے اقتدار کے باوجود اپنے تمام حامیوں کے ووٹ حاصل نہیں کر سکی۔سماجوادی پارٹی نے ایک اور محاذ پر حکمراں جماعت کو شکست دے دی ہے۔
گذشتہ کچھ عرصے سے میڈیا میں خبر گشت کر رہی تھی کہ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے صدر اوم پرکاش راج بھر ایک مرتبہ پھر بی جے پی کا دامن تھام سکتے ہیں۔راج بھر نے یوگی کابینہ سے برخواست کیے جانے کے بعد بی جے پی سے الگ راہ اختیار کر لی تھی اور کچھ عرصہ پہلے مجلس اتحادالمسلمین سمیت دیگر کئی پارٹیوں کو ملا کر ”بھاگی داری سنکلپ مورچہ“ بنایا تھا۔لیکن چند روز قبل ہی اچانک انھوں نے اس بات کے اشارے بھی دیے کہ اگر بی جے پی ان کے چند مطالبات تسلیم کر لے تو وہ پھر بی جے پی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔حالانکہ راجبھر کے اس موقف کے خلاف مجلس قیادت نے صاف کر دیا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ راج بھر کا ساتھ نہیں دیگی اور بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ہی میدان میں اتریگی۔لیکن سیاست اور خصوصاً مفاد پرستی کی سیاست میں کون کب کس کا دامن تھام لے اور کسے دھوکا دے جائے یہ کہنا مشکل ہے۔بی جے پی حکمرانوں نے تو وفاداریاں بدلوانے کے معاملے میں نیا ریکارڈ بنایا ہے اور کئی ریاستوں میں اس کی حکومت وفاداری بدلوانے کے کھیل سے ہی قائم ہوئی ہے۔

بہرحال سیاست کے اس بدلتے ہوئے منظر نامے کا تازہ معاملہ راج بھر کا بی جے پی کی طرف جاتے جاتے اچانک سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لینے کا فیصلہ ہے۔
گزشتہ بدھ کو راج بھر نے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کی پارٹی سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیگی۔کل تک بی جے پی سے ہاتھ ملانے کی کوششوں میں لگے راج بھر نے یہ اعلان بھی کیا کہ دونوں پارٹیاں مل کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کا کام کرینگی۔سماجوادی پارٹی نے اس مرتبہ یہ حکمت عمل اختیار کی ہے کہ کسی بڑی سیاسی پارٹی سے اتحاد نہیں کیا ہے لیکن چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش میں لگے ہیں۔راج بھر سے ہاتھ ملانے کے پس پشت بھی یہی حکمت عملی کام کر رہی ہے۔اس لیے کہ راج بھر کی پارٹی آزادانہ طور پر بھلے ہی زیادہ سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہو لیکن دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر وہ انتخابی نتائج میں الٹ پھیر کر سکتی ہے۔خصوصاً پوروانچل کے علاقے کی کئی اسمبلی سیٹوں کے نتائج کو راج بھر کی پارٹی متاثر کر سکتی ہے۔گزشتہ اسمبلی الیکشن میں پوروانچل میں بی جے پی کی زبردست جیت کے پیچھے بھی راج بھر کی پارٹی کا بڑا رول تھا اور اب اس کا فائدہ سماجوادی پارٹی کو ملنے کی امید کی جارہی ہے، لیکن یہ بہرحال واضح نہیں ہے کہ مجلس یا ’بھاگی داری سنکلپ مورچہ میں شامل دیگر پارٹیاں بھی سماجوادی پارٹی کے ساتھ جائینگی یا نہیں۔دوسری طرف شیوپال یادو بھی ابھی تک سماجوادی پارٹی کے ساتھ مفاہمت کے انتظار میں ہیں لیکن ان کے بھتیجے اکھیلیش نے ابھی تک شیوپال کے معاملے میں کوئی مثبت رخ ظاہر نہیں کیا ہے۔اکھیلیش کے رویّے سے سماجوادی پارٹی کے کئی ایسے لیڈر بھی خفا ہیں جو ملائم سنگھ کے دور میں پارٹی میں بہت طاقتور سمجھے جاتے تھے،لیکن اب ان کا حشر بھی بی جے پی کے مارگ درشک منڈل لیڈروں جیسا ہی ہو گیاہے۔ان میں سے کچھ لیڈر اسمبلی الیکشن سے پہلے پارٹی چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پرینکا گاندھی اتر پردیش میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے پچھلے کافی عرصے سے سرگرم عمل ہیں اور دوسری پارٹیوں سے کئی لیڈر کانگریس میں شامل بھی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود کانگریس چھوڑ کر بی جے پی اور سماجوادی پارٹی میں جانے والوں کی تعدا د بھی کافی ہے۔چند روز قبل ہی ریاسٹی کانگریس کے نائب صدرپنکج ملک اور پرینکا گاندھی کی مشاورتی کمیٹی میں شامل ان کے والد ہریندر ملک بھی پارٹی سے الگ ہو گئے۔اس سے قبل للتیش پتی ترپاٹھی بھی کانگریس چھوڑ چکے ہیں۔للتیش بھی پارٹی کے ریاستی نائب صدر تھے۔مغربی اتر پردیش میں راشٹریہ لوک دل کے ساتھ بھی کئی دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے لوگ جڑے ہیں۔

لیکن سب سے زیادہ خراب حال بی ایس پی کا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ مایاوتی کے حوصلے اب عمر کے ساتھ ساتھ پست ہو چکے ہیں اور پارٹی پر ستیش مشرا کا قبضہ ہو گیا ہے۔یہی سبب ہے کہ ریاست کے دلت بھی اب ’بہن جی‘ کے تعلق سے پہلے کی طرح پر جوش نظر نہیں آتے۔دلت ووٹ بی ایس پی کی طرف سے کھسک کر چندر شیکھر آزاد عرف راون کی نئی پارٹی کی طرف جا سکتا ہے لیکن اگر چندر شیکھر کی پارٹی کسی دوسری اپوزیشن پارٹی سے ہاتھ نہیں ملاتی تو اپنے دم پر یا صرف دلت ووٹوں کے سہارے انھیں کسی بڑی کامیابی کی امید نہیں کرنی چاہیے۔بہرحال فی الحال تو تمام پارٹیوں کے لیڈروں کے پارٹی چھورنے اور پارٹی جوائن کرنے کا دور جاری ہے جو الیکشن کا وقت نزدیک آنے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔اس لیے یہ طے کرنا بھی مشکل ہے کہ انتخابی نتائج کس کے حق میں یا کس کے خلاف جائینگے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

اسرائلی جیلوں میں مرنے والے فلسطینی قیدیوں کی لاشیں بھہ ورثا کو نہیں دی جاتیں۔

qaumikhabrein

نائجیریا میں فوج کا پھر امام حسین کے عزاداروں پر حملہ۔متعدد شہید اور زخمی

qaumikhabrein

سلامتی کونسل: طالبان کا انفرا اسٹرکچر ختم کرنے میں پاکستان مدد کرے۔ افغانستان

qaumikhabrein

Leave a Comment