qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اکھیلیش نئے اتحاد بنانے کے لیے کوشاں۔۔۔سراج نقوی

سماجوادی پارٹی کا وہ طبقہ جو الھیلیش اور شیوپال یادو کے متحد ہو کر الیکشن لڑنے کا متمنی تھا اس کے لیے یہ خبر باعث اطمینان ہو سکتی ہے کہ اپنے آبائی گاؤں سیفئی میں دیوالی منانے کے لیے گئے اکھیلیش یادو نے پہلی مرتبہ واضح لفظوں میں کہا ہے کہ وہ اپنے چچا شیوپال یادو کی پارٹی سے اتحاد کرنے کے لیے تیار ہیں اور چچا کو پوری عزّت دینگے۔واضح رہے کہ چند ر وز قبل ہی شیوپال نے میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ اگر سماجوادی پارٹی میں انھیں ان کا جائز حق اور عزت ملے تو وہ اپنی پارٹی کا سماجوادی پارٹی میں نضمام بھی کر سکتے ہیں۔شیوپال یادو کئی مرتبہ سماجوادی پارٹی سے انتخابی اتحاد کی بات کہہ چکے ہیں لیکن اب تک اکھیلیش نے ہی اس معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔شیوپال اور اکھیلیش کے درمیان سیاسی اتحاد کے متمنی وہ لوگ بھی ہیں کہ جو بی جے پی کے خلاف کسی مضبوط اتحاد کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ جہاں تک اتر پردیش کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تعلق ہے تو فی الحال سماجوادی پارٹی اور کانگریس ہی ایسی پارٹیاں ہیں کہ جو انتخابی مہم میں سرگرم نظر آتی ہیں اور بی جے پی کو شکست دینے کے لیے اپنی تمام طاقت جھونکے ہوئے ہیں۔

جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو فی الحال کسی دوسری پارٹی کے ساتھ اس کی انتخابی مفاہمت نہیں ہوئی ہے،لیکن مغربی اتر پردیش خصوصاً جاٹ بیلٹ میں اپنا اچھا اثر رکھنے والی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے بارے میں یہ قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ وہ کانگریس سے کچھ سیٹوں پر تال میل کر سکتی ہے۔حالانکہ آر ایل ڈی کا سماج وادی پارٹی سے بھی اتحاد ہے۔یہ الگ بات کہ ابھی تک ان میں سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ طے نہیں ہوا ہے۔کا نگریس بڑی حد تک ”ایکلا چلو رے“ کی پالیسی پر گامزن نظر آتی ہے،اور باوجود اس حقیقت کے کہ پرینکا فیکٹر کانگریس کو اسمبلی الیکشن میں فائدہ پہنچا سکتا ہے لیکن یہ فیکٹر اس حد تک موثر بہرحال نہیں ہے کہ جس کے سہارے اترپردیش کے اقتدار کو بی جے پی سے چھینا جا سکے۔ جب کہ دوسری طرف سماجوادی پارٹی انتخابی مفاہمت کی جس پالیسی پر گامزن ہے اس کا بڑا فائدہ اسے مل سکتا ہے۔اکھیلیش نے چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کی جس پالیسی پر عمل شروع کیا ہے اسی پالیسی کے سہارے بی جے پی بھی مرکز اور بیشتر ریاستوں میں ایوان اقتدار تک پہنچی ہے۔

اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں اکھیلیش نے بی جے پی کو اس کی اسی حکمت عملی کے سہارے شکست دینے کا منصوبہ بنایا ہے،لیکن اس منصوبے کی کامیابی پر سب سے بڑا سوالیہ نشان شیوپال یادو کے ساتھ سماجوادی پارٹی کا اتحاد نہ ہونا مانا جا رہا تھا۔اس لیے کہ ان دونوں پارٹیوں کا ووٹ بنک ایک ہی ہے۔حالانکہ شیوپال کی پارٹی اپنے دم پر کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،
لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اگر شیوپال سماجوادی پارٹی سے الگ ہو کر الیکشن لڑتے ہیں تو اس کا بڑا نقصان سماجوادی پارٹی کو ہی ہوگا۔شیوپال بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ایسا نہیں چاہتے۔اسی لیے وہ بار بار سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی خواہش کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔جبکہ اکھلیش اپنے چچاکی پیشکش پر اب تک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔لیکن اب دیوالی کے موقع پر اپنے آبائی گاؤں سیفئی میں انھوں نے واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ چاچا کی پارٹی کے ساتھ ان کا سیاسی اتحاد
ہوگا اورچاچا کو پارٹی میں پوری عزّت دی جائیگی۔

دوسری طرف پوروانچل کے ایک اہم لیڈر مختار انصاری کے ساتھ سماجوادی پارٹی کے نئے سیاسی حلیف اوم پرکاش راج بھر کی طویل ملاقات کو بھی سیاسی حلقوں میں کا فی اہمیت دی جا رہی ہے۔یہ الگ بات کہ کچھ سیاسی مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا راج بھر کی مختار انصاری سے ملاقات کو اکھیلیش قبول کر پائینگے۔یعنی ایسا مانا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں خود اکھیلیش کا کوئی رول نہیں ہے اور کیونکہ اکھیلیش 2016میں مختار انصاری کی پارٹی کے سماجوادی پارٹی کے ساتھ انضمام کو یہ کہہ کر رد کر چکے ہیں کہ ان کی پارٹی میں مافیاؤں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔اس لیے راج بھر کے مختار انصاری کو حمایت دینے کے اعلان کو ان کی تائید حاصل نہیں ہے۔لیکن اس دلیل میں اس لیے کوئی وزن نہیں ہے کہ سیاست میں موقف اور نظریے بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔اس وقت بی جے پی کو ٹکّر دینے کے لیے اکھیلیش نئے اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہیں،اور مختار انصاری کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی نہ صرف پوروانچل کے مسلمانوں بلکہ دیگر اقوام حتیٰ کہ اعلیٰ ذات ہندوؤں میں بھی مقبولیت ہے۔گزشتہ اسمبلی الیکشن میں پوروانچل کی 162سیٹوں میں سے بی جے پی نے پہلی مرتبہ115 سیٹوں پرجیت حاصل کی تھی۔ظاہر ہے اتر پردیش میں بی جے پی کا اقتدار قائم کرنے میں اس خطّے کا رول بہت اہم تھا۔

۔ویسے بھی یہ مانا جاتا ہے کہ ریاست میں اقتدار کا فیصلہ پوروانچل سے ہی ہوتا ہے۔اس اعتبار سے دیکھیں تو مختار انصاری اپوزیشن پارٹیوں کے لیے اہم ہو جاتے ہیں۔جہاں تک سماجوادی پارٹی کا تعلق ہے تو جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ اکھیلیش نے اوم پرکاش راج بھر کی پارٹی سے بھی ہاتھ ملا لیا ہے اور اب ان کی توجہ پوروانچل کے کئی اہم لیڈروں پر ہے۔راج بھر نے جیل میں مختار انصاری سے ملاقات کے بعد صاف کہا ہے کہ مختار انصاری سے ان کے سیاسی رشتے انیس سال پرانے ہیں اور انصاری جہاں سے بھی الیکشن لڑنا چاہینگے وہ ان کی حمایت کرینگے۔مختار انصاری سماجوادی پارٹی سے اتحاد کرتے ہیں یا نہیں اور اکھیلیش ان سے دامن بچاتے ہیں یا پھر خاموشی سے ان کے ساتھ سیٹوں کا غیر اعلانیہ بٹوارہ کرتے ہیں یہ تو فی الحال واضح نہیں ہے۔لیکن ایک بات بڑی حد تک طے ہے کہ مختار انصاری اس خطّے کی کئی سیٹوں پر بی جے پی کے سامنے بڑا چیلنج پیش کر سکتے ہیں اور اپوزیشن میں جو پارٹی بھی انھیں اپنی طرف لانے میں کامیاب ہوتی ہے اسے پوروانچل میں اس کا فائدہ ملیگا۔اسی لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ راج بھر نے باندہ جیل میں مختار انصاری سے ملاقات سے پہلے اکھیلیش سے بھی اس موضوع پر بات کی ہوگی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہی مختار انصاری کے بھائی صبغت اللہ انصاری سماجوادی پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔یہ اس بات کے اشارے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کو اس وقت مختار انصاری کی ضرورت ہے۔خواہ راست طور پر دونوں ساتھ نہ آئیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب اکھیلیش نے مختار انصاری کی پارٹی کے سماجوادی پارٹی میں انضمام کو یہ کہہ کر ختم کیا تھا کہ سماجوادی پارٹی میں مافیاؤں کا کوئی کام نہیں ہے تو اس وقت شیوپال یادو نے اس بات پر ناراضگی بھی ظاہر کی تھی اور پھر دونوں کے رشتے اس حد تک خراب ہوئے کہ شیوپال یادو کو سماجوادی پارٹی سے الگ ہوکر اپنی پارٹی بنانی پڑی۔لیکن اب جب کہ شیوپال یادو اور اکھیلیش میں مفاہمت کی بات تقریباً طے ہو گئی ہے تو اکھیلیش کا مختار انصاری کے تعلق سے موقف بدلنا باعث حیرت نہیں۔سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس وقت بی جے پی کو شکست دینے کے تعلق سے سنجیدہ ہر اپوزیشن پارٹی کو اپنی انا الگ رکھ کے اپنا کنبہ بڑا کرنے کی ضرورت ہے۔سماجوادی پارٹی اس معاملے میں ابھی تک دیگر اپوزیشن پارٹیوں سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ایسے میں شیو پال یادو اور مختار انصاری کا سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا ان سب کے لیے بہتر انتخابی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:-09811602330

Related posts

وسیم رضوی کو ووٹ دینے والوں کے خلاف شیعہ قوم میں سخت ناراضگی۔

qaumikhabrein

مجموعہ نعت و منقبت مدح باقی ہے، کی رسم اجرا

qaumikhabrein

نفرت کی آبیاری بند ہو۔آئی آئی ایم بنگلورو فیکلٹی کا کارپوریٹ سے مطالبہ

qaumikhabrein

Leave a Comment