qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

بی جے پی کے لیے ہندوتو کا ایجنڈہ۔۔۔تحریر سراج نقوی

گذشتہ ماہ کے اواخر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اتر پردیش کے دورے پر آئے تو انھوں نے اایک دلچسپ بیان دیا تھا۔امت شاہ نے کہا تھاکہ اتر پردیش مہاتما بدھ کی کرم بھومی ہے، بھگوان شیو کی کاشی کی سرزمین ہے،لیکن کئی برسوں سے لوگوں کو یہ احسا س نہیں ہوتا تھا۔امت شاہ کی تاریخ دانی کا شعور بھی مودی سے مختلف نہیں ہے،اسی لیے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا مغلوں کے دور سے 2017تک ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یہ ریاست ان عظیم ہستیوں سے وابستہ ہے لیکن بی جے پی حکومت آئی تو اس نے عوام کو یہ احساس کرایا،اور ریاست کو اس کی شناخت دلائی۔ امت شاہ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بی جے پی نے اتر پردیش کو اہم ریاستوں کی قطار میں لانے کا کام کیا۔حالانکہ یہ دعویٰ اتر پردیش کی توہین کے مترادف ہے اس لیے کہ یہ ریاست ہمیشہ سے ملک کی سب سے اہم ریاست رہی ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ مرکز کے اقتدار کا راستہ اتر پردیش سے ہو کر ہی جاتا ہے۔جہاں تک اتر پردیش کو ان حوالوں سے شناخت دلانے کی بات ہے کہ جن کا ذکر شاہ نے اپنی تقریر میں کیا تھا تو یہ دعویٰ بھی اس لیے بے بنیاد ہے کہ خود مغلوں کے دور اقتدار میں اتر پردیش کے کچھ علاقوں کی مذہبی حیثیت کو تسلیم کیا گیا اور حکمرانوں کے فرامین اس بات کے گواہ ہیں اس کے اعتراف اور احترام میں مندروں کو حکومت کی طرف سے آراضیاں بھی دی گئیں۔بہرحال یہاں مقصد مغل حکمرانو ں کی کارکردگی یا ان کی ستائش موضوع بحث نہیں ہے،بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اتر پردیش کی مذہبی اور سیاسی دونوں اعتبار سے اہمیت کا اعتراف ہمیشہ سے کیا جاتا رہا ہے۔البتہ یوگی حکومت سے پہلے اس ریاست کو گنگا جمنی تہذیب کی سب سے بڑی علم بردار ریاست کے طور پر بھی جانا جاتا تھا،اور اس شناخت کو مٹانے کی تمام تر کوششیں گذشتہ چند برسوں میں کی گئی ہیں۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ہندوتو وادی طاقتوں کے ایجنڈے کا ہی حصہ ہے اور اس پر عمل کے معاملے میں یوگی سرکار نے بلا شبہ حکومت کی پوری طاقت لگائی ہے،اور اب جب کہ ریاست میں اسمبلی الیکشن قریب ہیں تو پھر کسی نہ کسی بہانے اسی فرقہ وارانہ ایجنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے ووٹوں کی صف بندی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بد قسمتی یہ ہے کہ بی جے پی کی ان کوششوں کا اثر ان پارٹیوں کے اوپر بھی نظر آتا ہے کہ جو اب تک سیکولرزم کا دم بھرتی رہی ہیں اور اس بہانے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔اتر پردیش کی یوگی حکومت نے عوامی مفادات کے محاذ پر جو کچھ کیا یا نہیں کیا اس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں،لیکن ایک بات تو بہرحال واضح ہے کہ بی جے پی قیادت بھی اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ اترپردیش کی ترقی کے نام پر اس کے پاس ایسی کوئی قابل ذکر حصولیابی نہیں ہے کہ جس کے سہارے وہ ریاست کے اسمبلی انتخابات میں جیت حاصل کر سکے۔یہی سبب ہے کہ کبھی ایودھیا میں چراغاں کا ریکارڈ بناکر ووٹروں کو لبھانے اور ان کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو کبھی تبدیلی مذہب،گھر واپسی یا ہندوؤں کو مبینہ طور پر ستانے والوں کو دھمکیاں دے کر ماحول گرم کیا جا رہا ہے۔کچھ دن قبل سماجوادی پارٹی لیڈر اکھیلیش یادو کے جناح سے متعلق بیان پر بی جے پی لیڈروں نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا اس کا مقصد بھی دراصل ہندو مسلم کے بہانے ووٹوں کی صف بندی ہی تھا۔ورنہ اس حقیقت سے کون انجان ہے کہ خود بی جے پی کے لال کرشن اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی جیئسے لیڈر جناح کی تعریف کر چکے ہیں۔ جہاں تک ہندوستانی مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کی نہ تو جناح میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ انھوں نے جناح کو کبھی اپنا لیڈر مانا۔بلکہ اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ جناح کے پاکستان بنانے کے فیصلے نے ہندوستانی مسلمانوں کو کئی اعتبار سے نقصان ہی پہنچایا۔بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن جناح کے بارے میں دیے گئے اکھیلیش کے بیان کے بعد اب اکھیلیش کی حلیف سہیل دیو سماج پارٹی کے لیڈر اوم پرکاش نے بھی جناح کے تعلق سے بیان دیکر ریاست کی سیاست کو گرم کر دیا ہے۔راج بھر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ،اگر جناح کو آزاد ہندوستان کا پہلا وزیر اعظم بنا دیا جاتا تو ملک کی تقسیم سے بچا جا سکتا تھا۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ راج بھر کی ہی طرح ماضی میں آر ایس ایس لیڈر شیشادری بھی یہی بات کہہ چکے ہیں لیکن بی جے پی یا کسی ہندو تنظیم نے شیشادری کے بیان پر کوئی ہنگامہ نہیں کیا، لیکن اب اکھیلیش کے بعد راج بھر کے بیان کو بھی اکھیلیش کی مرضی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے،اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اکھیلیش ملک کو تقسیم کرنے والے جناح کو بھی نہرو اور سردار پٹیل کی صف میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالانکہ اکھیلیش کے مذکورہ بیان پر مسلم لیڈروں نے بھی سخت تنقید کی ہے۔اسد الدین اویسی کا اس معاملے میں جو سخت رد عمل سامنے آیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔دیگر مسلم لیڈروں نے بھی اکھیلیش کے بیان کو مسترد کیا ہے۔البتہ کانگریس نے اس معاملے پر کسی سیاسی مصلحت کے تحت زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔راج بھر کے مذکورہ بیان کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے بھی اپنے بیان کی بنیاد بی جے پی کے سابق لیڈروں اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی کو بنایاہے اور کہا ہے کہ یہ لیڈر بھی جناح کے نظریات کے قدردان تھے۔

اس پورے معاملے کا سب سے قابل تشویش پہلو یہ ہے کہ اکھیلیش نے جناح سے متعلق اپنے بیان کے بعد اب خود کو ہندو وادی دکھانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بعض رپورٹوں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب اکھیلیش کے عوامی جلسوں میں مسلم لیڈروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔حالانکہ اکھیلیش کا سیکولرزم پہلے ہی سے سوالوں کی زد پر رہا ہے۔اس لیے کہ جنم بھومی تنازعہ پر عدالتی فیصلے سے لے کر اب تک انھوں نے ایسے کئی بیان دیے ہیں کہ جو نرم ہندوتو کی طرف ان کے جھکاؤ کو ثابت کرتے ہیں۔اس صورتحال کا فائدہ یوگی یا بی جے پی اٹھانے کے لیے بے چین ہے۔ظاہر ہے بی جے پی ہندوتو کی اے ٹیم ہے اور اس کے لیڈر بہت واضح الفاظ میں اپنی بات کہہ رہے ہیں اس لیے اگر ووٹوں کی صف بندی کرنے میں فرقہ پرست طاقتوں کو کامیابی ملی تو سماجوادی پارٹی کمزور پڑجائے گی۔وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیرانہ اور شاملی کے حالیہ دورے میں کئی مرتبہ ’طالبانی ذہنیت‘کا ذکر کیا اور کیرانہ سے مبینہ طور پر خوف میں ہجرت کرنے والوں کو تحفظ اور سلامتی کا یقین دلایا۔ اس سے صاف ہے کہ بی جے پی ایک مرتبہ پھر اپنے پرانے ایجنڈے یعنی ہندوتو کی طرف واپسی کے سہارے ہی اتر پردیش کے اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

خس کم جہاں پاک۔ متنازعہ کارٹونسٹ لارس ولکس سڑک حادثے میں مارا گیا۔

qaumikhabrein

اسلام کی تاریخی کہانی۔مولانا شہوار کی زبانی۔

qaumikhabrein

مجرم بے لگام،انتظامیہ ناکام۔ یو پی کا برا حال۔

qaumikhabrein

Leave a Comment