qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

’غلامی کی جدید شکلیں’ اور اقوام متحدہ کی رپورٹ۔۔سراج نقوی

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی اپنی نئی شکل میں موجودہے۔ اس رپورٹ میں چین کے ایغور مسلمانوں،ہندوستان کے دلتوں،خلیجی ممالک،برازیل اور کولمبیا کے گھریلو ملازمین کو اس نئی غلامی سے متاثر بتایا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائیندے برائے انسانی حقوق ٹومویا اوبوکاٹا نے عالمی ادارے کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں غلامی اپنی نئی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ان میں ہندوستان اور چین کا خاص طور پر ذکر ہے اور چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان کے دلتوں کوجدید دور کی غلامی کا شکار قرار دیا گیا ہے۔کئی دوسرے ممالک کا بھی اس ضمن میں ذکر ہے۔کئی ایسے ممالک کا بھی ذکر ہے کہ جہاں آج بھی روائتی طریقے سے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے۔

ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان کے دلتوں کوجدید دور کی غلامی کا شکار قرار دیا گیا ہے۔کئی دوسرے ممالک کا بھی اس ضمن میں ذکر ہے۔کئی ایسے ممالک کا بھی ذکر ہے کہ جہاں آج بھی روائتی طریقے سے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے۔
لیکن مذکورہ تمام ممالک میں ہندوستان کا ذکر اس لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مانا جاتا ہےاور جمہوریت کی مدعی کسی ریاست میں غلامی کی اس جدید شکل کا ہونا زیادہ باعث تشویش ہے۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہندوستان میں نہ صرف دلت بلکہ اب چند برسوں میں مسلمان بھی غلامی کی اس نئی شکل کے شکار بنائے جا رہے ہیں اور انھیں ملک کے بر سر اقتدار طبقے کے مظالم کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔البتہ دلتوں کا معاملہ اس لیے مختلف ہے کہ یہ طبقے ہندوستان میں روائتی طور پریہاں کے مبینہ اعلیٰ طبقات کے مظالم کا نشانہ بنتے رہے ہیں،اور اب جبکہ ملک میں جمہوری نظام ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو بھی اس طبقے کو کسی نہ کسی شکل میں آبادی کے اعتبار سے کم طبقے والے اعلیٰ ذات ہندوؤں کے ظلم کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے،اور اس سلسلے میں آزادی کے بعد سے اب تک ان طبقات کو اونچا اٹھانے کے لیے کی گئی تمام آئینی اور قانونی کوششیں بھی اپنے مقصد میں بڑی حد تک ناکام ہی ہوئی ہیں۔اس سلسلے کے دستیاب اعداد و شمار دلتوں کی حالت زار کی کہانی بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ دلت طبقات سے آنے والے اعلیٰ افسران تک کا بھی سماج میں وہ مقام نہیں بن پایا ہے کہ جو ہونا چاہیے۔یعنی مساوات پر مبنی سماج کا تصور ان کے لیے اب بھی ایک خواب ہی ہے۔مختلف مواقع پر آنے والی خبریں اور رپورٹیں اس کی گواہ ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گذشتہ بدھ کے روز مذکورہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ بچّہ مزدوری کہ جو غلامی کی ہی ایک شکل ہے آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک میں موجودہے۔ جہاں تک دنیا کے دیگر ممالک کا تعلق ہے تو ہندوستان کے قارئین کے لیے یہ موضوع اس لیے قابل ترجیح نہیں ہو سکتا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے یعنی اپنے سماج میں موجود عدم مساوات کو دور کرنے اور کمزور طبقات کو ان کے حقوق دلانے کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کے دلتوں کے مسائل اس لیے بھی ہماری توجہ کے مستحق ہیں کہ ایک بڑی جمہوریت میں کسی بڑی آبادی کو انصاف سے محروم کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کو غصب کرنے کے نتائج جلد یا بہ دیر پورے ملک اور سماج کو بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔حالانکہ یہ بات بھی کم باعث تشویش نہیں کہ موجودہ حکمرانوں نے ملک کی غیر ہندو اقلیت کو بھی اس وقت نشانے پر لے رکھا ہے اور ’ہندوتو‘ کے نام پر اس کا استحصال جاری ہے،لیکن جہاں تک دلتوں کا تعلق تو ان کے معاملات کا اہم پہلو یہ ہے سماجی سطح پر انھیں غیر معمولی عدم مساوات کا سامنا اب بھی قدم قدم پر اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ ’منووادی نظام‘ میں دلتوں کو ہمیشہ کمتر درجہ دیا گیا اور ملک کو آزادی ملنے اور جمہوریت قائم ہونے کے بوجود زمینی سطح پر اس طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے بے شمار اقدامات کا اثر اب بھی برائے نام ہی نظر آتا ہے۔حالانکہ وزیر اعظم مودی نے چند ماہ قبل ہی پنجاب میں ایک پروگرام میں بولتے ہوئے کہا تھا کہ،’ملک کے مختلف حصّوں میں دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ ہونے والے بد سلوکی کے واقعات پر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔’

لیکن وزیر اعظم کے اس اعتراف حقیقت کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ اب بھی دلتوں کے تعلق سے ہمارے حکمراں کچھ زیادہ حسّاس نظر نہیں آتے۔بات صرف وزیر اعظم کی ہی نہیں بلکہ ملک کی پارلیمنٹ اور مختلف ریاستوں کی اسمبلیوں میں بھی دلتوں پر مظالم کے خلاف وقتاً فوقتاًآواز بلند ہوتی رہی ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا ہے۔رواں سال کے مارچ میں راجستھان کے الور ضلع میں ایک دلت نوجوان کو مندر میں ناک رگڑنے پر اس لیے مجبور کیا گیا تھا کہ اس نے فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کے خلاف مبینہ طور کچھ منفی تبصرہ کیا تھا۔ظاہر ہے یہ معاملہ کیونکہ کشمیری پنڈتوں کے مفادات سے متعلق تھا یا کم از کم ایسا ظاہر کیا جا رہا تھا لہٰذا اس پر مذکورہ نوجوان کو شرپسند عناصر کے عتاب کا شکار بننا پڑا۔نوجوان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اس نے ہندو دیوی دیوتاؤں کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔اگر اس بات کو سچ مانا جائے تب بھی اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے تھی،لیکن ایسا نہ کرکے اسے زد وکوب کرنا کہاں تک درست قرار دیا جا سکتا ہے؟حد تو یہ ہے کہ جب ہم آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں تب بھی راجستھا میں ہی دلت مخالف ایک اور واقعہ پیش آنے کی خبر ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یوم آزادی سے چند روز قبل راجستھان کے جالور ضلع میں ایک اعلیٰ ذات ہندو استاد نے ایک دلت طالبعلم کو گھڑے سے پانی پینے کی پاداش میں اس قدر مارا کہ بالآخر چند روز بعد تیرہ اگست کو اس کی موت واقع ہو گئی۔یہ طالبعلم سرسوتی ودھیا مندر میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔واضح رہے کہ سرسوتی ودھیا مندر کے اسکول سنگھ کی زیر نگرانی چلتے ہیں۔ راجستھان میں ہی چند سال قبل ایک دلت طالبعلم کے ذریعہ اسکول میں ایک اعلیٰ ذات ہندو استاد کے کھانے کو ہاتھ لگانے کی پاداش میں بری طرح پیٹا گیا تھا۔ دیگر ریاستوں میں بھی دلتوں پر مظالم کے واقعات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔

۔گذشتہ اپریل میں ہی اتر پردیش میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ذریعہ ایک دلت بچّے کو مارنے پیٹنے اور اسے تلوے چاٹنے کے لیے مجبور کرنے کے خبر کافی وائرل ہوئی۔ باعث تشویش بات یہ ہے کہ دلتوں پر مظالم کے معاملات میں نوکر شاہی بھی اکثر جانبداری سے کام لیتی ہے۔یہی سبب ہے کہ مذکورہ معاملے میں پہلے تو انتظامیہ نے کارروائی کرنے سے ہی گریز کیا،لیکن جب دلت لڑکے سے پیر چٹوانے کی ویڈیو وائرل ہو گئی تو افسران کو اس معاملے میں کارروائی کرنی پڑی۔اور سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔اکثر اس طرح کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ کسی دلت لڑکے کو شادی کے موقع پر گھوڑی چڑھنے پر مارا پیٹاگیا یا گھوڑی سے جبراً اتار دیا گیا۔نیشنل کرائم ریکارڈز بیوروکی سن 2021میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھاکہ ہندوستان میں دلتوں کے خلاف جرائم میں 9.3فیصدی اضافہ ہوا ہے۔حالانکہ کچھ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ دلتوں پر مظالم کے یہ اعداد و شمار حقیقی صورتحال سے کافی کم ہیں۔ اسی لیے اگر اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ میں دلتوں کے حالات کو سامنے رکھ کریہ کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں بھی غلامی کی جدید شکلیں موجود ہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور صورتحال کو بدلنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

اردو جرنلزم میں پی جی کورس میں داخلے کی آخری تاریخ دس جولائی

qaumikhabrein

خانہ جنگی چھیڑنے کی امریکی سازش کو یران نے ناکام بنا دیا۔

qaumikhabrein

ایران نے مہران بارڈر زائرین کربلا کے لیے کھول دیا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment