qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

سرسی سادات کی تاریخ پر مبنی کتاب ‘نوازش انوار’ کی رسم اجرا

تاریخ مرتب کرنا بڑا مشقت طلب کام ہے۔اگر کسی قصبے کی تاریخ لکھنے کا مرحلہ ہو تو بڑی بھاگ دوڑ اور بڑی چھان بین کرنا پڑتی ہے۔ نوازش مرتضیٰ نے اپنے وطن سرسی سادات کی تاریخ مرتب کرکے واقعی ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ سرسی سادات کی تاریخ پر مبنی انکی کتاب ‘نوازش انوار’ منظر عام پر آگئی ہے۔سرسی سادات فاؤنڈیشن کی جانب سے اس کتاب کی رسم اجرا ‘عزاخانہ کلاں’ سرسی سادات میں عمل میں آئی۔
کتاب کی رسم اجرا ایک سادہ مگر پر وقار تقریب میں ایران کے کلچرل کاؤنسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی کے ہاتھوں انجام پائی۔ تقریب کی صدارت ماہر تعلیم محمود جان نے کی۔ تقریب میں مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے مولانا محمد سیادت امام جمعہ وجماعت،امروہہ،مولانا احسن اختر سروش،مولانا شہوار حسین،مولانا کوثر مجتبیٰ،ڈاکٹر کلیم اصغر، مولانا غلام حسین ہلوری اور ڈاکٹر کشور جہاں زیدی سنبھلی موجود تھے۔زینت مسند مولانا احتشام علی،امام جمعہ و جماعت سرسی،انقلاب ؔسرسوی اور ارمؔ سرسوی تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کہا کہ مجھے بے انتہا مسرت ہو رہی ہے کہ میں آج ایک ایسی بستی میں حاضر ہوا ہوں کہ جس کے بزرگ کا تعلق(نیشاپور،ایران) سے ہے اور دنیا بھر میں اسی بزرگ کے سبب اس بستی کو پہچانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازش نقوی قابل مبارکباد ہیں کہ جنہوں نے تحقیقی خدمت انجام دی ہے۔ انکی کتاب یقینا آنے والی نسلوں کے تحقیقی کام میں معاون ہوگی۔نوازش نقوی کی جانب سے اپنے مہمان خصوصی کی خدمت میں سپاسنامہ بھی پیش کیا گیا۔
مولانا محمد سیادت امام جمعہ و جماعت امروہہ نے کہا کہ یقینا یہ ایک عظیم کام ہے جو نوازش مرتضیٰ نے اپنی بستی او ر اپنے وطن کے لوگوں کے لئے کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔۔مولانا احسن اختر سروش نے اہل سرسی کو مبارکبا د پیش کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں مورخ ‘نوازش انوار’سے استفادہ ضرور کرے گا۔ مولانا شہوار حسین نے کہا کہ نوازش مرتضیٰ نے جو کام انجام دیا ہے یقینا اس کام میں بہت دشواریاں ہیں لیکن اس کام کو نوازش مرتضیٰ نے بخوبی انجام دیا۔مولانا کوثر مجتبیٰ نے کہا کہ ہر کام آسان ہو جایا کرتا ہے لیکن قلم کا چلانا بہت مشکل ہو اکرتا ہے۔
س موقع پر معروف ادیب و محققہ ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کو ‘سیدہ حسن زہرا ایوارڈ’ سے بھی نوازہ گیا۔

درگاہ-جمال الدین زیدیؒ المعروف مخدوم صاحب

تقریب کا آغاز مولانا منظر عباس سرسوی کی تلاوت کلام ربانی اور شوبی سرسوی کی نعت سرکار دو عالم ؐ سے ہوا۔۔نظامت کے فرائض منظر عباس سرسوی نے انجام دئے۔افتتاحی تقریر مولانا قمر عباس قنبر سرسوی(دہلی) نے کی۔۔مولانا احتشام علی نے حاضرین و باہر سے آنے والے تمام مہمان کا شکریہ ادا کیا۔سرسی میں اپنے قیام کے دوران ایران کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے سرسی کے بانی حضرت جمال الدین زیدیؒ المعروف مخدوم صاحب کی درگاہ میں حاضری دی اور چادر پوشی بھی کی۔
نوازش مرتضی کی کتاب ‘نوازش انوار’ میں سرسی کی تاریخ کےمختلف ادوار پیش کئے گئے ہیں۔اس میں مخلتلف شعبہائے حیات سے وابستہ لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

Related posts

جب علامہ رشید ترابی نے اشرف عباس کی شیروانی سلوائی

qaumikhabrein

مولانا شبیب کاظم کے معاملے پر شیعہ علما متحد کیوں نہیں ؟

qaumikhabrein

کائنات میں آئمہ اطہار اور ان میں امام حسین ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ مولانا شاداب حیدر

qaumikhabrein

Leave a Comment