qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

بغاوتوں سے بوکھلائی بی جے پی۔تحریرسراج نقوی

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی اتر پردیش میں بی جے پی لیڈروں کی بغاوت کا سلسلہ جس طرح شروع ہواہے اسے پارٹی کے لیے نیک فال تو ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی اہمیت باقی ریاستوں کے مقابلے میں اس لیے زیادہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے،بلکہ یہی وہ ریاست ہے کہ جس نے گجراتی نریندر مودی کو وارانسی سے جیت دلاکر پارلیمنٹ بھیجا اور و ہ وزیر اعظم بنے۔اتر پردیش ہی وہ ریاست ہے کہ جس نے بی جے پی کو سبب سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ دیے،جس کے نتیجے میں بی جے پی کو مرکزمیں حکومت سازی کا موقع ملا،اور 2017 کے ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں بھی بی جے پی نے یہاں شاندار جیت درج کرکے یوگی کی قیادت میں سرکار بنائی۔
لیکن گذشتہ پانچ برسوں میں مرکز اور اتر پردیش میں ایسا بہت کچھ ہوا ہے کہ جس نے عوام کو بی جے پی سے مایوس کیاہے۔اس کے لیے مودی ذمہ دار ہیں یا یوگی،یا پھر بی جے پی کی پالیسیاں اور حالات کی ستم ظریفیاں اس کا سبب ہیں یہ ایک الگ بحث ہے،لیکن ایک بات تو بہرحال واضح ہے کہ چند سال پہلے تک جس طرح جوق درجوق دوسری پارٹیوں کے لیڈر بی جے پی کی پناہ میں آرہے تھے،اب اسی طرح یہ لیڈرپارٹی چھوڑ کر سماجوادی پارٹی کا دامن تھام رہے ہیں

۔کیا یہ مان لیا جائے کہ ان لیڈروں کویہ احساس ہو چلا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کاجہاز ڈوب رہا ہے؟حالانکہ درباری میڈیا تو اب بھی بی جے پی کی جیت کے دعوے کر رہا ہے۔یہ الگ بات کہ اس کے باوجود سماجوادی پارٹی اور بی جے پی میں کانٹے کامقابلہ بتا کر ہوا کا رخ بدلنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔حالانکہ سوشل میڈیا پر بی جے پی میں مچی اس بھگدڑ کاخوب مذاق اڑ رہاہے۔ایک لطیفہ سوشل میڈیا پر گشت کر رہاہے،جس میں کہا گیا ہے کہ،”لکھنؤ میں ٹیکسی والے بی جے پی دفتر کے باہر آوازلگا رہے ہیں کہ آؤ آؤ سماجوادی پارٹی دفتر 20 روپئے میں۔“بہرحال یہ تو محض ایک لطیفہ ہے،لیکن یہ بہرحال حقیقت ہے کہ تادم تحریر بی جے پی کے 14 ممبران اسمبلی سماجوادی پارٹی کا دامن تھام چکے ہیں۔ان میں یوگی کابینہ کے تین وزراء بھی شامل ہیں۔مختلف ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ ابھی بی جے پی میں بغاوت کا یہ طوفان تھما نہیں ہے۔ممکن ہے جب آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں تب تک بی جے پی چھوڑنے والے ممبران اسمبلی کی تعدا د میں اضافہ ہو جائے۔حالانکہ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ دیگر پارٹیوں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔بی جے پی نے بھی سماجوادی پارٹی،کانگریس اور بی ایس پی کے کچھ ممبران اسمبلی کو اپنے خیمے میں لانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔لیکن اس کے باوجود حکمراں جماعت میں ممبران اسمبلی اور وزراء کے استعفے سے یہ پیغام جاتا ہے کہ موقع پرست لیڈر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے لیے اب بی جے پی میں کوئی موقع نہیں۔خود بی جے پی ہو یا پھر ملک کی دوسری سب سے بڑی پارٹی کانگریس ان دونوں نے ہی سیاسی وفاداریاں بدلوانے کا جو کھیل اب تک کھیلا ہے اس کے نتائج ہی انھیں آج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔


البتّہ بی جے پی کو اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے اس کا ایک بڑا سبب تکبّر،آمریت اور جمہوری ماحول میں بھی اقتدار اور پارٹی کے فیصلوں کا صرف چند افراد تک سمٹ جانا ہے۔پارٹی کے اس رویے نے اسے عوام سے بھی دور کیا ہے۔گذشتہ انتخابات میں جو لوگ دل و جان سے بی جے پی کے ساتھ تھے،اور جنھیں بی جے پی کے ہندوتو سے لگاؤ تھا وہ بھی اب پارٹی سے دور جا رہے ہیں۔اس طبقے کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ ہندوتو کی بات کتنی ہی خوشنما سہی لیکن پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کی ضرورت اپنی جگہ ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی نے ہندوتو کے پروپگنڈے سے قطع نظرمفاد عامہ کے لیے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔اس کے باوجود بی جے پی کی طاقت کو کم مان لینا دانشمندی نہ ہوگی۔پارٹی کی سب سے بڑی طاقت آر ایس ایس کا وہ کیڈر ہے جس کے بارے میں خود سر سنگھ سنچالک موہن بھاگوت کسی موقع پر کہہ چکے ہیں کہ اسے کسی بھی موقع پر صرف چند گھنٹے کے نوٹس پر محاذ پرلگایا جا سکتا ہے۔اگر اپوزیشن پارٹیاں اس کیڈر سے لوہا لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو بی جے پی سے ان کا مقابلہ آسان ہو جائیگا۔اپوزیشن پارٹیوں کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ متحد نہیں ہیں۔مایاوتی تو کچھ عرصہ پہلے کہہ چکی ہیں کہ اگر بی جے پی اور سماجودای پارٹی میں سے کسی ایک کے ساتھ جانا پڑے تو وہ بی جے پی کے ساتھ جانا پسند کرینگی۔اب یہ الگ بات کہ دلت ووٹ بھی اب مایاوتی سے دور جا رہا ہے اور نئے متبادل تلاش کر رہا ہے۔کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے گذشتہ اسمبلی الیکشن کے موقع پر اتحادکیا تھا لیکن اس کا کوئی خاص سیاسی فائدہ نہ ملنے کے سبب اب دونوں الگ الگ الیکشن لڑ رہی ہیں۔ہرچند کہ پرینکا نے گذشتہ کچھ عرصے میں کافی محنت کی ہے،اس کے باوجود وہ ریاست کے عوام کو کانگریس سے جوڑنے میں کچھ زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہیں۔اسی لیے اس بات کے باوجود کہ کانگریس کے حالات اتر پردیش میں بہتر ہوئے لیکن اس کے باوجود اقتدار کے قریب وہ اب بھی نہیں ہے۔ البتہ ضرورت پڑنے پر اپوزیشن کو حمایت دے کرحکومت سازی میں مدد کر سکتی ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ دوسرا مسئلہ مسلم ووٹوں کاہے۔حالانکہ یہ بات درست ہے کہ بیشتر اپوزیشن پارٹیوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں مسلمانوں کو نظر انداز کرنے میں بی جے پی کابالواسطہ ساتھ دیا ہے،لیکن اس کے باوجود اب یہی پارٹیاں مسلم ووٹوں کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔مجلس اتحاد المسلمین بھی مسلم اور دلت ووٹوں کے سہارے انتخابی میدان میں اترنے کے لیے تیاّر ہے ایسے میں ایک بات بڑی حد تک طے ہے کہ مسلم ووٹ کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستگی کے سبب اس کے امیدوار کو نہیں ملیگا بلکہ اس کا فیصلہ مقامی حالات اور حکمت عملی کے تحت ہی ہوگا۔ایسا ہوتا ہے تو یہ بی جے پی کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔
لیکن ان تمام باتوں کے باتوں کے باوجود اس وقت بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج داخلی خلفشار اور بغاوت کو روکنا ہے۔بی جے پی چھوڑ کر جانے والے لیڈروں کو کتنی عوامی حمایت حاصل ہے یہ الگ بحث ہے۔اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کے سبب عوام میں یہ پیغام جا سکتا ہے کہ بی جے پی کا جہاز ڈوب رہا ہے اور اس میں سوار ہونے یا اس پارٹی کو ووٹ دینے سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ملک بھر میں ایسے ووٹروں کی بھی ایک بڑی تعدا د ہے جو کسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں اور حالات و ہوا کے رخ کو دیکھتے ہوئے ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔بی جے پی میں برھتی ہوئی بغاوت اسے ایسے ووٹوں سے محروم کر سکتی ہے،اور اس کے دور رس اثرات 2024 میں ہونے والے پارلیمانی الیکشن تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:9811602330

Related posts

غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری ۔ شہید فلسطینیوں کی تعداد 43 ۔۔ سیکڑوں افراد زخمی۔

qaumikhabrein

ضلع بکسر میں گنگا ندی سے نکل رہی ہیں درجنوں لاشیں۔لوگوں میں دہشت۔

qaumikhabrein

علامہ ارتضیٰ عباس کی تحقیقی کتاب ‘فغان دلگیر’ منظر عام پر

qaumikhabrein

Leave a Comment