qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

کیا منڈھے چڑھ پائیگی اپوزیشن اتحاد کی بیل؟۔۔۔سراج نقوی

این ڈی اے سے سے الگ ہوکر اور اچانک لالو پرساد کی آر جے ڈی سے ہاتھ ملا کر دوبارہ بہار کے وزیر اعلیٰ بننے والے نتیش کمار بہار سے باہر اور مرکزی سطح پر بھی بے حد فعال ہو گئے ہیں۔یہ ہماری سیاست کا عجیب روپ ہے کہ کل تک جو شخص این ڈی اے کے ساتھ تھا اور مودی کا قصیدہ خواں تھا وہی اب بی جے پی سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے اپوزیشن کو متحد کرنے میں لگا ہوا ہے۔اس کا سبب شائد یہ ہے کہ بی جے پی بظاہر اپنے حلیفوں کے تعلق سے خواہ کچھ بھی نظر آئے لیکن پس پردہ حلیف پارٹیوں کی جڑیں کاٹنے کی کوششوں میں لگی رہتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو مہاراشٹر میں شیو سینا اور بی جے پی کی تقریباً پچیس سال پرانی دوستی اس طرح نہ ٹوٹتی۔ ادھو ٹھاکرے اس دوستی کو پارٹی کی بھول بتاتے نظرنہ آتے۔یہ الگ بات کہ ادھو کو بی جے پی سے الگ ہونے کی سزا مل رہی ہے اور امت شاہ نے جس لہجے اور انداز میں شیو سینا کو سبق سکھانے کے اشارے دئے ہیں وہ ہماری سیاست میں انتقامی جذبے کی خطرناک شکل ہی کہی جا سکتی ہے۔شائد ان اشاروں نے ہی نتیش کو بی جے پی سے الگ ہوکر اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مجبور کیا۔ دوسری وجہ اس کی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خود نتیش کے بارے میں یہ بات کا فی عرصے سے کہی جا رہی ہے کہ اگر کانگریس بی جے پی کے خلاف کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتی اور اپوزیشن کو بی جے پی سے زیادہ سیٹیں مل جا تی ہیں تو وہ بی جے پی کی جوڑ توڑ کی سیاست کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی کو بھی اپوزیشن کے ممکنہ وزیر اعظم عہدے کی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کانگریس کو اپوزیشن سیاست میں کوئی بھاؤ نہ دینے کی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہیں۔ظاہر ہے ایسے میں نتیش کمار کی اپوزیشن اتحاد کی کوششیں اگر بار آور ہوتی ہیں تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی،لیکن سارا معاملہ اس ایک ’اگر‘ پر ہی منحصر ہے۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ مہاراشٹر کی ’فتح‘ کے جشن کے فوراً بعد بہار میں نتیش کا این ڈی اے سے الگ ہونا بی جے پی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔اس لیے کہ اس سے کم از کم بہار میں پارلیمانی الیکشن جیتنے کے بی جے پی کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ ادھو ٹھاکرے کو چوٹ دے کر بی جے پی کے لیے یہ مان لینا بھی درست نہ ہوگا کہ مہاراشٹر اب اسے تھالی میں سجا ہوا مل جائیگا۔بال ٹھاکرے کے بیٹے کی اصل طاقت کا پتہ پارلیمانی الیکشن میں ہی چل پائے گا۔بہرحال جہاں تک نتیش کا تعلق ہے تو انھوں نے بی جے پی کی طرز پر ہی فعالیت کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔چند روز قبل دلّی میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے ملا قات،اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے و پارٹی کے موجودہ صدر اکھیلیش یادو سے ملاقات کو اسی فعالیت کی کڑی کہا جا سکتا ہے۔ نتیش نے دلّی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال،کمیونسٹ پارٹی کے سیتا رام یچوری،ہریانہ کے نیشنل لوک دل کے اوم پرکاش چوٹالہ سے بھی ملاقات کی ہے اور دیگر کئی لیڈروں سے بھی آئیندہ چند روز میں ملنے کا ان کا پروگرام ہے۔نتیش کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن تیار کرنا چاہتے ہیں،لیکن جو حالات ہیں انھیں دیکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا نتیش اس معاملے میں کامیاب ہو پائینگے؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ بی جے پی جس انداز کی سیاست کر رہی ہے اور اس کی مدد کے لیے جس طرح نہ صرف چند بڑے سرمایہ دار
حق نمک ادا کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں،بلکہ سنگھ کارکنان بھی کمر کسے ہوئے ہیں اسے دیکھتے ہوئے بی جے پی سے مقابلہ کچھ آسان نہیں لیکن جو حالات ہیں انھین دیکھتے ہوئے معاملہ ’تنگ آمد بہ جنگ آمد والا ہے۔

شائد اسی لیے اپوزیشن لیڈروں سے اپنی ملاقات پر نتیش نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ’ہم سبھی کے ساتھ آنے کے بڑے معنی ہیں۔’یہ بڑے معنی کیا ہیں اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اپنے تعلق سے وزیر اعظم عہدے کی دعویداری کی خبروں پر بھی نتیش نے بہت محتاط رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ،’میں نہ تو اس عہدے کا دعویدار ہوں اور نہ اس کا خواہش مند ہوں۔’ ظاہر ہے اس طرح کی خوااہش کا اظہار اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس کا احساس نتیش کو ہے،لیکن کیا ممتا جیسی لیڈر سے بھی یہ امید کی جا سکتی ہے ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد کی ان کوششوں کو مثبت طور پر لینگی؟دوسرا معاملہ اروند کیجریوال کا ہے جنھوں نے نتیش سے ملاقات کے بعد جو ٹویٹ کیا ہے اس میں کئی عوامی مسائل پر ان سے بات چیت کا ذکر تو ہے لیکن اپوزیشن اتحاد کی بات کا کوئی ذکر نہیں۔شائد اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی پارٹی اپنی کھچڑی الگ پکانے کی تیاری میں نظر آتی ہے۔

اپوزیشن اتحاد پر ہونے والی کسی بھی میٹنگ میں کیجریوال کا شریک نہ ہونا اس کا ثبوت ہے۔بہرحال جہاں تک نتیش کمار کا تعلق ہے تو شائد انھیں بھی صورتحال کی پیچیدگی اور کچھ اپوزیشن پارٹیوں کے رویے کا اندازہ ہے اسی لیے انھوں نے کہا بھی ہے کہ ‘کسی بھی اپوزیشن اتحاد میں کمیونست پارٹیوں اور کانگریس کا شامل ہونا ضروری ہے۔“ؒ ٰؒلیکن نتیش کے اس خیال سے صر ف ممتا یا کیجریوال ہی نہیں بلکہ آندھرا کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ بھی غالباً متفق نہیں ہیں۔ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ نتیش کی کوششیں کس حد تک بار آور ہونگی۔مذکورہ لیڈروں کے علاوہ اتر پریش کی اہم لیڈر اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے بھی اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ کسی بھی ایسے پلیٹ فارم پر اب مایاوتی شائد آنا پسند نہ کریں کہ جس میں اکھیلیش یادو بھی ہوں۔مایاوتی بی جے پی کے ساتھ تو جا سکتی ہیں لیکن اکھیلیش اور کانگریس کی شمولیت والے کسی اتحاد کے ساتھ ان کا جانا مشکل ہی ہے۔

دوسری اہم بات مایاوتی کی کچھ مجبوریاں بھی ہو سکتی ہیں سب جانتے ہیں کسی بھی سخت مخالف کی گردن دبانے کے لیے بی جے پی کے پاس ای ڈی کا ہتھیار ہے اور مایاوتی کا دامن بہرحال بے داغ نہیں ہے۔اسی لیے انھوں نے آج تک بی جے پی یا مودی کیخلاف کوئی سخت بیان دینا تو درکنار کئی اہم ایشوز پر مودی حکومت کی کھلی حمایت بھی کی ہے۔تقریباً یہی معاملہ دیگر کئی علاقائی پارٹیوں کے لیڈروں کا بھی ہے۔

مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کا بھی رخ ابھی واضح نہیں ہے۔اگر انھیں اپنے روائتی ووٹ بنک کھسکنے کا خطرہ نظر آیا تو وہ الیکشن سے قبل بننے والے کسی بھی اپوزیشن اتحاد سے دامن بچاسکتے ہیں۔ان تمام مسائل سے بڑا مسئلہ جس کا ذکر شروع میں ہی کیا گیا وہ تمام پارٹیوں میں موجود مفاد پرستی ہے جس کے سبب بی جے پی کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔یہ صورتحال بی جے پی سے پے در پے چوٹیں کھانے کے بعد بھی تمام اپوزیشن پارٹیوں میں موجود ہے ورنہ آج صورتحال مختلف ہوتی۔اسی لیے لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد کی بیل منڈھے چڑھ پائے گی؟
sirajnaqvi08@gmail.com Mob:9811602330

Related posts

اسلامی اسکالر موسیٰ القرنی کی سعودی عرب کی جیل میں موت

qaumikhabrein

سرسی سادات کی تاریخ پر مبنی کتاب ‘نوازش انوار’ کی رسم اجرا

qaumikhabrein

مشرقی آذر بائجان میں رہبر کے نمائندے تھے آیت اللہ آل ہاشم

qaumikhabrein

Leave a Comment