qaumikhabrein
Image default
uncategorized

سچ کی پردہ پوشی کے لیے اقتدار کا سہارا۔۔۔سراج نقوی

وزیر اعظم مودی بہت حسّاس انسان ہیں۔چند سال قبل جب کسی صحافی نے گجرات فساد میں مسلمانوں کے قتل عام کے تعلق سے ان کا رد عمل معلوم کیا تھا تو مودی کا جواب تھا کہ”اگر کتّے کا پلّا بھی گاڑی کے نیچے آجاتا ہے تو دکھ ہوتا ہے۔“اسی لیے اگر کچھ مودی مخالفین اس بات پر معترض ہیں کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو میں عوام کو انتخابی ریوڑیاں تقسیم کرتے وقت وزیر اعظم نے پڑوس کے لکھیم پور میں ہوئی آٹھ کسانوں کی موت کو کیوں نظر انداز کر دیا تو اس پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔جب ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے بیس کروڑ سے زیادہ عوام کے ووٹ حاصل کرنے اور انھیں خوش کرنے کا بڑامقصد سامنے ہو تو لکھیم پور کے چند کسانوں کو کسی مرکزی وزیر کے بیٹے کی گاڑی سے کچل دیے جانے کا غم چھوٹا ہوجاتا ہے۔

البتّہ میڈیا اور اپوزیشن لیڈروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ حکمراں طبقے کے ظلم کے خلاف مظلوموں کے ساتھ کھڑے نظر آئیں۔بد قسمتی یہ ہے کہ میڈیا کو شاہ رخ خان کے بیٹے آرین کی گرفتاری کا موضوع لکھیم پور کے کسانوں کی دردناک موت سے زیادہ بڑانظر آتا ہے۔میڈیا کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے لکھیم پور کھیری معاملے میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حاشیہ برداری اور ان کی مبینہ انتظامی فعالیت اور چابکدستی کی قصیدہ خوانی کا موقع مل گیا ہے۔ہندی کے کئی روزناموں نے لکھیم پور معاملے میں جس طرح ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ کی صلاحیتوں کی ستائش پر زیادہ زور دیا ہے،اور مرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے وہ شرمناک ہے۔ اس معاملے میں میڈیا کی جانبداری اور اصل واقعہ پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ واقعہ رونما ہونے کے کچھ دیر بعد ہی حقائق منظر عام پر آگئے تھے۔خود سنیکت کسان مورچہ نے معاملے کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھ دی تھیں۔یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ مرکزی وزیر کے بیٹے نے کسانوں پر گاڑی چڑھا کر انھیں کچلا ہے۔ایسے میں میڈیا کم از کم یہ تو کرہی سکتا تھا کہ کسان تنظیم کے حوالے سے ان کی بات عوام کے سامنے رکھ دیتا،اور اگر اس میں کوئی مسئلہ تھا تو حکومت کا موقف بھی شامل کرلیتا،لیکن خبر نشر کرنے میں تاخیر کا کوئی جواز بہرحال نہیں تھا۔حیرت کی بات ہے کہ اس معاملے کی خبر شام کو تقریباً پانچ بجے عوام کے سامنے آئی۔ اتنا ہی شرمناک یہ بھی ہے کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ نے سچ کی پردہ پوشی کے لیے اقتدار کا جم کر استعمال کیا ہے،اور اس کی ایماء پر پہلے یہ خبر چلائی گئی کہ کسان مظاہرین نے گاڑی پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجے میں یہ واقعہ رونما ہوا۔ایک بڑے ہندی روزنامے نے تو جانبداری کی حد ہی کر دی۔اپنے اگلے دن کی اشاعت میں اس اخبار نے کسانوں کو واقعہ کا مورد الزام قرار دیتے ہوئے شہ سرخی لگائی،”اتر پردیش میں شرپسند کسانوں کا فساد،چھ کی جان گئی۔“

درباری چینلوں کا حال یہ تھا کہ لکھیم پور واقعہ پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ڈرگ معاملے میں شاہ رخ خان کے بیٹے آرین کی گرفتاری کو اس طرح پیش کر رہے تھے کہ گویا ملک کے سامنے دوسرا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔تمام اپوزیشن لیڈروں حتیٰ کہ چھتّیس گڑھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ تک کو لکھیم پور جانے سے روک دیا گیا۔کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو غیر قانونی طور پر پہلے تیس گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا اور بالآخر انھیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔ایسا کس جرم کی بنا پر کیا گیا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔اکھیلیش اور اتر پردیش کے دیگر لیڈروں کو بھی لکھیم پور جانے سے روک دیا گیا۔حالانکہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی ان لیڈروں میں شامل نہیں ہیں۔شائد وہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لڈّو رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔وہ کہہ چکی ہیں کہ اگر سماجوادی پارٹی کو ہرانے کے لیے انھیں بی جے پی کی طرف جانا پڑے تو وہ اس سے گریز نہیں کرینگی۔بہرحال سوال یہ ہے کہ اتر پردیش انتظامیہ اپوزیشن لیڈروں کو آخر کس بنا پر لکھیم پور جانے سے روکتی رہی۔وہ کو ن سا خوف تھا کہ جو اترپردیش کی بی جے پی قیادت کو ستا رہا تھا۔حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ لکھیم پور کھیری میں کسانوں پر کیے گئے ظلم کی داستان سے دنیا بے خبر ہو۔اس معاملے کی گونج یوکے اور کناڈا کی پارلیمنٹ تک میں پہنچی ہے۔عالمی میڈیا نے اس معاملے میں اتر پردیش کی نااہل انتظامیہ اور مرکزکی بی جے پی سرکار کے ایک وزیر کے بیٹے کی فسطائیت وظلم پر سخت تبصرے کیے ہیں۔لیکن یہ سب ضمنی باتیں ہیں اصل سوال یہی ہے کہ اتر پردیش حکومت اس معاملے کو کس لیے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ بعد میں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اور یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اپوزیشن لیڈروں کو لکھیم پور جانے سے روکنے میں حکومت اور بی جے پی کا نقصان زیادہ ہے ان لیڈروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

دراصل اتر پردیش میں آئیندہ برس ہونے والے اسمبلی الیکشن کے حوالے سے بی جے پی کی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔یہ بات طے ہے کہ اگر اتنے برے حالات میں بھی بی جے پی یو پی کا اقتدار بچانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا سبب اس کی مقبولیت نہیں بلکہ اپوزیشن کی نااہلی ہوگی۔لکھیم پور معاملے میں ریاستی حکومت کی بوکھلاہٹ کا سبب یہ ہے کہ مشرقی یو پی میں پارٹی کو اپنی کامیابی کے تعلق سے کافی امیدیں ہیں،لیکن جس طرح لکھیم پور میں مرکزی وزیر کی گاڑی سے چار کسانوں سمیت آٹھ افراد کی موت ہوئی ہے اس نے بی جے پی قیادت کی پریشانی بڑھا دی ہے۔یہ بے سبب نہیں ہے کہ حادثے کے فوراً بعد معاملے کی لیپاپوتی کے لیے ریاستی پولیس سربراہ کو اس کام پر لگایا گیا کہ وہ کسان لیڈر راکیش ٹکیت سے بات کریں اور جہاں تک ممکن ہو ان کے مطالبات کو تسلیم کرکے اپوزیشن کو بیک فوٹ پر دھکیل دیں۔حکومت نے نہ صرف یہ کہ ٹکیت کے کئی مطالبات تسلیم کر لیے بلکہ مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ کے ملزم بیٹے کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی۔یہ الگ بات کہ اسے گرفتار کرنے کی ہمّت تا دم تحریراتر پردیش پولیس نہیں کر سکی ہے۔یہی وہ کمزور کڑی ہے جس نے اپوزیشن پارٹیوں کو ریاستی حکومت اور بی جے پی پر حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو نے شاہجہاں پور میں ایک گرودوارے میں منعقد ایک پروگرام میں بولتے ہوئے سوال کیا کہ قانون بنانے والے وزیر جو قانون اور نظم و نسق کے خود مالک ہیں ان کے بیٹے کو کون گرفتار کریگا؟ حکومت جس طرح سچ کی پردہ پوشی کے لیے اقتدار کا سہارا لے رہی ہے وہ بھی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قانون و آئین کے بھی خلاف ہے۔ ایک طرف تمام اہم اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر لکھیم پور جاکر مہلوک کسانوں کے ورثا سمیت دیگر کسانوں سے مل رہے ہیں تو دوسری طرف حکمراں جماعت کے کسی لیڈر نے بھی لکھیم پور کے مہلوکین کے ورثاء کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔حد تو یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت لکھنؤ آئے۔حسب توقع ووٹروں کو لبھانے کے لیے کئی اعلانات کیے۔کئی بڑے منصوبوں کا اعلان کیا لیکن لکھیم پور جانا تو دور انھوں نے اپنی تقریر میں کسانوں کے لیے ایک لفظ بھی ہمدردی کا نہیں کہا۔ جس طرح اپوزیشن لیڈروں کو پہلے لکھیم پور جانے سے روکا گیا، اور بعد میں دباؤ بڑھنے پر اس کی اجازت دی گئی اس سے حکومت نے خود کو کمزور ہی ثابت کیا ہے۔عوام میں یہ پیغام گیا ہے کہ یہ حکومت اقتدار کی طاقت کا سہارا لیکر کسانوں اور اپوزیشن لیڈروں کو دبانے کی کوشش تو کر سکتی ہے لیکن اس کے پاس وہ حکمت عملی نہیں ہے کہ ایسے مسائل سے پر امن طریقے سے نمٹ سکے اور اپوزیشن کے جارحانہ حملوں کی دھار کو کند کر سکے۔دیگر عوامی مسائل کو لیکر عوام پہلے ہی سے حکومت سے خفا ہیں۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

روی کیاسرام کو امریکی بزنس ایوارڈ۔

qaumikhabrein

امریکی دوا سازکمپنی ماڈرنا کی انسان دشمن پالیسی۔ غریب ملکوں کو کورونا دوا دینے میں آناکانی۔

qaumikhabrein

فلسطین۔ مسجد ابراہیمی میں یہودیوں کی بےہودگی۔مسلمانوں میں غم و غصہ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment