سعودی عرب میں شیعوں کا زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔شیعہ اکثریتی علاقوں میں مسجدوں، مکانوں اور دوکانوں کو آئے دن مسمار کیا جاتا ہے۔ قطیف کے شیعہ اکثریتی علاقے کے باشندوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل کیا جارہا ہے اور شیعہ مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو بے بنیاد الزامات اور بہانوں سے بلڈوزر سے گرایاجا رہا ہے۔
سعودی عرب کی آل سعود حکومت، شیعہ مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی میراث کو بھی تباہ کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت قطیف اور تاروت جزیرے میں واقع لوگوں کے اثاثے اور ملکیت کو قبضے میں لینے میں مصروف ہے۔
آل سعود حکومت نے قطیف کی تقسیم کے فیصلے کے بعد قطیف اور تاروت کو اپنے قبضے میں لینے اور لوگوں کی آمدنی کو کنٹرول کرنے کے لئے یہ کارروائیاں انجام دے رہا ہے۔ شیعہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہیں لی جاتا ہے انکو سرکاری مراعات بھی نصیب نہیں ہیں۔سیکڑوں شیعہ جوان اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والے لیڈر اور علما جیلوں میں بند ہیں۔