qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

”تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے“۔۔سراج نقوی

غالبؔ نے اپنی محبوبہ سے اس کے انداز گفتگو پر بھلے ہی سوال کر لیا ہو لیکن اقتدار کے نشے میں چور بی جے پی لیڈروں سے کسی صحافی کا کوئی سوال کرنا بھی جرم ہے۔مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ اجے مشرا ٹینی نے ایک صحافی کے ساتھ جو سلوک کیا اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے۔یہ وہی اجے مشرا ہیں کہ جن کا بیٹا اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں پر کار چڑھانے کا ملزم ہے، اور جس کے خلاف حکومت کو ایس آئی ٹی کے ذریعہ جانچ کرانے کا حکم دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔
اتر پردیش میں کیونکہ اسمبلی الیکشن قریب ہیں اور بی جے پی کو خطرہ تھا کہ اگر کسانوں پر اجے مشرا کے بیٹے کے ذریعہ مبینہ طور پر گاڑی چڑھانے کے معاملے کو دبایا گیا تو اس کا خمیازہ اسمبلی الیکشن میں بھگتنا پڑ سکتا ہے،لہٰذا ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف ایس آئی ٹی کی جانچ شروع کرا دی گئی۔چند روز پہلے ہی یہ خبر آئی کہ ایس آئی ٹی نے مانا ہے کہ کسانوں پر سازش کے تحت کار چڑھائی گئی۔واضح رہے کہ اس واقعے میں کئی کسانوں کی موت ہو گئی تھی جبکہ کئی کسان زخمی ہوئے تھے۔اس واقعے میں اجے مشرا کے بیٹے کی گرفتاری کے باوجود نہ تو اجے مشرانے اخلاقی بنیاد پر مرکزی وزارت سے استعفیٰ دیا اور نہ ہی مودی حکومت نے مشرا سے ایسا کرنے کے لیے کہا۔بہرحال یہ تو صرف اخلاقیات کا معاملہ ہے اور ایسے کسی معاملے میں بی جے پی قیادت سے کوئی امید رکھنا لاحاصل ہے،ظاہر ہے اجے مشرا کیونکہ کسانوں پر کار چڑھانے کے معاملے میں خود ملزم نہیں اس لیے ان سے استعفے کی توقع صرف اخلاقی بنیاد پر ہی کی جا رہی تھی۔لیکن اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا نے احتجاج کرنے والے کسانوں پر کار چڑھانے کی ہمّت صرف اس لیے کی کہ اس پر اقتدار کا نشہ حاوی تھا۔ ظاہر ہے وہ یہ مان رہا تھا کہ کیونکہ اس کے والد مرکزی حکومت میں امور داخلہ کے وزیر مملکت ہیں اس لیے اس کا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔

شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن معاملہ کسانوں کا تھا اور اسمبلی الیکشن قریب ہونے کے سبب اس معاملے کو دبانا ناممکن تھا،اس لیے ملزم کو گرفتار تو کر لیا گیا،جیل بھی بھیج دیا گیا لیکن اجے مشرا جس طرح سے پورے اتر پردیش میں بی جے پی اعلیٰ قیادت کے ساتھ گھوم رہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسانوں پر کار چڑھانے کے معاملے میں ان کا اور ان کی پارٹی کاموقف کیا ہے۔اسی موقف کا اظہار اجے مشرا نے مذکورہ صحافی کے ساتھ بد زبانی اور بد سلوکی کرتے ہوئے بھی کیا۔ اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کے خلاف چارج شیٹ لگانے کے تعلق سے جب ایک چینل کے صحافی نے ان سے سوال کیا تو نہ صرف بد زبانی پر اتر آئے بلکہ انھوں نے میڈیاپر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے ایک بے قصور یعنی وزیر موصوف کے بیٹے آشیش مشرا کو پھنسایا ہے۔اجے مشرا کا بیٹا بے قصور ہے یا قصوروار اس کا فیصلہ تو بہرحال عدالت میں ہی ہوگا،لیکن جہاں تک ایس آئی ٹی کا معاملہ ہے تو اس نے اپنی جانچ کے پہلے مرحلے میں جو اشارے دیے ہیں ان میں کسانوں پر کار چڑھانے کے واقعے کو سازش بتایا ہے۔اس سازش کے پس پشت کون تھا یہ بھی ایس آئی ٹی کی جانچ رپورٹ کے بعد معلوم ہوگا۔ البتہ یہ بات بھی پہلے ہی صاف ہو چکی ہے کہ جس کار نے کسانوں کو کچلا اس میں وزیر موصوف کا بیٹا بھی تھا۔یہ تمام حقائق جاننے کے باوجود اگر اجے مشرا یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو پھنسایا گیا ہے تو اسے ہٹ دھرمی کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے۔

اجے مشرا کی مذکورہ حرکت نے میڈیا کے اس حلقے میں بھی کھلبلی مچا دی ہے کہ جو دن رات مودی خوانی یا بی جے پی کی نمک حلالی میں مصروف رہتا ہے۔اس پورے معاملے پرروبیکا لیاقت نام کی ٹی وی اینکر نے جب بہار میں بی جے پی کی حلیف پارٹی جنتا دل (یو) کے ترجمان اجے آلوک سے سوال کیا کہ ”ایسے وزیر کو اپنے عہدے پر رہنا چاہیے کہ جو محض سوال پوچھنے پر لوگوں کو دھمکائے“۔اجے آلوک کا جواب تھا کہ،”ایک وزیر رہتے ہوئے انھوں (اجے مشرا)نے جو برتاؤ کیا اسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا۔“جے ڈی یو ترجمان کی اس بات پر روبیکا لیاقت نے پھر سوال کیا کہ ”انھیں کرسی سے ہٹ جانا چاہیے نا؟یہ قابل قبول نہیں ہے تو انھیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔“ اس پر پھر اجے آلوک نے جواب میں کہا ”بالکل“۔حالانکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ”اس کا فیصلہ بی جے پی اعلیٰ کمان کو لینا ہے۔میں کوئی پی ایم نہیں۔“جے ڈی یو ترجمان کا یہ جواب بھی بہت دلچسپ ہے اور اس میں بالواسطہ طور پر بی جے پی کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔یعنی اجے آلوک اور ان کی پارٹی کی رائے ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے طور پر اجے مشرا کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے میڈیا کے نمائیندے کے ساتھ ان کی بد اخلاقی کو دیکھتے ہوئے انھیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔بہرحال جب وزیر موصوف کو بیٹے کے معاملے کو دیکھتے ہوئے بھی ان سے اخلاقی بنیاد پر مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہا گیا تو کسی صحافی کے ساتھ ان کی بد اخلاقی پر مستعفی ہونے کے لیے کہنے کا کیا سوال ہے۔صحافی بیچارے کے ساتھ بد اخلاقی یا اسے مارنے کے لیے دوڑنا بی جے پی قیادت کے لیے شائد کوئی جرم اس لیے نہ ہو کہ پارٹی کے نزدیک صحافیوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ سرکار کا قصیدہ پڑھیں اور کسی وزیر سے کوئی ایسا سوال نہ کریں جو پارٹی یا وزیر کے لیے ناگوار خاطر ہو۔یہی سبب ہے کہ اس پورے معاملے پر سوشل میڈیا میں بھی بحث کا بازار گرم ہے۔

۔ایک ٹویٹر یوزر راج کیسروانی نے نے روبیکا کے مذکورہ شو پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا ہے۔”اگر صحافی اورٹی وی چینل چوتھے ستون کے وقار کو مضبوطی سے بنائے رکھتے تو نیتا جی کی ہمّت نہیں ہوتی۔اب جیسا بویا ہے ویسا ہی کا ٹنا پڑیگا۔“ ایک اور یوزر نے اس معاملے میں روبیکا لیاقت علی پر ہی طنز کیا ہے،اور لکھا ہے ”پورا ملک استعفے کی مانگ کر رہا ہے یہ بات روبیکا جی کو تب یاد آئی جب ان کے صحافی سے بد سلوکی ہوئی۔ورنہ ابھی تک تو ملک صرف کاشی کاشی کر رہا تھا۔“بہرحا ل سرکار کے لیے میڈیا کے بڑے حصّے کی حاشیہ برداری ایک الگ موضوع بحث ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ برسر اقتدار جماعت کے لوگ اقتدار کے نشے میں اس قدر مدہوش ہیں کہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کو بھلا کر کسی گلی محّلے کے غنڈے کی طرح برتاؤ کرنے سے بھی گریز نہیں۔بات صرف اجے مشرا یا ایسے ہی دیگر لیڈروں کی نہیں ہے بلکہ حکومت اور بی جے پی سے وابستہ ذیلی تنظیمیں بھی ظلم و جبر کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ایک طرف بی جے پی قیادت والی مختلف حکومتیں تبدیلی مذہب سے متعلق قانون بنا کر تبدیلی مذہب کرکے مسلمان بننے کے معاملوں میں مسلمانوں کو پھنسانے کے لیے جال تیار کر رہی ہیں تو دسری طرف آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہندو دھرم چھوڑنے والوں کی گھر واپسی کرائی جائیگی۔یعنی تبدیلی مذہب کے معاملے میں دوہرے معیار اپنانے سے بھی حکمراں طبقے کو عار نہیں۔یہ سب باتیں حکمرانوں میں بڑھ رہے اقتدار کے زعم کا ثبوت ہیں۔اجے مشرا کی ایک ٹی وی جرنلسٹ کے ساتھ کی گئی بد سلوکی اور بد زبانی بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

ترک اسلحہ کے معاملے پر ایران کی تجویز اقوام متحدہ میں منظور۔

qaumikhabrein

امروہا۔شیعہ کونسل کی جانب سے جلوس محمدی کا استقبال

qaumikhabrein

دارالعلوم عتیقیہ نقشبندیہ میں انعامی مقابلہ

qaumikhabrein

Leave a Comment