qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

پریاگ راج میں اسکول کی مسلم پرنسپل کے خلاف پولیس نے کیوں درج کیا کیس

مذہبی تہوار فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور میل ملاپ بڑھانے کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ لیکن آجکل اپنے ملک کا ماحول اس قدر تبدیل ہو گیا ہے کہ پست ذہنیت کے لوگ تہوار کی خوشیوں میں بھی رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پریاگ راج (پہلے الہ آباد) میں ایک اسکول کی پرنسپل کے خلاف ایک مقدمہ صرف اس لئے درج کیا گیا ہیکہ اس نے عید کے موقع پر نرسری اور یو کے جی کے بچوں سے عید کی مناسبت سے کپڑے پہن کر عید مبارک کہتے ہوئے بیس سیکنڈ کا ویڈیو بنانے کو کہہ دیا تھا۔ اسکول کی روایت کے مطابق مختلف تہواروں کے موقعوں پر طلبا و طالبات تہوار کی مناسبت سے لباس پہن کر مبارکباد کے پیغامات دیکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مطاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن اس بار عید کےتہوار پر اسکول کی پرنسپل کا اقدام انتہا پسندوں کو ماحول بگاڑ نے کا موقع فراہم کر گیا۔

قصہ پریاگ راج کے نیایہ نگر پبلک اسکول کا ہے۔ اسکول کی پرنسپل بشریٰ مصطفیٰ نے دو مئی کو نرسری اور یو کے جی کے طلبا اور طالبات کو وہاٹس ایپ پر پیغام دیا کہ عید کی مناسبت سے لباس پہن کر عید کی مبارکباد دیتے ہوئے بیس سیکنڈ کا ویڈیو تیار کرکے بھیجیں جسے اسکول کی سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائےگا۔ یہ بات وشو ہندو پریشد کے گو رکشا وبھاگ کے زونل انچارج لال منی تیواری کو اتنی بری لگی کہ انہوں نے کیڑ گنج پولیس اسٹیشن میں اسکول کی پرنسپل کے خلاف مختلف گروپوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور دوسروں کے مزہبی عقائد کی بے حرمتی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرادی۔اسکول کی انتظامیہ پرنسپل کا یہ کہتے ہوئے دفاع کررہی ہے کہ دیوالی، دسہرہ جیسے ہندو تہواروں اور یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر بھی اسی طرح کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ نیایہ نگر پبلک اسکول جھونسی پولیس اسٹیشن کے تحت حویلیا علاقے میں واقع ہے۔ سی بی ایس ای سے الحاق شدہ اس اسکول میں 1,200 سے زیادہ طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔ شکایت پر کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے پرنسپل بشریٰ مصطفیٰ کا بیان ریکارڈ کیا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے انکی منشا کسی کے مذہبی جزبات کو ٹھیس پہونچانے کی تو نہیں تھی۔ بشریٰ مصطفیٰ کا کہنا ہیکہ کہ اس قسم کی سرگرمیوں کا مقصد مساوات کو برقرار رکھنا اور طلبا کو ایک دوسرے کے مزہب اورعقیدے سے آگاہ کرنا ہے ۔پولیس نے پرنسپل کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔

وی ایچ پی لیڈر نے اپنی شکایت میں پرنسپل پر فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والی مسلم خاتون ہونے اور اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جبکہ اسکول کی سیکریٹری سوچترا ورما کو اس پورے معاملے میں سازش کی بو آتی ہے۔ انکا کہنا ہیکہ پرنسپل بشریٰ مصطفیٰ کی محنت کی وجہ سے اسول کا ریزلٹ شاندار رہتا ہے۔ اسکول اور پرنسپل کو بدنام کرنے کے لئے یہ سب ڈرامہ کیا گیا ہے۔ سوچترا ورما کے مطابق پڑوس کے ایک اسکول میں بھی تہواروں پر اسی قسم کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
در اصل معاملہ مسلمان پرنسپل اور مسلمانوں کے ایک تہوار سے جڑا ہوا ہے اس لئے پست ذہنیت کے لوگوں کو معاشرے میں نفرت کازہر گھولنے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔ اگر اس اسکول کی پرنسپل مسلمان نہ ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی۔ دیوالی اور دسہرہ پر بچوں کو اسکولوں کی جانب سے رام چندر جی، کرشن جی اور ہنومان جی کا بھیس بنا کر ویڈیو بنانے کو کہا جاتا ہے لیکن اسکولوں کے مسلم طلبا و طالبات کے والدین نے کبھی ان باتوں پر اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ میل ملاپ کے فروغ کے لئے آگے قدم بڑھایا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں ملک کے ہندو مسلم بھائی چارے کو برباد کرنے کی جو سازشیں رچی گئی ہیں اسکا نتیجہ ہیکہ سماج میں دونوں فرقوں کے درمیان نفرتیں شدید سے شدید ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ آپسی میل ملاپ کو فروغ دینے کی کوششیں تنگ نظر لوگوں کو نفرت پھیلانے والی نظر آرہی ہیں۔

Related posts

ایران پاکستان کے سرحدی علاقے میر جاوہ میں “زائر سرائے آستان قدس رضوی” کا افتتاح

qaumikhabrein

امریکی فوج سعودی عرب میں عسکری تجربہ گاہ قائم کرنے جارہی ہے

qaumikhabrein

سرکردہ صحافی ظفر آغا کو صدمہ۔ اہلیہ کا انتقال۔

qaumikhabrein

Leave a Comment