qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

پاکستانی صحافی ارشد قتل کیس۔ شک کے دائرہ میں سابق فوجی سربراہ باجوا بھی

پاکستان کے بے باک صحافی کو زندگی بھر کے لئے خاموش کرنے کی سازش کی پرتیں دھیرے دھیرے کھلتی جارہی ہیں۔ ارشد شریف کے قتل میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کئی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ اے آر وائی ٹیلی ویزن سے جڑے رہے تحقیقاتی رہورٹر اور صحافی ارشد شریف کے ایک پروگرام سے فوجی حکام اتنے ناراض ہوئے کہ اسے نہ صرف فون پر دھمکیاں دی گئیں بلکہ اسے آئی ایس آئی کے دفتر میں بلا کر بھی دھمکایا گیا۔ اسکا پیچھا کیا گیا۔ جان بچا کر ارشد شریف دوبئی چلے گئے لیکن انہیں وہاں بھی ٹکنے نہیں دیا گیا۔ ارشد شریف کینیا گئے تو انہیں وہاں23 اکتوبر کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ تصدیق ہوئی ہیکہ انہیں قریب سے گولیاں مار کر قتل کرنے سے پہلے بہت اذیتیں دی گئی تھیں۔

سابق فوجی سربراہ قمر باجوا

ارشد شریف کی ماں نے جن 9 افراد پر اپنے بیٹے ارشد شریف کے ظالمانہ قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے ان میں سابق فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا، برگیڈیر شفیق اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بھی شامل ہیں۔ 49 سالہ ارشد شریف کی ماں نے جن افراد کواپنے بیٹے کے قتل کا ذمہ دار بتایا ہے وہ ہیں۔

1 جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ (سابق آرمی چیف )
2 لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم (ڈی جی ائی ایس ائی )
3 میجر جنرل فیصل نصیر (DG C ISI )
4 برگیڈیئر شفیق (ISPR)
5 برگیڈیئر فھیم (سیکٹر انچارج ISI اسلام آباد)
‏6 کرنل رضوان (ایجنٹ ISI )
7کرنل نعمان ( ایجنٹ ISI )
8وقار احمد (کینیا )
9خرم احمد (کینیا)

ارشد شریف کی والدہ کا درخواست میں مزید کہنا ہے کہ عمران خاں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کہ دوران ایک ٹیلی ویزن پروگرام میں ارشد شریف نے فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کی تھی۔ جسکے بعد برگیڈیئر شفیق نے اسے دھمکیاں دیں جنکا تعلق ISPR سے ہے ‏جسے ارشد شریف ‘گنجا شیطان’ کہتے تھے۔ارشد شریف لگاتار اپنی رائے دیتے رہے لیکن جیسے ہی انہوں نے ‘وہ کون تھا’ کا پروگرام کیا اس دن برگیڈیئر فھیم سیکٹر کمانڈر ISI کہ حکم پر کرنل رضوان اور کرنل نعمان نے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں ،ارشد شریف کی والدہ کہتی ہیں کہ ISI کہ یہ ایجنٹ انکے گھر بھی ائے ۔میجر جرنل فیصل نصیر نےارشد شریف کو ISI ہیڈ کوارٹر میں بلا کر دھمکیاں دیں۔

بر گیڈیئر شفیق۔میڈیا کو قابو میں کرنے ذمہ داری ملی ہے۔

ارشد کی ماں کا کہنا ہیکہ ارشد کےخلاف کراچی میں میمن گوٹھ تھانہ میں ایک کیس درج ہوا تھا۔ میمن گوٹھ تھانہ کے تھانیدار نے بتایا کہ ارشد کو ssp ملیر عرفان بہادر نےکراچی ISI کہ دفتر میں جانے کا کہا جہاں پہلے ہی ISI کہ تین ایجنٹ موجود تھے ‏جہنوں نے اسے ارشد شریف کہ خلاف کیس درج کرنے کو کہا تھا۔ اس بات کی تصدیق حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ ارشد شریف کو منصوبہ بند طریقے سے قتل کیا گیا۔۔

ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے لئے اسکے خلاف 16 کیس درج ہوئے۔ 9 اگست کو ارشد نے بتایا کہ کچھ نامعلوم افراد نے اسکا گھر جاتے ہوئے پیچھا کیا تاکہ اسے قتل کرسکیں لیکن وہ بچ گیا اور 10 اگست کو ملک چھوڑ کردبئی چلا گیا لیکن اسے وہاں سے بھی نکلوایا گیا۔
ارشد کی والدہ نے ان تمام ملزمان کے خلاف کیس درج کرنے کی درخواست کی ہے۔ انکا کہنا ہیکہ دفعہ 302 اور دہشت گردی کی دفعہ 7 کے تحت ان تمام 9 افراد کے خلاف کیس درج کیا جائے۔

Related posts

امام موسیٰ کاظم کی شہادت پر مجلس عزاکا اہتمام

qaumikhabrein

عصر حاضرمیں مسلم خواتین کے رول پر کانفرنس

qaumikhabrein

سینٹرل وستا پروجیکٹ 5 مسجدوں کے انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔

qaumikhabrein

Leave a Comment