qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

عزاداروں کا جوگی پورہ تک پیدل سفر۔کیا مناسب اقدام ہے؟

درگاہ عالیہ جوگی پورہ میں سالانہ مجالس ہورہی ہیں۔ ملک بھر کے گوشے گوشے سے مومنین جوق در جوق جوگی پورہ پہونچ رہے ہیں۔ اس درمیان ضلع سنبھل کے قصبہ سرسی سادات سے عزاداروں کا ایک قافلہ جوگی پورہ کے لئے پیدل سفر پر نکلا ہے۔ بظاہر تو عزاداروں کا یہ قدم محمد اور آل محمد کے تئیں عقیدت اور محبت کے جزبات سے لبریز ہے لیکن پورے ملک اور بالخصوص اتر پردیش کے فرقہ وارانہ منافرت سے بھرے ماحول کو دیکھتے ہوئے عزاداروں کا یہ پیدل مارچ مسائل کے کئی محاذ کھولنے کا سبب بن سکتا ہے۔

سرسی سے قافلہ کی روانگی کا منظر

ملک میں مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں۔ ہندو شدت پسند طاقتیں جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے موقعوں کی تلاش میں ہیں۔عزاداروں کے اس قسم کے اقدامات شر پسند عناصر کو موقع فراہم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ سرسی سے جوگی پورہ تک کے پیدل سفر کے دور رس نتائج برامد ہوسکتے ہیں۔ کچھ عزاداروں کا جوگی پورہ تک کا پیدل سفر ملک کے دیگر عزاداروں کے لئے تحریک کا باعث بن سکتا ہے۔ آج جوگی پورہ کی سالانہ مجالس میں شرکت کی غرض سے سرسی سادات سے کچھ مومنین پیدل نکلے ہیں۔ جوگی پورہ کی سالانہ مجالس کے بعد ضلع مظفر نگر کے بگھرہ میں سالانہ مجالس منعقد ہونگی۔ ہو سکتا ہیکہ اتر پردیش یا ملک کے کسی اور شہر سے بگھرہ تک کے پیدل سفر پر عزادار نکل پڑیں۔ آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر بھی سالانہ مجالس کا اہتمام ہوتا ہے۔ کسی علاقہ یا بہت سے علاقوں سے عزاداروں کا قافلہ آگرہ کے لئے پیدل روانہ ہوسکتا ہے۔ حسین ٹیکری سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کبھی نہ کبھی سالانہ مجالس کا سلسلہ رہتا ہے۔ کچھ عزاداروں کے ذریعےجوگی پورہ تک کے پیدل سفر کی طرز پر مستقبل میں پیدل مارچوں کا ایک سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

ایک اور محاذ کھل جائےگا۔

ایک جانب محمد اور آل محمد کے پیغامات کی تشہیر اور تبلیغ کے دو بڑے پلیٹ فارموں مجالس عزا اور مقاصدہ کی محفلوں کے وقار اور تقدس کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ علما ، دانشروں ، شعرا اور مومنین کے ایک گروہ نے مجالس عزا اور مقاصدہ کے محفلوں کی افادیت کو بحال کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ کچھ عزاداروں نے پیدل مارچ کا آغاز کرکے مستقبل کے تعلق سےاندیشوں کو جنم دیدیا ہے۔خطرا یہ ہیکہ حصول ثواب اور محمد اور آل محمد کی محبت میں کی گئی یہ پہل شدت پسند عناصر کو شر پھیلانے اور امن و امان کو غارت کرنے کا موقع نہ فراہم کردے۔

ملک بھر میں مسلمان سکون کے ساتھ سانس نہیں لے پارہے ہیں۔ مسجدوں کے اوپر بھگوا پرچم لہرانے ، ہندو شدت پسندوں کی ہنگامہ آرائی، تلواریں لہرانے اور اشتعال انگیز نعرے بازی روز کا معمول بن گئی ہے۔ مسلمان نظر آنے والوں کو پکڑ کر زبردستی جے شری رام کہلوانے اور انہیں زد و کوب کرنے کا رواج عام ہو چلا ہے۔مسلمانوں کے تہواروں پر ہندو شدت پسندوں کے ہنگامے اور گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ اندیشہ یہ ہیکہ جب عزاداروں کے پیدل مارچوں کا سلسلہ دراز ہوگا تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ عزاداروں کو نشانہ نہیں بنایا جائےگا۔ انکو مشتعل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

یہ بات تو طے ہیکہ عزاداروں کے پیدل مارچ کو پولیس کا تحفظ فراہم نہیں ہوگا۔ بلکہ دیکھا تو یہ جاتا ہیکہ مسلمانوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور انکو مار ڈالنے اور ملک بدر کرنے کی دھمکیاں دی جاتی رہتی ہیں اور موقع پر موجود پولیس اہلکار شر پسندوں کی حرکتوں پرخاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ اسکے بر عکس یہ ہوتا ہیکہ شر پسندوں کی اشتعال انگیزی اور حملوں کے جواب میں جب مسلمان کوئی اقدام کرتے ہیں تو انکو گرفتار کرکے جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور انکے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں۔

ہو سکتا ہیکہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس قسم کے پیدل سفر کو اربعین کے موقع پر نجف سے کربلا تک کے پیدل سفر جیسا قرار دینے کی کوشش کی جائے تو انکو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اولاً نجف سے کربلا تک کی مشی روحانیت کے اعتبار سے معراج کی منزل پر ہے۔ دوسری بات یہ کہ عراق اور ہندستان کے موجودہ حالات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔وہاں داعش دہشت گردوں کےحملوں سے عزاداروں کی حفاظت کے لئے حکومت پختہ انتظامات کرتی ہے۔

فرقہ وارانہ منافرت کے ماحول میں ایک ذمہ دار اور امن پسند شہری ہونے کے ناطے ہمیں یہ چاہئے کہ ہر اس اقدام سے دور رہیں جس سے شر پسند عنا صر کو فتنہ و فساد برپا کرنے کا موقع ملے۔ محمد اور آل محمد سے محبت اور عقیدت کے اظہار کے مواقع اور پلیٹ فارموں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کوئی ایسی نئی پہل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس کا شرارتی عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور نقص امن اور لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ کھڑا ہونے کا اندیشہ ہو۔

Related posts

روس کو اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل سے معطل کردیا گیا۔

qaumikhabrein

ایران کے خلاف اسرائیل کی پالیسیاں ناکام۔ سابق اسرائلی فوجی جنرل کا اعتراف

qaumikhabrein

یوگی حکومت کرتی ہےایک خاص فرقے کے خلاف این ایس اےکا ناجائز استعمال۔

qaumikhabrein

Leave a Comment