qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

مرکزی حکومت نے پہلی تا آٹھویں جماعت کی اقلیتی پری میٹرک اسکالرشپ بند کی۔

اقلیتی طلبا کو ملنے والی تعلیمی اسکالر شپس اچانک بند کردی گئی ہے۔مرکزی حکومت نے ریاست مہاراشٹر کے 10 لاکھ 86 ہزار اقلیتی طبقے کے جماعت پہلی تا آٹھویں طلباء کی اسکالر شپس کی عرضیوں کو مسترد کرنے کی اطلاع نوٹس ذریعے جاری کرکے دی ہے۔

تعلیم کا حق (آر ٹی ای) ایکٹ، 2009 حکومت کو حکم دیتا ہے کہ وہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک ہر بچے کو مفت اور لازمی پرائمری تعلیم فراہم کرے۔ اس کے مطابق، سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی وزارت اور قبائلی امور کی وزارت کی پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت، صرف نویں اور دسویں جماعت میں پڑھنے والے طلباء کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، 2022-23 سے، اقلیتی امور کی وزارت کی پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت کوریج بھی صرف نویں اور دسویں جماعت کے لیے ہوگی۔ ملک بھر میں یہ تعداد 27 لاکھ 45 ہزار 217 ہو سکتی ہے۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی جانب سے مرکزی حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقیات نے اس حکم کو واپس لینے کے لیے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کو میمورنڈم قومی سطح پر دیا گیا ہے،تنظیم کے بانی و قومی جنرل سکریٹری ساجد نثار احمد نے کہا کہ مرکزی حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقی کے جوائنٹ سکریٹری نیوا سنگھ نے 25 اگست 2021 کو تمام ریاستوں کو ایک خط بھیجا اور جماعت اول تا دہم کے اقلیتی طلباء کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ کے لیےفریش و رینول درخواستیں طلب کیں۔ پری میٹرک اقلیتی اسکالرشپ اسکیم کے تحت سال 2021-22۔ ریاست کے مسلم طلبہ کے لیے، فریش 221455، رینیول 383462، عیسائی 1178،2254، سکھ، 781،1071، پارسی 13،23 جین 6777،11806، بودھ 71538،101763 نے ریاست بھر سے عریضے آن لائن داخل کیے تھے۔

اقلیتی زمرہ کے مسلم، بدھ، عیسائی، سکھ، پارسی اور جین مہاراشٹر کے طلباء کے لیے اس اسکالرشپ کے لیے دو لاکھ 85 ہزار 451 تعداد مرکزی حکومت کی جانب سے مختص کی گئی تھی۔اس اسکیم میں 31 اکتوبر تک فریش طلباء کی 3 لاکھ 17 ہزار 42 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ گزشتہ سال 6 لاکھ 68 ہزار 335 طلباء کو وظائف دیے گئے۔ انہیں اس سال ‘تجدید’ کے ذریعے درخواست دینے کی ضرورت تھی۔ اس سال این ایس پی پورٹل پر تجدید کے لیے چھ لاکھ 68 ہزار 335 درخواستیں بھری گئیں۔31 اکتوبر سے 5 نومبر تک کی توسیع کے بعد درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ اس موقع اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کے بانی ساجد نثار احمد نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس فیصلے کو واپس لینا چاہیے، کیونکہ اس سال ریاست میں 10 لاکھ 86 ہزار 176 طلبہ نے درخواستیں دی ہیں، جس سے والدین و اسکولوں کو اخراجات فی طلباء 400 روپے خرچ ہوئے ہیں، جس سے 40 کروڑ خرچ ہو چکے ہیں۔ اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کی کوشش جاری رہے گی۔

Related posts

امروہا۔عشرہ محرم۔ شام غریباں کے مجلسوں کے ساتھ اختتام۔

qaumikhabrein

کون تھے حضرت موسیٰ مبرقع۔؟

qaumikhabrein

ایران۔دیسی طور سے تیار ایک اور کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت۔

qaumikhabrein

Leave a Comment