qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

میرٹھ میں تحت اللفظ مرثیہ خوانی کی مجلسوں کا عشرہ تمام ۔منتخب افراد کو انعام سے نوازہ گیا

تحت اللفظ مرثیہ کی مجلسوں کا عشرہ عزاخانہ چھوٹی کربلا میں اختتام پزیر ہو گیا۔ روایت کے مطابق قرعہ اندازی کے ذریعے بہترین مرثیہ خواں، پیش خواں اور سوز خوان کا انتخاب کیا گیا۔ انہیں انعامات سے نوازہ گیا۔ اس بار تحت اللفظ مرثیہ خواں کو کہنہ مشق شاعر اور خاندانی تحت اللفظ مرثیہ خواں توکل حسین کلیم میرٹھی مرحوم کے نام سے منسوب انعام سے نوازہ گیا۔ جبکہ پیش خوانی کے لئے انعام جمشید رضا مرحوم کے نام سے منسوب تھا۔منبر پر تحت اللفظ مرثیہ خوانی کے لئے اس بار بھی حسنین رضا امروہوی کا نام قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہوا۔حسنین رضا کی عدم موجودگی میں انکی جانب سے یہ انعام معروف شاعر اہل بیت اور تحت اللفظ مرثیہ خواں استاد انور ظہیر انور میرٹھی نے قبول کیا۔

دبیر آغا پیش خوانی کے لئے انعام حاصل کرتے ہوئے۔

جمشید رضا پیش خوانی انعام فخری میرٹھی کے فرزند دبیر آغا کو پیش کیا گیا گیا۔دبیر آغا جمشید رضا مرحوم کے نواسے بھی ہیں۔ جبکہ سوز خوانی کے لئے جس سوز خواں کا نام قرعہ کے ذریعے منتخب ہوا وہ ہیں سہیل کاظم اور انکے ہمنوا۔اس عشرے میں تحت اللفظ مرثیہ خوانی، پیش خوانی اور سوز خوانی کرنے والے تمام افراد کو کسہ نہ کسی انعام سے نوازہ گیا۔

سہیل کاظم اور انکے ہمنوا

گزشتہ برس منبر پرتحت اللفظ مرثیہ خوانی کا انعام توکل حسین کلیم میرٹھی کے بڑے فرزند ،شاعر، صحافی اور تحت اللفظ مرثیہ خواں ضیا عباس نجمی مرحوم کے نام سے منسوب تھا۔ گزشتہ برس یہ انعام حسین رضا امروہوی کو پیش کیا گیا تھا۔
توکل حسین کلیم میرٹھی مرحوم کہنہ مشق شاعر اور تحت اللفظ مرثیہ خوان تھے۔ وہ میرٹھ کے معروف وقف منصبیہ کے بانی حاجی اور ذوار منصب علی خاں مرحوم کے پر پوتے تھے۔ ملازمت کے سلسلے میں میرٹھ سے ہجرت کرکے امروہا میں مقیم ہو گئے تھے۔ توکل حسین مرحوم امروہا کے آئی ایم انٹر کالج میں انگریزی کے لیکچرار تھے۔ محمد توکل حسین، کلیم میرٹھی کے تخلص کے تحت مدح اہل بیت کرتے تھے۔۔

توکل حسین کلیم میرٹھی مرحوم

توکل حسین کلیم میرٹھی کے انتقال کے بعد انکے بڑے فرزند ضیا عباس نجمی نے تحت اللفظ مرثیہ خوانی کی خاندانی روایت کو آگے بڑھایا۔ انکے بعد اس خاندانی روایت کو توکل حسین کلیم میرٹھی کے پوتے اور ضیا عباس نجمی مرحوم کے فرزند شجاع عباس آگے بڑھا رہے ہیں۔

ٰضیا عباس نجمی مرحوم اور انکے فرزند شجاع عباس

میرٹھ کی چھوٹی کربلا میں تحت اللفظ مرثیہ خوانی کا یہ عشرہ بہت قدیم ہے لیکن منتخب ذاکرین کو ایوارڈ سے نوازنے کا سلسلہ چند برس پہلے ہی شروع کیا گیا ہے۔میرٹھ میں تحت اللفظ مرثیہ کا رواج بہت قدیم ہے اور کبھی ذوال پزیر نہیں ہوا۔ مومنین بھی تحت اللفظ مرثیہ خوانی سے محظوظ ہوتے ہیں۔

Related posts

اورنگ آباد میں پروفیسر ارتکاز افضل کے اعزاز میں تہنیتی تقریب

qaumikhabrein

ترک اسلحہ کے معاملے پر ایران کی تجویز اقوام متحدہ میں منظور۔

qaumikhabrein

قرآن کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ کوئی اسکاکچھ نہیں بگاڑسکتا۔ مولانا گلزار جعفری۔

qaumikhabrein

Leave a Comment