qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

میرٹھ  میں بھی عزاداری کا آغاز

محرم کا چاند نظر آتے ہی  دنیا بھر میں نواسہ رسولﷺ  حضرت امام حسینؑ کی عزاداری کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ۔ عزاخانے آراستہ ہو گئے  ہیں۔ علم ایستاد کردئے گئے ہیں ۔ مجالس اور ماتم کا سلسلہ  شروع ہو گیا  ہے ۔ میرٹھ میں بھی عزاداری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

شہر کی مرکزی امام بارگاہ چھوٹی کربلا میں  اس برس عشرہ اول  کی مجلسوں سے خطاب کرنے کے لیے  عالمی شہرت یافتہ عالم  حجت الاسلام مولانا سید وقار احمد رضوی گوپال پوری کو مدعو کیا گیا ہے مولانا سید وقار احمد رضوی  ” ولایت اور دین کی حفاظت ” کے زیر عنوان  مجالس سے خطاب کررہے ہیں۔پہلی مجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ” امام حسینؑ کی عزاداری سنت الہٰی بھی ہے ،  سنت نبوی بھی ہے ،  اور سنت قرآنی بھی ہے ۔ سنت الہٰی اس طرح کہ جب 61 ہجری میں امام کی شہادت ہوئی تو  آسمان سے خون برسا ۔ جگہ جگہ زمین سے تازہ لہو اُبلا ، کئی ملکوں میں دودھ خون  آلود ہو گیا،  پتھر ہٹائے جاتے تھے تو خون اُبلتا تھا ،خدا نے اس طرح لوگوں کو امام حسینؑ  کی  قربانی کی طرف متوجہ کیا ۔ سنت نبوی اس طرح ہے کہ  جب جبرائیلؑ امام حسینؑ کی شہادت کی خبر  لے کر رسولؐ اکرم کے پاس آئے تو آپ نے گریا کیا ، ۔ سنت قرآنی اس لیے ہے کہ اللہ قران میں ارشاد فرماتا ہے کہ اے رسولؐ  لوگوں سے  کہہ دیجے کہ ہم  ان سے  اجر رسالت کے عوض کچھ نہیں چاہتے سوائے اس کے کہ ہمارے قرابت داروں سے مودت اختیار کریں۔ اس  مجلس میں سوزخوانی فیصل علی  نے  کی۔

 وقف منصبیہ کے  تحت گھنٹہ گھر واقع عزاخانہ شاہ کربلا میں عشرے  سے معروف خطیب مولانا مہدی حسن واعظ جلال پوری   خطاب کر رہے ہیں۔  انکا خطاب ” ولایت خدا و اہلیبیت اور ہماری ذمہ داریاں ” کے عنوان کے تحت ہورہا ہے۔ پہلی مجلس  سے  خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ “اگر ہم نے خدا و رسولؐ اور آل رسولؐ کو مولا مانا ہے تو صرف زبان سے مولا کہنا کافی نہیں ہے ہمیں اپنے عمل سے بھی ثابت کرنا ہوگا ” اس مجلس میں  سوز خوانی دانش عابدی نے   کی ۔

شہر کی مختلف امام بارگاہوں امام بارگاہ شائق علی ،امام بارگاہ علی بخش ، امام بارگاہ چھتا علی رضا ، امام بارگاہ عنایت  علی ، امام بارگاہ کریم بخش ،امام بارگاہ مظفر علی موذن ،عزا خانہ ڈاکٹر اقبال  حسین ، امام بارگاہ زاہدیان وغیرہ میں  بھی عشرہ مجالس کا اغاز ہو گیا ہے ۔اسی طرح شہر کے مختلف امام بارگاہوں میں خواتین کی مجلسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔تمام مجالس میں بڑی تعداد میں مومنین شرکت  کرکے  بی بی زہرا کی خدمت میں انکے لال کا پرسہ پیش کررہے ہیں۔امام بارگاہ چھوٹی کربلا میں چاند رات کی مجلس میں دانش عابدی نے سوز خوانی کی اور استاد انور ظہیر انور  میرٹھی تحت اللفظث مرثیہ پیش کیا۔۔

Related posts

امروہا میں شاہ ولایت کی عرس تقریبات کا آغاز

qaumikhabrein

وسیم امروہوی کے کربلائی فن پاروں کو ایرانی سفارتکاروں نے سراہا۔

qaumikhabrein

فرقہ وارانہ تقسیم کا کھیل۔۔تحریر سراج نقوی

qaumikhabrein

Leave a Comment