qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

غفراں مآب نےہندستان میں شیعوں کوتشخص عطا کیا۔

غفراں مآب کی حیات وخدمات پر سیمنارمیں اظہار خیال

آج مزہب تشیع کو اخباریت اور ملنگیت  جیسے  فتنوں سے بچانے کے لئے غفراں مآب کی بصیرت کو عام کرنے اور انکی تصنیفات کو عام لوگوں تک پہونچانے کی  اشد ضرورت ہے۔غفراں مآب نے جس طرح سے اپنے دور میں اخباریت اور منفی تصوف کی بیخ کنی کرنے کے  ساتھ ساتھ تشیع کی تبلیغ و ترویج کی راہ اختیار کی تھی اسی طرح آج تشیع کو جن داخلی خطرات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لئے  علما اور ذاکرین  کوغفراں مآب کے افکار و اعمال  کی پیروی کرنا چاہئے۔ان  خیالات کا اظہار  غفراں مآب کی یاد میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں ایران اور ہندستان کے جید علما نے کیا۔

کانفرنس کا اہتمام  2 اور3 مارچ 2024 کو’نور ہدایت فاونڈیشن لکھنؤ’ کی جانب سے ‘دفتر مکتب فقہی و کلامی  حضرت غفراں مآب” شیش محل  لکھنؤ میں کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کے دوران حضرت غفران مآب کے امتیازات پر علمی مکالمہ اور مباحثہ ہوا۔غفراں مآب کی زندگی کے مختلف پہلؤوں،تشیع کی تبلیغ اور ترویج، تشیع کے خلاف ہونے والےتحریری حملوں   کے مدلل تحریری جواب  کے موضوعات پر علما نے مقالے پیش کئے گئے۔ کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ایران کی المصطفیٰ یونیورسٹی کے ہندستان میں نمائندے  آقائے رضا شاکری،  خانوادہ غفراں مآب کی فرد مولانا کلب جواد، آیت اللہ سیستانی کے ہندستان میں وکیل مولانا اشرف علی غروی، آیت اللہ خامنہ ای کے ہندستان میں نمائندے آقائے مہدی مہدوی پور کے نمائندے مولانا تقی نقوی، مولانا تقی رضا برقعی، مولانا حیدر مہدی کریمی،ڈاکٹر رضا عباس،ڈاکٹر کمال الدین اکبر،مولانا رضا حیدر،مولانا نوید عباس، مولانا سرتاج حیدر سمیت  بڑی تعداد میں علما اور طلاب نے حصہ لیا۔

مقالہ خوانی کے دو اجلاس ہوئے جن میں مقالہ نگاروں نے غفراں مآب کی دینی اور تالیفی خدمات کا مختلف ذاویوں سے جائزہ لیا۔ مولانا تقی رضا برقعی، مولانا حیدر مہدی کریمی،ڈاکٹر رضا عباس،مولانا حیدر رضا، مولانا علی ہاشم،ڈاکٹر فیضان جعفر،مولانا سرتاج حیدر، مولانا نوید عباس اور مولانا اصطفیٰ رضا نے مقالے پیش کئے۔مقالہ نگاروں نےتشیع کے دفاع، فقہ  اور اصول کے موضوعات پر  غفران مآب کی کتابوں اور رسالوں کا جائزہ لیا۔علما نے کہا کہ غفران مآب نے اودھ  میں شیعہ عقائد کی تبلیغ و ترویج کی۔ انہوں نے ایک ہی محاذ  پر  علمی اور فکری جہاد نہیں کیا بلکہ مختلف محاذوں پر نبرد آزمائی کی۔انہوں  نے نہ صرف اخباریت اورمنفی تصوف کے خلاف قلمی جہاد کیا  بلکہ عزائے سید الشہدا میں اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایا۔

سیمنار میں اس اہمیت کو شدت کے ساتھ  محسوس کیا گیا کہ آج تشیع کو جن خطرات کا سامنا ہے ان سے مقابلے کے  لئے غفراں مآب کی عربی اور فارسی میں لکھی کتابوں کا اردو اور ہندی میں ترجمہ کیا جائے تاکہ  عربی اور فارسی سے نا بلد لوگوں کی  حقیقی تشیع کی طرز پر ذہن سازی کی جاسکے۔دوران کانفرنس کتاب،مکتب حضرت غفران مآب ۔ایک تحقیقی جائزہ” کی رسم  اجرا بھی انجام پائی۔

اس دو روزہ کانفرنس کے کنوینر مولانا کلب جواد،پروفیسر علی محمد نقوی اور سید احمد عباس نقوی تھے۔ کانفرنس  کے کامیاب  اور  خوش اسلوبی کے ساتھ انعقاد کا سہرا مولانا مصطفیٰ حسین اسیف جائسی اور مولانا عادل فراز کے سر رہا۔

Related posts

حالات مزید بگاڑنے سے باز رہے اسرائیل۔ او آئی سی قرارداد میں اسرائیل کو کیا گیا خبردار۔

qaumikhabrein

جنت البقیع میں دعائے کمیل کی تلاوت کی گونج

qaumikhabrein

ایران۔ بحری جہاز کے بعد تیل ریفائنری میں بھیانک آتش زدگی۔

qaumikhabrein

Leave a Comment