qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

مجالس عزا اور مقاصدہ کی محفلوں کا تقدس بحال کرنے کی مہم

مجالس عزا اور مقاصدہ کی محفلوں کی افادیت اور تقدس کو بحال کرنے کی ایک مہم شروع کی گئی ہے۔ شیعت کے فروغ کے موثر پلیٹ فارموں کو موجودہ دور میں جس انداز سے برباد کیا جارہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے اس مہم کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ دور حاضر میں شیعت کو درپیش خطرات سے مقابلے کے لئے یہ مہم ‘تنظیم المکاتب’ کے سیکریٹری مولانا صفی حیدر اور جونپور کے عالم دین مولانا صفدر حسین نے شروع کی ہے۔ ‘تقاضائے منبر اور سلیقہ تبلیغ’ اور ‘دور حاضر میں شیعت کو درپیش خطرات سے مقابلے’ کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ مولانا سید غلام عسکری مرحوم کی برسی کے موقع پر لکھنؤ میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں کیا گیا تھا۔اس مہم کو ‘احترام منبر مہم ‘کا نام دیا گیا ہے لیکن مولانا صفی حیدر اور مولانا صفدر حسین کا کہنا ہیکہ یہ مہم صرف خطبا اور ذاکرین سے مخصوص نہیں ہے بلکہ شعرا، نوحہ خوانان، سوز خوانان،صاحباب بیاض، بانیان مجالس ، جلوسہائے عزا کے منتظمین اور مقا صدہ کی محفلوں کے بانیاں بھی اسکا حصہ ہیں۔

جونپور میں علما کے ساتھ تبادلہ خیال

اس مہم کے تحت مولانا صفی حیدر اور مولانا صفدر حسین24 اپریل سے مختلف شہروں اور قصبوں کے دورے پر ہیں اورمختلف شعبہائے حیات سے منسلک شیعوں سے ملاقاتیں کرکے مجالس عزا کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے سلسلے میں تجاویز اور مشورے حاصل کررہے ہیں۔

جونپور میں مومنین کے ساتھ گفتگو

اب تک دونوں حضرات، جونپور، لکھنؤ، دہلی، میرٹھ، دھولڑی، امروہا، نوگانواں سادات، پھندیڑی سادات، جوگی پورہ اور چتوڑہ جیسے مقامات پر مومنین سے ملاقات کرکے مہم کی حکمت عملی اور اسکے نفاذ کے سلسلے میں گفتگو کر چکے ہیں۔

امروہا میں مومنین کے ساتھ میٹنگ

ان میٹںگس میں منبروں اور محافل کے ناجائز استعمال اور تبلیغ کے ان پلیٹ فارموں کی بربادی کے تعلق سے عزاداروں کے دلوں کا درد اور تڑپ ابھر کر آرہی ہے۔مومنین کی جانب سے مختلف قسم کی تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ ان ذاکروں اور شعرا کو مدعو نا کئے جانے کی تجویز پیش کی گئی جو عزا داری اور عزاداروں کو انکے مقصد سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن اور احادیث کی غلط تاولیں کرتے ہیں۔ مولانا صفی حیدر اور مولانا صفدر حسین کا ارادہ ملک بھر کے ان علاقوں کا دورہ کرنے کا ہے جہاں شیعوں کی اچھی خاصی آبادی ہے۔

اسی مہم کے تحت ذاکروں اور شعرا کے کیمپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کیمپوں کے ذریعے ذاکرین اور شعرا کی ذہن سازی کی جائےگی۔ انہیں انکے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائےگا۔ ذاکرین کا دس روزہ کیمپ 16 مئی سے 26مئی کے درمیان لکھنؤ میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام منعقد کیا جارہا ہے۔ اس کیمپ میں مرد و خواتین دونوں کی تربیت کا بندو بست کیا جائےگا۔خواہش مند مرد و خواتین کو آمد و رفت کے اخراجات خود برداشت کرنا ہونگے جبکہ انکے قیام اور طعام کی ذمہ داری منتظمین کے کندھوں پر ہوگی۔

گزشتہ کچھ برسوں میں ملنگیت۔ اخباریت اور طالبانیت نے بہت سر ابھارا ہے۔شیعوں کا شیرازہ منتشر کرنے کے لئے ہر دو تین برس میں کوئی نیا فتنہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ کبھی نماز اور عزاداری کو آپس میں ٹکرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی تشہد میں مولا علی کے نام کا قضیہ اٹھایا جاتا ہے۔ کہیں علم ، تعزیہ اورجلوس عزا کو سبک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی مجالس عزا کے تبرک کو فضول خرچی بتا کر اسکی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی مرجعیت کے خلاف محاز آرائی کی جا تی ہے اور مراجع اکرام کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔ کبھی عید کے روز مولا علی کا دسواں بتا کر سیاہ لباس پہننے کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ مجالس عزا کے پلیٹ فارم کو غارت کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ شیعت میں گھسی ان کالی بھیڑوں کے ذریعے مقاصدہ کی محفلوں کے تقدس کو بھی پامال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ محفلوں میں فضائل اہل بیت کی جگہ بھونڈے اور پھوہڑ قسم کے تبرائی اشعار کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ گلے بازی کرنے والے شعرا محفلوں کی کامیابی کے ضامن بن گئے ہیں۔محفلوں میں داد بٹورنے کے لئے شعرا عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔ بعض شعرا بھانڈوں اور مسخروں کی طرح تڑک بھڑک اور شوخ رنگوں کے لباس پہنے نظر آتے ہیں۔انکے اشعار میں آئمہ اطہار کی منقبت کم اور منقست زیادہ ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہیکہ محمد اور آل محمد کے فضائل اور انکی تعلیمات کی تبلیغ، تشہیر اور فروغ کے موثر پلیٹ فارموں کو برباد کردیا گیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔محفلوں کا تقدس داؤ پر

Related posts

بنتے بگڑتے محاذوں کی سیاست۔۔۔تحریر۔سراج نقوی

qaumikhabrein

وزیر اعظم مودی کے بنگلہ دیش دورے کے موقع پر احتجاج

qaumikhabrein

ہندستان چھوڑ کردوسرے ملکوں میں کیوں بس رہے ہیں لوگ

qaumikhabrein

Leave a Comment