qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

کسان مہا پنچایت کا سیاسی پیغام۔۔۔تحریر سراج نقوی

اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر میں چند روز قبل ہوئی کسان مہا پنچایت کے تعلق سے مختلف دعوے سامنے آرہے ہیں۔درباری میڈیا پنچایت میں آئے کسانوں کی تعدا د کو لیکراپنا کھیل کھیلنے اور یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ جس مظفرنگر کی آبادی محض پانچ لاکھ ہو،اور جس کالج کے میدان میں صرف بیس ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہو،وہاں کئی لاکھ کا مجمع کیسے سماسکتا ہے۔دوسری طرف کسان لیڈر وں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ میدان سے لیکر چالیس کلو میٹر دور تک جام لگا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پنچایت کے شرکاء میلوں دور تک پھیلے ہوئے تھے۔بہرحال مہا پنچایت میں بیس لاکھ مظاہرین شامل تھے یا دو تین لاکھ یہ غیر ضروری اور لا حاصل بحث ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ یہ پنچایت کسانوں کو متحد کرنے میں کس حد تک کامیاب رہی۔ایک اور اہم بات یہ کہ اس مہا پنچایت نے مغربی اتر پردیش خصوصاً ضلع مظفر نگر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی۔یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ کئی دہائیوں سے علاقے میں شیر و شکر ہو کر رہتے آئے ہندو اور مسلمان اگر اس مہا پنچایت کے پلیٹ فارم پر متحد نظر آئے تو اس کا سیاسی پیغام کیا ہے۔

مظفر نگر فسادات کا ایک منظر۔تصویر شکریہ دی ٹیلیگراف

واضح رہے کہ سن 2013میں مظفر نگر میں مذکورہ دونوں فرقوں کے درمیان بھیانک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ان فسادات نے مظفر نگر میں رہنے والے جاٹ برادری کے لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر دی تھی کہ اسی کا سہارا لے کر فرقہ پرست طاقتیں اتر پردیش کی سیاسی جنگ جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔بی جے پی اور سنگھ پریوار پر الزام ہے کہ انہوں نے ان فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے میں بڑا رول ادا کیا اور اسی کے سہارے مظفرنگر میں بھگوا پرچم لہرانے میں کامیاب بھی ہوئی۔
الزام سماجوادی پارٹی پر بھی ہے کہ اس کی حکومت نے ان فسادات کو روکنے اور فرقہ پرست طاقتوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے معاملے میں اپنے حکومتی فرائض ادانہیں کیے،اور فرقہ پرستوں کی حرکتوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل جسے مغربی اتر پردیش کے مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی حمایت ملتی رہی ہے اس نے بھی اپنے جاٹ ووٹروں کو سمجھانے میں کوئی ٹھوس رول ادا نہیں کیا۔ان فسادات کے مہنوں بعد تک اس علاقے کے جو حالات رہے انھیں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔رشتوں میں یہ بگاڑ چند ماہ پہلے تک جاری تھا کہ اسی دوران مودی حکومت کے ذریعہ تین زرعی قوانین پیش کرنے کے خلاف جب کسانوں نے اپنی آواز بلند کی تو مغربی اتر پردیش کا یہ علاقہ بھی کسانوں کے احتجاج کا مرکز بن گیا۔سب سے اہم بات یہ ہوئی کسان لیڈروں نے مسلمانوں کی طرف بھی صلح کے ہاتھ بڑھائے اور کسانوں کے جلسے کے اسٹیج پر ہی راشٹریہ لوک دل کے جینت چودھری ہی نہیں ٹکیت نے بھی اپنے والد مہندرسنگھ ٹکیت کے قریبی مسلمان دوست کے پاؤ ں چھوکر کسانوں کی تحریک سے انھیں بھی جوڑنے کی کوشش کی۔اس کا واضح سبب یہ تھا کہ مغربی اتر پردیش میں مسلمان بھی بڑی تعدا دمیں زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور وہ بھی زرعی قوانین کے خلاف ہیں۔لیکن اس کا دوسرا اور شائد زیادہ اہم پہلو یہ رہا کہ اس بہانے دشمنی میں مبتلا مغربی اتر پردیش کے ہندو اور مسلمان بھی گلے شکوے بھلا کر متحد ہو گئے۔دراصل گذشتہ چند برسوں میں مرکز کی مودی حکومت اور یوگی کی ریاستی حکومت کی پالیسیاں دیکھ کر اس طبقے کا ایک بڑا حصّہ بھی ان کے خلاف ہو گیا ہے کہ جس نے گذشتہ انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔عوام کی سمجھ میں آہستہ آہستہ یہ بات بھی آگئی ہے کہ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے لیے ہی انھیں آپس میں لڑوانے کا کام کیا۔یہی وجہ ہے کہ جب کسانوں کی تحریک شروع ہو ئی اور مظفر نگر کے ہندو و مسلمان ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آئے تو اس کا پورے اتر پردیش کے سمجھدار طبقے میں ایک مثبت پیغام گیا۔

مظفر نگر میں چند روز قبل منعقد ہوئی کسانوں کی مہاپنچایت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ممکن ہے کہ سرپھرے اور فرقہ پرست مہاپنچایت کے اسٹیج پر لگے نعرہ تکبیر،اللہ ہواکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعروں کو زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان نعروں کے پس پشت جو سیاسی پیغام پوشیدہ ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس لیے کہ اس پیغام سے بی جے پی کے سیاسی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ایسے بہت سے لوگ ہیں کہ جن کی پیشانی پر ان نعروں کے سبب بل پڑے ہیں،لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نعرے صرف کسان مہاپنچایت کے اسٹیج تک ہی محدود نہیں رہینگے اور ان کی آواز پوری ریاست میں پہنچیگی۔ریاستی اسمبلی کے گذشتہ انتخابات کے نتائج پر نگاہ ڈالیے تو یہ واضح ہو جائیگا کہ مغربی اتر پردیش کی کسان بیلٹ نے بی جے پی کو پارلیمانی اور ریاستی اسمبلی کا الیکشن جتانے میں بڑا رول ادا کیا تھا۔ہندو اور مسلمان ان انتخابات میں ایک دوسرے سے دور ہی رہے اور ان کے ووٹوں کی تقسیم بھی ہوئی۔راشٹریہ لوک دل جو کسانوں اور خصوصاً جاٹوں کی پارٹی کہلاتی ہے اس کے امیدواروں کو بھی ان انتخابات میں اس لیے شکست فاش کا منھ دیکھنا پڑا تھا کہ ایک بڑی آبادی کو ہندوتو کے نام پر نفرت کی سیاست کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا،لیکن اب کسانوں کے تعلق سے مرکزی اور ریاستی حکومت کی پالیسیوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ حکومت کے لیے چند بڑے صنعتکاروں کے مفادات زیادہ عزیز ہیں اور وہ کسانوں کی محنت کی کمائی کو بھی ان صنعتکاروں کی جیب میں ڈالنے کے لیے بے قرار ہے۔اس بے قراری کے اسباب کو سمجھنا مشکل نہیں ہے،لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ چند صنعتکاروں کے مفادات کے لیے کسانوں کے مفادات کو گروی رکھنے والے کسانوں کی اس حمایت سے اب محروم ہو گئے جس کے سبب وہ گذشتہ چند برسوں سے انتخابات میں فتح حاصل کرتے رہے ہیں۔ان انتخابات میں ای وی ایم مشین کے رول پر بحث ایک الگ موضوع ہے،لیکن ان مشینوں کی موجودگی کے باوجود اتر پردیش میں کسانوں کی بی جے پی کو ماضی قریب میں ملی حمایت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اب یہی کسان بی جے پی کے خلاف صف آرا ہو کر اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں اس کا کھیل بگاڑ سکتے ہیں۔حالانکہ ریاست کی اپوزیشن پارٹیاں جس راہ پر پر چل رہی ہیں اس کے سبب بی جے پی کو ووٹوں کی تقسیم کے سہارے اپنی سیاسی کشتی پار لگنے کی امید ہے،لیکن اگر مغربی اتر پردیش کی بات کریں تو یہاں کسان فیکٹر انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔

ریاست میں بڑھ رہی انتخابی سرگرمیوں میں تمام پارٹیوں نے بی جے پی کے خلاف مورچہ بندی بھی شروع کر دی ہے۔چند روز قبل ایودھیا سمیت مشرقی اتر پردیش کے کئی علاقوں کا کامیاب دورہ کرکے مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں۔سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اس وقت جیل میں ہیں لیکن ان کی اہلیہ نے جیل سے اسد الدین کو لکھا گیا ان کا خط مجلس سربراہ کے جلسے میں پڑھ کر اور مجلس کا دامن تھامنے کا اعلان کرکے ریاست کے مسلمانوں کو ایک الگ پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔دوسری طرف کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی بھی کافی سرگرم نظر آتی ہیں،لیکن جہاں تک مغربی اتر پردیش کا تعلق تو یہاں کسانوں کا کسی پارٹی کی طر ف جھکاؤ ہی انتخابات کا رخ طے کریگا۔کسان مہاپنچایت سے اس کے اشارے ملنے بھی شروع ہو گئے ہیں،دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی اس صورتحال کا کس طرح مقابلہ کرتی ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

ونڈوز-11 بازار میں آنے سے پہلے ہی ہیکنگ کا شکار۔

qaumikhabrein

سوشل میڈیا پر وزیر اعظم مودی مزاح کا موضوع

qaumikhabrein

خطے میں کشیدگی کم کرنے کا معاملہ۔۔۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان گفتگو

qaumikhabrein

Leave a Comment