qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

رجیجو صاحب یہ مشورہ ہے یا ہدایت؟۔۔سراج نقوی

مرکزی حکومت اور اس کے وزیر قانون کرن رجیجو شائد یہ مان بیٹھے ہیں کہ عدلیہ ان کے ماتحت ہے، یاپھر عدلیہ کو حکومت کے مشوروں کو لازمی طور پر قبول کر لینا چاہیے۔راجیہ سبھا میں ’بین الاقوامی ثالثی مرکز(ترمیمی)بل پیش کرتے ہوئے رجیجو نے جو کچھ کہا اس سے تو کم از کم یہی تاثر پیدا ہوتا ہے۔
مذکورہ بل پر بولتے ہوئے وزیر قانون کی ذہنی رو اچانک سپریم کورٹ کی طرف چلی گئی،اور انھوں نے عدالت عظمیٰ کو یہ مشورہ دے ڈالا کہ،ایسے وقت میں کہ جب ڈھیروں معاملے زیر التواء ہوں تو سپریم کورٹ جیسے آئینی اداروں کو ضمانت کی عرضیوں اور بے تکی مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت نہیں کرنی چاہیے۔انھوں نے اس سلسلے میں یہ وضاحت بھی کی کہ،”میں نے ہندوستان کی سپریم کورٹ کولیکر نیک نیتی سے کچھ تبصرے کیے ہیں۔سپریم کورٹ کو دیے گئے بن مانگے کے مشورے میں رجیجو نے یہ بھی کہا کہ اگر عدالت بے تکی مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کرتی ہے تو اس سے عدالت پربہت زیادہ بوجھ بڑھ جائیگا۔“

یہ کہنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ وزیر قانون کے اس مشورے پر کیا رد عمل ظاہر کرتا ہے،لیکن اگر بے تکی مفاد عامہ کی عرضیوں کی بات چھو دیں تو ضمانت کی عرضیوں کی سماعت کے تعلق سے تو یہ سوال بالکل واجب ہے کہ کیا حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس کی جانچ ایجنسیاں یا پولیس جن لوگوں کو ملزم بنا کرا نھیں مہینوں اور برسوں تک جیل میں ڈالے رکھتی ہے سپریم کورٹ کو بھی ایسے ملزمان کے بنیادی حقوق سے چشم پوشی کر لینی چاہیے،اور ان کی جائز فریاد کو بھی ان سنا کر دینا چاہیے؟شائد وزیر قانو ن یا موجودہ حکومت اس بات سے پریشان ہے کہ جن لوگوں کو وہ جرم ثابت ہوئے بغیربرسوں تک جیل میں ڈال کر ان کے لیے رہائی کے تمام دروازے بند کرنے اور عدالتی سزا سے قبل ہی انھیں سزا دینے کا کھیل کھیلتی رہی ہے اس میں سپریم کورٹ کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے کئی ایسے معاملوں کے ملزمان کو ضمانت دی ہے جو جانچ ایجنسیوں کی غیر ضروری مخالفت یا لاپرواہی کے سبب برسوں سے جیل میں رہ کر حکمرانوں کا ظلم و ستم سہنے کے لیے مجبور تھے۔ ایسے کئی معاملوں میں استغاثہ یعنی مرکزی یا ریاستی حکومت کی تمام تر مخالفت کے باوجود سپریم کورٹ نے ملزمان کو ضمانت دے کر حکمرانوں یا پولیس و جانچ ایجنسیوں کی منمانی پر روک لگائی ہے۔ظاہر ہے تمام آئینی اداروں کو اپنے زیر نگیں کرنے کا خواب دیکھنے والے اس صورتحال کو اپنی آمریت کے لیے چیلنج تصور کرتے ہیں۔کسی بھی ملزم کا ضمانت طلب کرنا اور اس سلسلے میں ملزم کے دلائل کی سماعت کرنا عدالت کا فرض ہے،بغیر کسی معقول سبب کے کوئی بھی عدالت ضمانت عرضی کی سماعت کے بغیرا سے مسترد نہیں کر سکتی۔سپریم کورٹ خصوصاً کیونکہ ہمارے آئین کا محافظ بھی ہے اس لیے وہ ملک کے تمام ان شہریوں کی امید کی آخری کرن بھی ہے کہ جو پولیس یا جانچ ایجنسیوں کی کی کارروائی کانشانہ بن کر حصول انصاف کے بنیادی حق سے محروم کر دیے گئے ہوں یا نچلی عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہو۔لیکن وزیر قانون کا عدالت کو مشورہ ہے کہ کام کے بوجھ کے مد نظر وہ شہریوں کے اس حق کو نظر انداز کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی سماعت سے گریز کرے۔دراصل حکومت چاہتی ہے کہ اس کے یا موجودہ نظام کے ذریعہ ستائے گئے لوگوں کے لیے انصاف کے سب سے بڑے ایوان یعنی سپریم کورٹ کا دروازہ بھی بند کر دیاجائے۔یہ جمہوریت کے پردے میں آمریت کے کھیل کا ہی ایک پہلو ہے۔حکمراں عدلیہ کی ذمہ داری بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔کالیجیم کے سلسلے میں وزیر قانون کے کئی بیانات اس کا ثبوت ہیں۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے۔

راجیہ سبھا میں کی گئی تقریر میں کرن رجیجو نے یہ بھی کہا کہ،’ہم بہتر بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لیے پیسہ دیتے ہیں،مدد کرتے ہیں،لیکن ہمیں عدلیہ سے اس بات کو بھی یقینی بنانے کے لیے کہنا ہوگا کہ صرف اہل لوگوں کو ہی انصاف ملے۔’کرن رجیجو کا مسئلہ یہ ہے کہ قانون کی ایک ڈگری لیکر وہ خود کو سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوئے ماہرین قانون سے بھی زیادہ قانون داں سمجھ بیٹھے ہیں۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے شائد اسی لیے کرن رجیجو کی مشورہ نما ہدایت پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ،’کیا وہ(رجیجو)آزادی کا مطلب بھی جانتے ہیں؟کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تواری نے جسٹس کرشنا اءّیر کے ایک مضمون ’جیل نہیں ضمانت اصول ہے۔‘کا حوالہ دیتے ہوئے رجیجو کے قانونی شعور پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔انھوں نے سوال کیا ہے کہ ‘کوئی وزیر قانون یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کو ضمانت کی درخواستوں پر سماعت نہیں کرنی چاہیے۔’دراصل رجیجو کا مذکورہ موقف صرف ان کا ذاتی موقف نہیں بلکہ اس بھگوا ٹولے کا بھی موقف ہے جو اپنے ایجنڈے کی راہ میں حائل کسی بھی ادارے کو،خواہ وہ سپریم کورٹ ہی کیوں نہ ہو اپنا تابع فرمان دیکھنا چاہتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف حکومت اپنی خود مختاری اور آزادی کے ساتھ فیصلے لینے کے لیے تمام بے تکے دلائل پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی اور دوسری طرف دیگر جمہوری اداروں کی آزادی و خود مختاری سلب کرنے کے لیے بے قرار ہے۔
کرن رجیجو کا یہ مشورہ یا ہدایت بھی مضحکہ خیز ہے کہ،’ہمیں عدالت سے اس بات کویقینی بنانے کے لیے کہنا ہوگا کہ،”صرف اہل لوگوں کو ہی انصاف ملے۔“”کہنا ہوگا“کا فقرہ وزیر موصوف کی بطور وزیر قانون اپنے برتر ہونے کی غلط فہمی کا ہی ثبوت ہے۔ہماری تاریخ میں شائد ہی کوئی ایسا وزیر قانون گزرا ہو کہ جس نے سپریم کورٹ سے اس لہجے میں خطاب کرنے کی غیر سنجیدہ جسارت کی ہو۔دوسری بات یہ کہ اس بات کا فیصلہ کون کریگا کہ وہ اہل لوگ کون ہیں کہ جنھیں رجیجو کے مشورے کے مطابق انصاف ملنا چاہیے اور وہ نااہل کون ہیں کہ جنھیں حصول انصاف سے محروم کر دیا جانا چاہیے۔کیا وزیر موصوف یہ چاہتے ہیں کہ ایسے اہل اور نااہل لوگوں کی فہرست بھی حکومت سپریم کوٹ کو مہیا کرائے اور اسی کے مطابق عدالت کو فیصلے صادر کرنے پر مجبور کر دیا جائے؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ اب تک کے مشاہدے کے مطابق موجودہ حکمراں اور پولیس و جانچ ایجنسیوں کا روال اپوزیشن یا حکومت مخالف افراد کے معاملے میں قطعی غیر منصفانہ رہا ہے۔اس بات کی بے شمار نظیریں موجود ہیں کہ جب کئی ایک جیسے معاملوں میں پولیس،ایجنسیوں اور حکومت ہی نہیں بلکہ نچلی سطح کی عدالتوں نے بھی غیر مساوی رویہ اختیار کیا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت چاہتی ہے کہ صرف اپنے ہم نواؤں کے مفادات کا تحفظ کرے اور مخالفین کو حصول انصاف سے بھی محروم کردے۔ یہی معاملہ ”بے تکی“ عرضیوں کی سماعت نہ کرنے کا بھی ہے۔ملک بھر کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ بھی ایسی عرضیوں کو اپنی صوابدید کے مطابق خارج کرتی رہتی ہیں کہ جنھیں وہ بے تکا سمجھتی ہیں۔ایسے کچھ معاملوں میں تو عرضی گزاروں پر جرمانہ تک کیا گیا ہے۔بے شمار معاملوں میں خود سپریم کورٹ نے ایسی عرضیوں پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور انھیں عدالت کا وقت برباد کرنے والی بتا کر عرضی گزاروں کو تنبیہہ کی ہے۔اس کے باوجود اگر وزیر قانون سپریم کورٹ کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اسے ”بے تکی“ عرضیوں کی سماعت نہیں کرنی چاہیے تو اسے یاتو ان کی لا علمی کہا جائیگا یا پھر یہ کہ ان کی نگاہ میں ”بے تکی“ عرضیوں کا پیمانہ سپریم کورٹ سے الگ ہے۔یہ پیمانہ حکومت یا حکمراں جماعت کے حامیوں اور خیر خواہوں کے معیار کے مطابق تو ہو سکتا ہے لیکن جس عدالت کے کاندھے پر ملک بھر کے تما شہریوں کے آئینی حقوق اور آئین کے تحفظ کی بھی ذمہ داری ہو اس کے لیے بھی مناسب ہو یہ ضروری نہیں۔اس لیے کہ حکومتیں بدلنے کے ساتھ حکومت کی کچھ پالیسیاں بدلی جا سکتی ہیں لیکن عدلیہ ان پالیسیوں کے مطابق فیصلے کرنے کی پابند نہیں ہو سکتی۔اسی لیے رجیجو کا مشورہ یا ہدایت سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داریوں اور اس کے فرائض سے متصادم نظر آتی ہے،اور اس کا کوئی آئینی یا قانونی جواز نہیں ہے۔

sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:9811602330

Related posts

امروہا میں ادبی شام موسی رضا نقوی کے نام

qaumikhabrein

لاوئے پورہ سرینگر میں ملی ٹنٹنوں کاسی آر پی ایف پارٹی پر حملہ ۔دو اہلکار ہلاک ۔دوزخمی

qaumikhabrein

واشنگٹن، تل ابیب اور محمود عباس کے مابین خفیہ گٹھ جوڑ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment