qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگجموں و کشمیرقومی و عالمی خبریں

‘ عید نوروز اور کشمیریت’ کے عنوان پر سیمینار

شمالی کشمیر ضلع بارہمولہ کے میرگنڈ پٹن میں جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کے زیر اہتمام ‘ عید نوروز اور کشمیریت’ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔سیمینار میں مختلف علماء کرام کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ علماء اور دانشوروں نے نوروز اور دیگر ثقافتی اور تہذیبی تہواروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سیمنار سے جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی نے بھی خطاب کیا ۔انھوں نے کہا کہ نوروز شیعہ مسلک کا ایک اہم تہذیبی تہوار ہے جس طرح کشمیری پنڈتوں کے لئے مہاشیوراتری اور سکھوں کے لئے بسنت کا تہوار ہے۔دنیا میں صرف کشمیر ہی ایسی جگہ ہے جہاں مدت سے نوروز اور شیوراتری بلا تفریق مذہب وملت منایا جاتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں سلامی اور دعوت کےلئے بھی جاتے تھے۔
مگر بدقسمتی سے١٩٩٠ کے بعد اس ثقافتی میل جول کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔جس سے کچھ حد تک ہمارے بھائی چارے، محبت اور ثقافت کو نقصان پہنچا۔

چیئرمین رضوی نے مزید کہا کہ تہواروں میں خوشیوں کے بجائے صف ماتم بچھائی گئی اور جوانوں کو قتل کیا گیا۔ کشمیری پنڈت جن کی علم وفن اور تہذیب پر بڑی دسترس حاصل تھی ان کےکچھ لوگ قتل ہوئے اور باقی ہجرت کرنے پر مجبور ہو ۓ۔اور جنہوں نے ہجرت کی وہ اپنی جائیدادوں کو یہیں کشمیر میں چھوڑ کے چلے گئے ۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایک اور عالم مولوی غلام حسن نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی شیعہ طبقے کے لوگوں کو سال میں سینکڑوں کی تعداد میں قتل کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں پشاور میں ساٹھ سے زائد شیعوں کو شہید کیا گیا۔ اس سے بڑھکر کیا گناہ ہو سکتا ہے کہ جہاں عبادت میں مشغول لوگوں کو قتل کیا جائے ۔

اعجاز مصطفیٰ نے کہا کہ جے کے پیپلز جسٹس فرنٹ کی کاوشیں یہی ہیں کہ وادی کشمیر میں وہ پرانی تہذیب زندہ ہو اور لوگ پھر سے امن وامان اور بھائی چارے سے رہ سکیں تاکہ کشمیر پھر وہی جنت نظیر اور لوگوں اور دنیا کے لئے مشعل راہ بنے۔

Related posts

یوکرین تنازعہ ۔ ترکی نے جنگی جہازوں کیلئے اہم سمندری گزرگاہوں کو بند کردیا

qaumikhabrein

کسانوں کے احتجاج کی آواز اقوام متحدہ تک پہونچی

qaumikhabrein

اسکولی اوقات میں مدارس جانے کی وجہ سے طلبہ کی تعداد میں کمی۔ اورنگ آباد ایجوکیشن آفیسر کا عجیب دعویٰ

qaumikhabrein

Leave a Comment