qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

کلب جواد نے کیا بی جے پی سے شیعہ ووٹوں کا سودہ

2024 کے عام انتخابات ابھی تو کافی دور ہیں لیکن ووٹوں کے سوداگر سرگرم ہو گئے ہیں۔12 مارچ2023 کو لکھنؤ میں ہونے والا شیعوں کا جلسہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 12 مارچ2023 کے لکھنؤ کے جلسے کی کال مولانا کلب جواد نے دی ہے۔ مولانا کلب جواد کی بی جے پی لیڈروں اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی سے قربت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ کلب جواد دہلی اور لکھنؤ میں بی جے پی لیڈروں کے دربار میں اکثر حاضری لگاتے رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی سے قربت کا ہی نتیجہ ہیکہ رشتے میں انکے داماد علی زیدی یو پی شیعہ وقف بورڈ کے چئیر مین کی کرسی پر بیٹھے رشوت کے نوٹ گن رہے ہیں۔

12 مارچ کے جلسے کے سلسلے میں کلب جواد نے باقاعدہ ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے شیعوں سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے لکھنؤ کے بڑے امام باڑے میں جمع ہونے کی اپیل کی۔ کلب جواد کے بیان میں کئی ایسی باتیں سننے کو ملیں جو عقل سے بعید ہیں۔ جیسے کہ حکومت کے علم میں شیعوں کی آبادی کا نہیں ہونا۔ ایک طرف انہوں نے بات پورے ملک کے شیعوں کی طاقت کی۔ کی اور جلسے میں شرکت کی اپیل صرف اتر پردیش کے شیعوں سے کی ۔کلب جواد نے کہا کہ انکی یاد میں لکھنؤ کا بڑا امام بڑا لوگوں سے آجتک بھرا نہیں ہے اسلئے شیعوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کر نے کے لئے اتنی بڑی تعداد میں لکھنؤ پہونچنا چاہئے جس سے بڑا امام باڑہ بھر جائے۔ کلب جواد کی نظر میں شیعوں کی طاقت کا معیار بڑے امام باڑے کا بھر جانا ہے۔

جہاں تک ملک میں شیعوں کی آبادی کی بات ہے تو حکومت کے پاس مردم شماری کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ حکومت کو ہر مذہب کے ماننے والوں، ہر ذات برادری اور ہرفرقے سے تعلق رکھنے والوں اور ہر زبان بولنے والوں کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ایک محدود اندازے کے مطابق2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں شیعوں کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا تین سے چار فیصد کے درمیان ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ملک میں سکھوں اور شیعوں کی آبادی لگ بھگ برابر برابر ہے۔

۔ویڈیو پیغام میں کلب جواد نے ووٹوں کی طاقت کی بات کہہ کر شیعوں کے ووٹوں کی سودے بازی کے اپنے منصوبے کا اشارہ بھی دیدیا۔ کلب جواد خود کو ملک کے شیعوں کا تن تنہا نمائندہ سمجھ بیٹھے ہیں۔وہ ملک کے شیعوں کے خود ساختہ لیڈر ہیں۔ان سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ آخر کس بوتے پر وہ خود کو شیعوں کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ملک کے شیعوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی کے لئے کون سا قابل ذکر کارنامہ انجام دیا ہے۔ مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مسلکوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارہ قائم کرنے کے لئے انہوں نے کون سا عملی اقدام کیا ہے۔انکو تو شیعہ اوقاف کے علاوہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں ہے۔ کلب جواد جب بھی منہ کھولتے ہیں یا تو اوقاف کی بات کرتے ہیں یا مودی اور یوگی حکومت کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں۔ کلب جواد کی نظر میں اتر پردیش کےشیعہ اوقاف کا معاملہ ہی شیعوں کی بےروزگاری، تعلیمی پسنماندگی، سیاسی نمائندگی کی کمی اور معاشی بد حالی کا حل ہے۔

کلب جواد دعوا کرتے ہیں کہ مودی اور یوگی کے راج میں مسلمان زیادہ محفوظ ہیں ۔ جب وہ بے شرمی کے ساتھ یہ دعوا کرتے ہیں تب کیا انہیں یہ نہیں معلوم ہیکہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ملک بھرمیں کتنے مسلم نوجوانوں کو گو رکشکوں نے بے دردی سے مارڈالا۔ کتنے مسلمانوں کو جے شری رام کا نعرہ نہیں لگانے کے جرم میں زد و کوب کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ معمولی خطاؤں کے جرم میں کتنے مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا کر مسمار کردیا گیا۔ بابری مسجد کے بعد مودی اور یوگی کے راج میں کتنی مسجدوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ملک میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے اور کلب جواد یہ فرماتے ہیں کہ مودی اور یوگی جی کے راج میں مسلمان زیادہ محفوظ ہیں۔

کلب جواد اسی مسلم دشمن حکومت سے شیعوں کے ووٹوں کا سودا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔12 مارچ کا جلسسہ بی جے پی کی اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہے جو اس نے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے تیار کی ہے۔ بی جے پی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہیکہ عید کے بعد اتر پردیش کے مختلف مسلم اکثریتی علاقوں میں کانفرنسیز کی جائیں گی۔ مسلمانوں کی قربت حاصل کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی کا اشارہ یو پی بی جے پی کے اقلیتی مورچے کے ریاستی صدر کنور باسط علی نےدیا ہے۔مغربی اتر پردیش میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے ۔ان سے قربت بڑھانے کے لئے عید کے بعدچنندہ لوک سبھا حلقوں میں بی جے پی کانفرنسیز کرائے گی۔ اس سلسلے کی پہلی کانفرنس مظر نگر میں ہوگی۔ اسٹیج پر جاٹ راجپوت،تیاگی اور مسلم لیڈروں کو یکجا کیا جائےگا اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی جائے گی کہ جاٹوں راجپوتوں،تیاگیوں اور مسلمانوں کا اتحاد کا بھائی چارہ ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔کانفرنسوں کے ذریعے جاٹوں راجپوتوں،تیاگیوں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی جائےگی۔ یہ بھی بتایا جائے گا کہ وزیر اعظم کی رہائشی اسکیم، بیت الخلا تعمیری اسکیم اور مفت اناج تقسیم کی اسکیموں سے مسلمانوں کو بھی فائدہ پہونچ رہا ہے۔

2019میں بی جے کی کامیابی کا جشن مناتے کلب جواد

بی جے پی اقلیتی مورچے کی جانب سے عام مسلمانوں تک پہونچنے کی کوشش کی جائےگی اور شیعوں کو پارٹی سے جوڑنے کے لئے بی جے پی کلب جواد کو استعمال کرنے جارہی ہے۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہیکہ شیعوں کو پارٹی کے قریب لانے کے لئے بی جے پی لیڈر شپ نے کلب جواد سے کئی وعدے کئے ہیں۔ ان میں کچھ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی سربراہی اور ایم ایل سی کی سیٹ جیسے وعدے شامل ہیں۔اتر پردیش کی کابینہ میں کلب جواد کے قریبی کو شامل کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

Related posts

ایران اور حزب اللہ سے متعلق تیرہ شخصیات اور کمپنیوں پر امریکی پابندی۔

qaumikhabrein

شوگر کے مریض رمضان میں احتیاط سے کام لیں۔

qaumikhabrein

حالات سے گھبرانے کے بجائے ہر مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ غورکریں.. مولانا سید عدیل رضا

qaumikhabrein

Leave a Comment