qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

معذوروں کے حقوق کے تعلق سے عدالت کا تاریخی فیصلہ

ملک میں جسمانی طور سے معذور افراد کے تعلق سے لوگوں کا رویہ بڑا غیر انسانی اور غیر ہمدردانہ ہے۔ معاشرے میں بھی معذور لوگوں کو برابری کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ بہت ہوا تو انہیں رحم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سرکاری نیم سرکاری اور نجی ادارے بھی معذوروں کو انکا حق دینے میں آنا کانی کرتے ہیں۔ بیمہ کمپنیوں کو بس اپنے منافع کی فکر رہتی ہے۔ معذوروں کے تعلق سے وہ قوانین اور ضابطوں کو طاق پر رکھے ہوئے ہیں۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں معذور افراد کی تعداد 26.80 ملین ہے۔ جو ملک کی مجموعی آبادی کا 2.21 فیصد ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہیکہ نہ معاشرے اور نہ سرکار نے انکی خصوصی ضروریات کا خیال رکھا اور نہ انہیں زندگی کے عام دھارے کا حصہ بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔معذوروں کو سب سے زیادہ نظر انداز جس شعبے میں کیا جاتا ہے وہ ہے بیمہ سیکٹر۔ ملک کی بیمہ کمپنیاں معذور افراد کو ہیلتھ کور دینے سے صاف انکار کردیتی ہیں۔معذور فرد کتنا ہی صحت مند اور طبی لحاظ سے کتنا ہی چوکس کیوں نہ ہو بیمہ کمپنیوں کے پاس اسکے لئےکوئی پالیسی نہیں ہے۔ جبکہ معذور اور غیر معذور کے درمیان امتیاز نہیں برتے جانے کے تعلق سے قوانین بھی وجود ہیں اور بین الاقوامی ظابطے بھی۔ بیمنہ کمپنیوں کی اس غیر اخلاقی حرکت کو انشورنس ریگو لیٹری اینڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا(IRDAI) کی شہ ملی ہوئی ہے۔ IRDAI سرکاری ادارہ ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں ادا کرتا ہے بلکہ مالی کمپنیوں کے سہولت کار کے طور پر کام کرتا نظر آتا ہے۔ جسکی وجہ سے سماج کا یہ طبقہ سماجی انصاف سے محروم رہتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ جج۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ(تصویر بشکریہ لائو لا)

میڈیا بھی بے حسی اور غیر ہمدردی کے اسی دھارے میں بہہ رہا ہے اسی لئے اس نے 13 دسمبر 2022 کے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نظر انداز کیا جو معذوروں کے حقوق کے تعلق سے تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ سال 2022 جاتے جاتے ملک کے معذوروں کو انکے بنیادی حقوق اس عدالتی فیصلے کی صورت میں دے گیا۔ یہ عدالتی فیصلہ معذوروں کا معیار زندگی بہتر کرنے میں بہت معاون ثابت ہونے وا لا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ان 26.80 ملین افراد کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے جنہیں اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بارے میں جاننے سے پہلے اس کیس کے پس منظر میں جانا ضروری ہے۔ قصہ ہے سوربھ شکلا نامی شخص کا جو انویسٹمنٹ انالسٹ اور کنسلٹنٹ کے طور پر شاندار زندگی گزار رہے تھے لیکن سن 2011 نے انکی زندگی ایک حادثے نے بدل کر رکھ دی۔ حادثے نے 26 سالہ سوربھ کی ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہونچایا ۔انکے جسمانی اعضا ایسے ناکارہ ہوئے کہ انکا وجود وہیل چیئر تک سمٹ کر رہ گیا۔وہ پوری طرح معذور ہو کر رہ گئے۔ حادثے سے پہلے کبھی انہوں نے اسپتال کا منہہ تک نہیں دیکھا تھا ۔انہوں نے کسی بیمہ کمپنی سے کوئی ہیلتھ کور نہیں لیا تھا۔ تین برس کے علاج کے بعد سوربھ کی مالی حالت کمزور ہو گئی ۔ طبی اخراجات کو دیکھتے ہوئے سوربھ اور انکے والد نے بیمہ کمپنیوں سے رابطہ قائم کیا۔ لیکن درجنوں سرکاری اور نجی کمپنیوں کے دفتروں کے چکر کاٹنے پر انہیں انکار ہی سننے کو ملا۔ کوئی بیمہ کمپنی سوربھ کو ہیلتھ کور دینے کو تیار نہیں ہوئی۔ بیمہ کمپنیوں کے اہلکار یہ سنتے ہی کہ سوربھ معزور ہیں کوئی پالیسی دینے سے صاف انکار کر دیتے تھے۔ انکی صحت کا اسٹیٹس جاننے کے لئے کمپنیاں میڈیکل ٹیسٹ تک کرانے کو تیار نہیں تھیں۔ سوربھ نے محکمہ معذورین کے چیف کمشنر کے یہاں شکایت درج کرائی۔ انہوں نے پوسٹ مین کا سا برتاؤ کرتے ہوئے وہ شکایت IRDAI کو فارورڈ کردی۔IRDAI نے بھی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور اس شکایت کو بیمہ کمپنیوں کے پاس بھیج دیا۔ بیمہ کمپنیوں نے وہی جواب IRDAI کو بھی دیدیا جو وہ پہلے سوربھ کو دے چکی تھیں۔IRDAI نے وہ جواب سوربھ کو فارورڈ کردیا۔ بیمہ کمپنیاں پالیسی جاری کرتے وقت اپنے مالی فائدے کا پہلو دھیان میں رکھتی ہیں۔ بیمہ کمپنیاں 2016 اور 2020 کے ضابطوں کو پوری طرح نظر انداز کر دیتی ہیں جو معذوروں کو ہیلتھ کور مہیا کرانے کے تعلق سے ہیں۔

جسمانی طور سے معذور سوربھ نے ہار نہیں مانی اور انہوں نے اپنے حق کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹ کھٹا دیا۔انہوں نے 2019 میں ہیلتھ کور دینے سے بیمہ کمپیوں کے انکار اور سرکاری ایجنسیوں کے عدم تعاون کے رویہ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کردی۔ عدالت میں سوربھ کی پیروی این کے آر لا آفیس دہلی کے سدارتھ ناتھ نے کی۔ سوربھ کے کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتیبھا سنگھ نے جو جامع فیصلہ سنایا اس نے فریقین کے لئے کسی اپیل کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔
معذوروںن کی صحت کی دیکھ بھال کے حقوق پر جسٹس پرتیبھا سنگھ کے تاریخ ساز فیصلہ کے مطابق صحت اور صحت کی دیکھ بھال کے حقوق میں معذور اور غیرمعذور افراد میں کوئی کمی بیشی نہی ہے۔ معذور افراد بھی غیر معذور افراد کی ہی طرح ہیلتھ کور کے مستحق ہیں۔معذوروں کو پی ڈبلو ڈی جیسے قوانین اور UN Convention on Disabilities کے تحت صحت بیمہ کا حق حاصل ہے۔ ہندستان UN Convention on Disabilities پر دستخط کر چکا ہے۔عدالت کے مطابق جہاں تک معذوروں کی صحت بیمہ کا تعلق ہے تو انکی آمدنی اور سماجی رتبے کو دیکھے بغیر انکے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جا سکتا۔ بیمہ کمپنیوں کوایسی پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں جنکی مدد سے معذور افراد بھی ہیلتھ کوریج حاصل کر سکیں۔ معذوروں کے تعلق سے بیمہ کمپنیوں کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس پرتیبھا سنگھ نے کہا کہ معذوری بیمہ کے معاملے میں امتیاز کی بنیاد نہیں بن سکتی۔عدالت نے بیمہ کمپنیوں کو انکی سماجی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلایا۔ عدالت نے کہا کہ بیمہ کمپنیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ تمام فیصلے محض مالی فائدوں کی خاطر ہی کریں۔اگر بیمہ کمپنیاں محض مالی فائدے کو ہی دھیان میں رکھیں گی تو ان افراد کے ساتھ شدیدنا انصافی ہو گی جنہیں ان پالیسیوں کی سخت ضرورت ہے۔ عدالت نے بیمہ کمپنیو ں کے ساتھ ساتھ IRDAI جیسی سرکاری ایجنسی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ۔ عدالت نے کہا کہ IRDAI خود 2016 اور 2020 میں ضابطہ وضع کر چکی ہے جسکے تحت بیمہ کمپنیوں کو معذوروں، ایڈز مریضوں اور ذہنی بیماروں کو ہیلتھ انشورنس پالیسی مہیا کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ IRDAI کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ 2016 اور 2020 کے ضابطوں پر عمل درامد ہورہا ہے۔سوربھ کے کیس کے تعلق سے عدالت نےIRDAI کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مسئلے کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں اور انشورنس کمپنیوں کا دفاع کیا۔
عدالت نے دو فریق بیمہ کمپنیوں کو سوربھ کی درخواست پر پھر سے غور کرنے اور اسے ہیلتھ کور مہیا کرانے کی ہدایت دی۔ یہی نہیں بلکہ عدالت نے IRDAI کو بھی ہدایت دی کہ معذورین اور دیگر محروم طبقات کے افراد کو موزوں پالیسیاں مہیا کرانے کے تعلق سے تمام بیمہ کمپنیوں کی ایک میٹنگ طلب کرے اور جلد از جلد ہیلتھ پالیسیاں متعارف کرے۔

دہلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ دو فیصد سے زیادہ کی آبادی کے لئے گیم چینجر ہے۔ اس سے لاکھوں معذور افراد کی صحت کی دیکھ بھال ممکن ہوگی بلکہ تمام بیمہ کمپنیوں کو اب معذوروں کے لئے صحت بیمہ پالیسیاں وضع کرنا ہونگی۔ عدالتی فیصلے نے سرکاری ایجنسیوں کو بھی یہ احساس دلایا کہ سماجی ذمہ داریوں کے تئیں انکی بے حسی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

Related posts

ڈاکٹر مولانا شہوار امروہوی کی قلمی سرگرمیاں

qaumikhabrein

زہر کی کھیتی کر رہا ہے ’حاشیہ بردار میڈیا‘۔۔۔ سراج نقوی

qaumikhabrein

جنگ زدہ یوکرین میں چیک پوسٹ پر فوجی نے گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کردی

qaumikhabrein

Leave a Comment