qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امام زادے کے حرم کا حملہ آور وہابی تکفیری تھا۔

ایران کےباخبر سیکورٹی ذرائع نے شیراز میں حرم حضرت شاہ چراغ م پر ہونے والے دہشت گردانہ واقعہ کے سلسلے میں کہا: ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس دہشت گردانہ حملے کا مرتکب وہابی تکفیری تھا۔
ذرائع کے مطابق ان وہابی تکفیری ایجنٹوں نے ایران میں موجود حالیہ بد امنی اور فسادات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس دہشت گردانہ حملے کو انجام دیا ہے۔

تصویر بشکریہAP

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، دہشت گرد حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔ دہشت گرد تنطیم نے اپنے ٹیلی گرام چینلز کے ذریعے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ شیراز میں حضرت شاہ چراغ کے مزار میں نمازیوں پر فائرنگ اس تنظیم کے ایک رکن نے کی۔

تصویر۔بشکریہ WANA

در ایں اثنا شیراز کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ خبروں میں بہت سی غلط معلومات دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک سے زیادہ حملہ آور نہیںتھا جو حرم میں داخل ہوا اور اسے گولی مار دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی عوام کو شہداء کی شناخت معلوم ہو جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور کی عمر تقریباً 23 سال ہے جسکا نام حامد بدخشان ہے اور ابھی تک کی تفتیش سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی پڑوسی ملک سے ایران میں داخل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پس پردہ عناصر کا بھی تعاقب کر رہے ہیں اور مصمم عزم کے ساتھ اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے اور حملہ آور کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات بھی حاصل کر لی ہیں۔ شیراز کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم تحقیقات کریں گے اور بعد میں اعلان کریں گے کہ حملے کے ملوث افراد اور اس کے پس پردہ عناصر کون تھے۔
اس دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 20 ہو چکی ہے۔ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

Related posts

اردو جرنلزم میں پی جی کورس میں داخلے کی آخری تاریخ دس جولائی

qaumikhabrein

ہم عاشق حسین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کردار عبداللہ مطیع جیسا ہے۔ فکر انگیز تحریر

qaumikhabrein

ظفر یاب جلانی کو ہوا برین ہیمریج۔ اسپتال میں داخل۔

qaumikhabrein

Leave a Comment