qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

کون تھے حضرت موسیٰ مبرقع۔؟

ہم صرف امام تقی جواد علیہ السلام کے فرزند امام علی نقی ہادی علیہ السلام کے بارے میں ہی جانتے ہیں لیکن امام تقی جواد علیہ السلام کے ایک فرزند اور تھے جو امام علی النقی علیہ اسلام سے چھوٹے تھے وہ حضرت موسیٰ مبرقع کے نام سے مشہور ہیں۔ انکا مزار ایران کے مقدس شہر قم میں ہے۔ موسیٰ المبرقع ان تمام سیدوں کے جد ہیں جو اپنے نام کے ساتھ امام رضا علیہ السلام سے نسبت کی وجہ سے رضوی لکھتے ہیں۔موسیٰ مبرقع اپنے دور کی نیک ترین اور با مروت شخصیت کے طور پر مشہور تھے۔ وہ نہایت وجیح اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ انکے والد بزرگوار امام تقی جواد علیہ السلام انکو بغیر برقع کے گھر سے باہر نہیں جانے دیتے تھے۔ اسی لئے انکو موسیٰ مبرقع کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔
موسیٰ مبرقع اپنے بھائی امام علی نقی الہادی علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور فقہی معاملوں میں ان سے مشورہ کرتے تھے۔255 ہجری بمطابق 868/869 سن میں 38 برس کی عمر میں انہوں نے مدینہ چھوڑ دیا تھا اور کوفہ آگئے تھے۔ سن 256 ہجری میں کوفہ سے قم کا سفر اختیار کیا۔ علما کا کہنا ہیکہ موسیٰ مبرقع پہلے رضوی سید ہیں جنہوں نے قم کی سرزمین پر قدم رنجہ کیا۔ لیکن جب وہ قم میں داخل ہوئے تو وہاں کے عربوں نے یہ پسند نہیں کیا اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس سے دلبرداشتہ ہوکر حضرت موسیٰ مبرقع کو قم کو چھوڑنا پڑا اور وہ شہر کاشان تشریف لے گئے۔اہل کاشان نے انکا پرجوش طریقے سے استقبال کیا۔

کاشان کا حکمراں اس وقت احمد بن عبدالعزیز بن ذلاف عجلی تھا۔ وہ بھی انکی کاشان آمد سے بہت خوش ہوا او اس نے انکی خدمت میں تحائف بھیجے اور یہ سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا۔ جب امام تقی جواد کے کچھ محب قم آئے اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ مبرقع کے ساتھ اہل قم نے اچھا سلوک نہیں کیا تو انہوں نے لوگوں کو بہت برا بھلا کہا۔ لوگ بہت شرمندہ ہوئے اور کچھ لوگوں کاایک گروپ کاشان بھیجا گیا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے حضرت موسیٰ مبرقع سے معافی مانگی بلکہ ان سے قم آنے کے لئے اصرار کیا۔ موسیٰ مبرقع نے انکی معافی اور دعوت کو قبول کیا۔ جب امام زادہ قم تشریف لائے تو انکے لئے اہل قم نے ایک نہایت شاندار مکان کا بندوبست کیا اور انکی خدمت میں 20.000 درہم کا نزرانہ پیش کیا۔ اسکے بعد حضرت موسیٰ مبرقع زندگی بھر قم میں ہی مقیم رہے۔ انہوں نے اپنی بہنوں کو بھی وہیں بلوا لیا تھا۔

حضرت موسیٰ مبرقع 296 ہجری کی 22 ربیع الاخر کو 79 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں قم کے چہل اختراں قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا۔انکی نماز جنازہ قم کے امیر عباس بن عمر غنوی نے پڑھائی۔انکی بہنوں کی قبریں فاطمہ بنت موسیٰ کی قبر مبارک کے پاس ہیں۔ انکو معصومہ قم بھی کہا جاتا ہے۔ فاطمہ بنت موسیٰ معصومہ قم آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام کی بہن ہیں اورساتویں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی ہیں۔
(کالم نگار نعیم نقوی کے سفر نامہ ایران سے اقتباس)

Related posts

غیر پر لانے کو ایمان کہاں سے لاؤں

qaumikhabrein

مولانا آزاد کالج میں تقسیم اسناد کی تقریب

qaumikhabrein

مسلم معاشرے کوشادی کی بیجا رسومات سے بچانے کی کوشش۔

qaumikhabrein

Leave a Comment