qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

صلح کے ذریعے مسلمانوں کومحفوظ کرنے والےامام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

منصب: شیعوں کے دوسرے امام
نام: حسنؑ بن علیؑ
کنیت: ابو محمد
القاب: سید، تقی، طیب، زکی، سبط
ولادت: 15 رمضان، سنہ 3 ہجری
جائے ولادت: مدینہ
مدت امامت: 10 سال (40-50ھ)
شہادت: 28 صفر، 50 ہجری
عمر مبارک: 48 سال
سبب شہادت: جعدہ کے زہر سے مسموم
مدفن: بقیع، مدینہ
رہائش: مدینہ، کوفہ
والد ماجد: امام علی
والدہ ماجدہ: حضرت فاطمہ
ازواج: ام بشیر، خولہ، ام اسحق، حفصہ، ہند، جعدہ
اولاد: زید، ام الحسن، ام الحسین، حسن، عمرو، قاسم، عبداللہ، عبدالرحمن، حسین، طلحہ، فاطمہ، ام عبداللہ، ام سلمہ، رقیہ

حسن بن علی بن ابی طالب (3-50ھ) امام حسن مجتبیؑ کے نام سے مشہور شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ حضرت علیؑ اور حضرت زہراؑ کے پہلے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔ آپ کی امامت کا دورانیہ دس سال (40-50ھ) پر محیط ہے۔ آپ تقریبا 7 مہینے تک خلافت کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اہل سنت آپ کو خلفائے راشدین میں آخری خلیفہ مانتے ہیں۔
تاریخی شواہد کی بنا پر پیغمبر اکرمؐ نےآپ کا اسم گرامی “حسن” رکھا اور حضورؐ آپ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے 7 سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔
خلیفہ دوم کی طرف سے خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں آپ بطور گواہ حاضر تھے۔۔ امام علیؑ کی خلافت کے دروان آپ اپنے والد گرامی کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں اسلامی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے۔

21 رمضان 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن تقریبا 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ کی بیعت کیں۔ معاویہ نے آپ کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور شام سے لشکر لے کر عراق کی طرف روانہ ہوا۔ امام حسنؑ نے عبید اللہ بن عباس کی سربراہی میں ایک لشکر معاویہ کی طرف بھیجا اور آپؑ خود ایک گروہ کے ساتھ ساباط کی طرف روانہ ہوئے۔ معاویہ نے امام حسن کے سپاہیوں کے درمیان مختلف غلط فہمیاں پھیلا کر صلح کیلئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ ایک خارجی نے حملہ بھی کیا جس کے نتیجے میں آپؑ زخمی ہوئے اور علاج کیلئے آپ کو مدائن لے جایا گیا۔ اسی دوران کوفہ کے بعض سرکردگان نے معاویہ کو خط لکھا جس میں امامؑ کو گرفتار کر کے معاویہ کے حوالے کرنے یا آپ کو شہید کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ معاویہ نے کوفہ والوں کے یہ خطوط بھی امامؑ کی طرف بھیجےاور آپ صلح کی پیشکش کی۔ امام حسنؑ نے وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے اور خلافت کو معاویہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ معاویہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوگا، اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے کا اور تمام لوگوں خاص کر شیعیان علیؑ کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گااور منبروں سے امام علی پر ہونے والے سب و شتم کو روکا جائےگا۔ لیکن صلح کے بعد معاویہ نے مذکورہ شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ معاویہ کے ساتھ صلح کی وجہ سے بعض شیعہ آپ سے ناراض ہوگئے یہاں تک کہ بعض نے آپ کو “مذلّ المؤمنین” (مؤمنین کو خوار و ذلیل کرنے والا) تک کہا۔
صلح کے بعد آپ سنہ 41ھ کو مدینہ واپس آئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی طور پر بھی مقام و منزلت کے حامل تھے۔

معاویہ نے جب اپنےشرابی بیٹے یزید کی بعنوان ولیعہد بیعت لینے کا ارادہ کیا تو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ کیلئے سو دینار بھیجا تاکہ وہ امام کو زہر دے کر شہید کردے۔ کہتے ہیں کہ آپؑ زہر سے مسموم ہونے کے 40 دن بعد شہید ہوئے۔ ایک قول کی بنا پر آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفنائے جانے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اور امام حسن کے جنازے پر تیر برسائے گئے۔ جسکے بعد آپ کو بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔
امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کسا کے چوتھے رکن ہیں جن کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے ۔ امام حسن آیہ اطعام، آیہ مودت اور آیہ مباہلہ کے بھی مصداق ہیں۔
آپ نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دفعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں دیدیا۔ آپ کو “کریم اہل بیت” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 دفعہ پیدل حج ادا کیا۔
آپؑ کی احادیث اور مکتوبات اور آپ کے 138 راویوں کا نام مسند الامام المجتبیؑ نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔

نام، کنیت اور القاب
۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن بن علی بن ابی‌ طالب امام علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے سب سے بڑے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔
آپ کا نسب بنی‌ہاشم اور قریش تک منتہی ہوتا ہے
“حَسَن” عربی زبان میں نیک اور اچھائی کے معنی میں آتا ہے اور یہ نام پیغمبر اکرمؐ نے آپ کیلئے انتخاب کیا تھا۔
بعض احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے یہ نام آپ کیلئے خدا کے حکم سے رکھا تھا۔
“حسن” اور “حسین” عبرانی زبان کے لفظ “شَبَّر” اور “شَبیر”(یا شَبّیر)،کے ہم معنی ہیں شبر اور شبیر حضرت ہارون کے بیٹوں کے نام ہیں۔اسلام میں حتی کہ عربی میں اس سے پہلے ان الفاظ کے ذریعے کسی کا نام نہیں رکھا گیا تھا۔
آپؑ کی کنیت “ابومحمد” اور “ابوالقاسم” ہیں۔آپ کے القاب میں مجتبی(برگزیدہ)، سَیّد(سردار) اور زَکیّ(پاکیزہ) مشہور ہیں۔
آپ کے بعض القاب امام حسینؑ کے ساتھ مشترک ہیں جن میں “سیّد شباب اہل الجنۃ”، “ریحانۃ نبیّ اللہ” اور “سبط” ہیں۔
پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں یوں آیا ہے: “حسن” اسباط میں سے ایک ہے”۔آیات و روایات کی رو سے “سبط” اس امام اور نَقیب کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کی نسل اور خدا کی طرف سے منتخب ہو۔

امامت
حسنؑ بن علیؑ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپؑ 21رمضان سنہ 40ہجری کو اپنے والد ماجد امام علیؑ کی شہادت کے بعد امامت کے عہدے پر فائز ہوئے اور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔
شیخ کلینی(متوفی 329ھ) نے اپنی کتاب کافی میں امام حسنؑ کو منصب امامت پر نصب کئے جانے سے مربوط احادیث کو جمع کیا ہے۔ان روایات میں سے ایک کے مطابق امام علیؑ نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی اولاد اور شیعہ بزرگان کے سامنے اس کتاب اور تلوار کو اپنے فرزند ارجمند امام حسنؑ کو عطا فرمایا جو امامت کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اپنے بعد آپ کے فرزند “حسن بن علیؑ” کو اپنا جانیشن اور وصی مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک اور حدیث کے مطابق امام علیؑ نے کوفہ تشریف لے جانے سے پہلے امامت کی مذکورہ نشانیوں کو ام سلمہ کے حوالے فرمایا جسے امام حسنؑ نے کوفہ سے واپسی پر ام سلمہ سے اپنی تحویل میں لیا تھا۔ شیخ مفید (متوفی 413ھ) نے اپنی کتاب ارشاد میں یوں تحریر کیا ہے کہ حسن بن علیؑ ان کی خاندان میں اپنے والد ماجد امام علیؑ کے جانشین اور وصی ہیں۔
اسی طرح آپؑ کی امامت پر رسول خدا سے نقل ہونے والی بعض احادیث بھی صراحتا دلالت کرتی ہیں: اِبنای ہذانِ امامان قاما او قَعَدا(ترجمہ: یہ میرے دونوں بیٹے(حسنؑ اور حسینؑ) تمہارے امام ہیں چاہے یہ قیام کریں یا صلح۔)اسی طرح حدیث ائمہ اثنا عشر سے بھی آپ کی امامت پر استدلال کیا جاتا ہے۔
امام حسنؑ اپنی امامت کے ابتدائی مہینوں میں جس وقت آپ کوفہ میں تشریف رکھتے تھے، منصب خلافت پر بھی فائز تھے لیکن بعد میں معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد خلافت سے دستبردار ہوئے ۔خلافت سے کنارہ کشی کے بعد اپنی زندگی کے آخری ایام تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔

انگوٹھی کا نقش

امام حسن مجتبیؑ کی انگشتری کے دو نقش منقول ہیں:
الْعِزَّۃُ لِلَّہِ؛
اور
حَسْبِی اللَّہُ۔

ازواج اور اولاد

امام حسنؑ کی ازواج کی تعداد کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ تاریخی میں آپ کے صرف 18 ازواج کا نام درج ہے۔انکے اوپر یہ بہتان لگائے گئے کہ انہوں نے بے شمار شادیاں کیں اور بے شمار ازواج کو طلاقیں دیں۔

تاریخ کے مطابق شخص جس نے یہ تہمت لگائی کہ امام حسنؑ کی زوجات کی تعداد 90 ہیں، وہ “محمد بن کلبی” تھا اور یہ تعداد “مدائنی” (225ھ) کی جعلیات میں سے تھی۔ اس کے باوجود خود کلبی نے آپ کی گیارہ زوجات کا نام لیا ہے جن میں سے 5 کا امام کی ازواج میں سے ہونا بھی مشکوک ہے۔آپ کی اولاد کی تعداد میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیخ مفید نے آپ کی اولاد کی تعداد 15 بتائی ہے۔

نسل امام حسنؑ حسن مثنی، زید، عمر اور حسین اثرم سے چلی ہے۔ حسین اور عمر کی نسل کچھ عرصہ بعد ختم ہوئی اور صرف حسن مثنی اور زید بن حسن کی نسل باقی رہی، جنہیں سادات حسنی کہا جاتا ہے۔ آپ کی نسل سے بہت ساری شخصیات نے دوسری اور تیسری صدی کے دوران بنی عباس کی حکومت کے خلاف مختلف سیاسی اور سماجی تحریکوں کی قیادت کی اور اسلامی دنیا کے مختلف گوشہ و کنار میں مختلف حکومتیں قائم کی ہیں۔ یہ شخصیات بعض مناطق میں شُرَفاء کے نام سے معروف‌‌ تھے۔

Related posts

یورپین یونین کا افغان مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار

qaumikhabrein

یوروپی یونین پارلیمنٹ کے ارکان بحرین میں حقوق انسانی کی پامالی پر برہم

qaumikhabrein

ظالموں کا ساتھ دینے والے بھی ظالم ہیں۔۔علی پور میں علماء کا بیان

qaumikhabrein

Leave a Comment