qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

بچوں کے قلم کار حیدر بیابانی کا انتقال۔۔۔اچل پور میں کیا گیا سپرد خاک۔

ادب اطفال کی دنیا میں برصغیر ہندو پاک میں نام روشن کر نے والے معروف شاعر و ادیب حیدر بیابانی اس دار فانی سے کوچ کر گئے ، ان کی عمر چورہتر سال تھی، مرحوم کا تعلق مہاراشٹر کے امراوتی ضلع کے اچل پور کے موضع کرجگاؤں سے تھا ۔ سید حیدر شاہ بیابانی خاندانی نام تھا لیکن ادبی دنیا میں حیدربیابانی کے نام سے مقبولیت ملی ۔ حیدر بیابانی پچھلی نصف صدی سے بچوں کا ادب تخلیق کرر ہے تھے۔ حیدر بیابانی نے کم و بیش پچاس سے زائد کتابیں تحریر کیں، جن میں ننھی منی باتیں حصہ اول سے لیکر حصہ ششم تک مرحلہ وار شائع ہوئیں، حیدر بیابانی نے نظموں کے ساتھ بچوں کے لیے مزاحیہ مضامین بھی لکھے جو کافی مقبول ہوئے ۔

حیدر بیابانی کی تصنیفات کے عنوانات سے ان کی حس مزاح کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے ، مثال کے طور پر بچوں کے لیے ان کا تحریر کردہ نغموں کا مجموعہ کھٹی میٹھی باتیں، مزاحیہ نظموں کا مجموعہ الٹی سیدھی باتیں اور طنز و مزاح کا مجموعہ چشم دید ،یہ تمام کتابیں انیس سو چھیاسی سے دو ہزار پانچ کے درمیان شائع ہوکر بچوں کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنا چکی ہیں ، حیدر بیابانی کی چند تصنیفات کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی جن میں منظوم لطیفہ ، معصوم تتلیاں، نبی میرے، اللہ اکبر، پھول کی دنیا ، ہمارے اپنے، سائنس کی سوغاتیں اور انمول بدن قابل ذکر ہیں ۔حیدر بیابانی دراصل بچوں کی نفسیات سے بخوبی واقف تھے اس لیے ان کی کتابوں میں بچوں کی دلچسپی اور معلومات کا خزانہ ہوتا تھا۔

۔بچوں سے والہانہ لگاؤ رکھنے والے اس ادیب کو سب سے زیادہ مقبولیت ان کی کتاب’’ بھارت درشن‘‘ سے ملی ۔ بھارت درشن دراصل ایسی کتاب ہے جس میں ملک کی پچیس تاریخی عمارتوں پر کہی گئی نظمیں ہیں، ان نظموں میں بچوں کی سوچ اور سمجھ کو ملحوظ رکھتے ہوئے انتہائی سادہ اور سلیس زبان کا استعمال کیا گیا ہے ۔ ان نظموں میں تاریخی آثار کی عظمت کو تو بیان کیا ہی گیا ہے ساتھ ہی ساتھ عظمت رفتہ سے نئی نسلوں کو روشناس کرانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ اپنی پوری زندگی بچوں کا ادب تخلیق کرنے والا یہ ادیب وشاعر آج اپنے چاہنے والے لاکھوں بچوں کو غمزدہ چھوڑ دنیا سے رخصت ہوگیا۔ حیدر بیابانی کی متعدد نظمیں، مزاحیہ مضامین اور معلوماتی مضامین مدھیہ پردیش، اترپردیش ، بہار اور مہاراشٹر کے نصاب میں شامل ہیں

حیدر بیابانی کو بچوں کے ادب کے نامور ادیب اسماعیل میرٹھی کے نواسے کی شاگردی کا شرف حاصل تھا۔ حیدر بیابانی درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ رہے۔ ملازمت کے دوران اور سبکدوشی کے بعد بھی ان کی ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ نصف صدی پر محیط یہ ادبی سفرآخری سانس تک جاری رہا ، حیدر بیابانی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا ۔ مہاراشٹر اردو اکادمی ، ہریانہ اردو اکادمی ، بہار اردو اکادمی اوراترپردیش اردو اکادمی نے انعام سے نواز کر انکی خدمات کا اعتراف کیا۔ حیدربیابانی منکسر مزاج اور شگفتہ طبیعت کی حامل شخصیت تھے ،حیدر بیابانی کی تدفین بعد نماز ظہر اچل پور کے قبرستان میں عمل میں آئی ۔انکے پسماندگان میں بیوہ ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ ای ٹی وی بھارت کے لیے بھوپال سے نمائندگی کرنے والے قمر غوث حیدر بیابانی کے فرزند ہیں۔

Related posts

مولانا کاظم مہدی کی تقاریر اصلاح کا پہلو لئے ہوئے ہیں۔

qaumikhabrein

45 برس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کو آج سے لگایا جارہا ہے کوورونا کا ٹیکا۔

qaumikhabrein

امروہا میں امام حسین کی جائداد میں اضافہ

qaumikhabrein

Leave a Comment