qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

گوگل نے ڈوڈل بنا کر گاما پہلوان کو پیش کیاخراج عقیدت۔

گوگل نے مشہور زمانہ پہلوان گاما کو ڈوڈل بنا کر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ آج گاما کا یوم پیدائش ہے۔ گاما کی پیدائش22 مئی 1878 کو امرتسر کے گاؤں جبو وال میں ہوئی تھی۔ گاما کی موت23 مئی1960 میں پاکستان کے لاہور میں ہوئی تھی۔
گاما پہلوان کا اصل نام غلام محمد بخش تھا۔ انہیں رستم ہند، رستم زماں اور گریٹ گاما بھی کہا جاتا ہے۔5.8 انچ قد کے گاما پہلوان کا وزن110 کلو گرام تھا۔چھاتی 46 انچ،کمر 34 انچ اور پَٹھَہ 22انچ کا تھا۔

گاما کا تعلق مشہور زمانہ پہلوانوں کے خاندان سے تھا۔ انکے والد محمد عزیز بخش تھے۔ والد کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب گاما محض چھ برس کے تھے۔ انکی پرورش انکے نانا نون پہلوان نے کی۔ نون پہلوان کی موت کے بعدگاما کی سرپرستی چچا عیدا پہلوان نے کی۔ عیدا نے ہی گاما کو پہلوانی کی تربیت دی۔گاما1888 میں اس وقت سرخیوں میں آئے جب جودھپور کے ایک سخت مقابلے میں انہوں نے حصہ لیا۔ اس وقت انکی عمر دس برس تھی۔وہ پندرہ منتخب پہلوانوں میں شامل تھے۔ جودھپور کے مہاراجہ انکی پرفارمنس دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور انکی کم عمری کے باجود صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مہاراجہ نے انہیں فاتح قرار دیدیا۔

گاما کی ورزش کا یہ عالم تھا کہ وہ روزانہ5000 بیٹھک اور3000 دنڈ لگایا کرتے تھے۔اکھاڑے میں چالیس ساتھیوں کے ساتھ کشتی کی مشق کرتے تھے۔ کہا جاتا ہیکہ معروف مارشل آرٹ ایکسپرٹ بروس لی گاما کی مشق کے طریقے کا بہت شیدا تھا۔
گاما کی خوراک بھی زبردست تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ وہ ساڑھے سات کلو دودھ، پیتے تھے۔چھ دیسی مرغ اور ایک پاؤنڈ سے زیادہ بادام کھاتے تھے۔بتایا جاتا ہیکہ بڑودہ میں انہوں نے بارہ سو کلو کا ایک پتھر ایک جھٹکے میں اٹھا کر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ وہ پتھر اب بھی بڑودہ کے میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔

1895 میں کشتی کی دنیا میں اس وقت ہنگامہ مچ گیا تھا جب سولہ برس کی عمر میں گاما نے اس وقت کے چیمپئن پہلوان رحیم بخش سلطان والا کو چنوتی دیدی تھی۔ رحیم بخش گجرا والا سے تعلق رکھنے والا سات فٹ کا پہلوان تھا۔اسکا جیت کا ریکارڈ بھی شاندار تھا۔ گاما اور رحیم بخش کا مقابلہ کئی گھنٹے جاری رہا او کوئی بھی کسی کو چت نہیں کرسکا۔1910 تک گاما رحیم بخش کو چھوڑ کر تمام بڑے پہلوانوں کو شکست دے چکے تھے۔ملک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد گاما نے دنیا جیتنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے بھائی امام بخش کے ساتھ انگلینڈ پہونچ گئے۔ لیکن قد چھوٹا ہونے کے سبب گاما کو مقابلے میں داخلہ نہیں ملا۔ انہوں نے چلنج کردیا کہ وہ کسی بھی وزن کے تین پہلوانوں کو آدھا گھنٹے میں چت کردیں گے۔ مزاق سمجھ کر کوئی پہلوان مقابلے کے لئے نہیں آیا۔اسکے بعد گاما نے سیدھے سیدھے اسٹینس لاس زیبسکو اور فرینک گوچ کو للکار دیا۔ گاما کی چنوتی کا سب سے پہلے جواب امریکی پہلوان بینجامن رولر نے دیا۔ گاما نے رولر کو پہلے راؤنڈ میں محض ایک منٹ چالیس سیکنڈ میں پچھاڑ دیا۔ اسکے بعد گاما کو مقابلے میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ گاما نے اس مقابلے میں بارہ پہلوانوں کو دھول چٹائی۔10ستمبر1910 میں لندن میں جان بل ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں گاما کا مقابلہ عالمی چیمپئن زیبسکو سے ہوا۔ انعامی رقم بائیس ہزار روپئے تھی۔ تین گھنٹے کی زور آزمائی کے بعد گاما اور زیبسکو کا مقابلہ برابری پر چھوٹا۔ اسی ٹورنامنٹ کے اگلے مقابلے میں گاما اور زیبسکو پھر آمنے سامنے تھے لیکن زیبسکو لڑکے کے لئے نہیں آیا اور گاما کو چیمپئن قرار دیدیا گیا۔ مغربی ملکوں کے دورے کے دوران گاما نے دنیا کے جانے مانے پہلوانوں کو چت کیا۔ ان میں فرانس کا مارس ڈیریاز، امریکہ کا بینجامن رولر، سویڈن کا عالمی چیمپئن جیس پیٹرسن اور سویٹزر لنڈ کا یورپی چیمپئن جوہان لیم شامل ہے۔ بینجامن رولر کو پندرہ منٹ کے مقابلے میں گاما نے تیرہ مرتبہ پٹخا۔ گاما نے چیمپن بننے کے ہر دعوے دار کو لڑنے کے للکارا لیکن کوئی مقابلے پر نہیں آیا۔ اسکے بعد گاما نے انگلینڈ کے بیس پہلوانوں کو لڑنے کے لئے للکارا لیکن کوئی مقابلے کو تیار نہیں ہوا۔

انگلینڈ سے واپس آکر گاما کا مقابلہ رحیم بخش سے الہ آباد میں ہوا۔ لمبی زور آذمائی کے بعد آخر کار گاما نے رحیم بخش کو شکست دیدی اور رستم ہند کا خطاب حاصل کیا۔1916 میں گاما نے ملک کے ایک اور معروف پہلوان پنڈت بدو کو ہرایا۔1927 تک گاما سے کوئی لڑنے والا نہیں تھا۔پٹیالہ میں جنوری1928 میں منعقد ہونے والے عالمی مقابلے میں گاما کا سامنا زیبسکو سے ہوا۔ اس بار گاما نے اسےایک منٹ کے اندر پچھاڑ دیا ۔ زیبسکو نے گاما کو ٹائگر کا خطاب دیا۔ گاما کا آخری مقابلہ1929 میں جیسی پیٹرسن سے ہوا۔ گاما نے پیٹرسن کو ڈیڑھ منٹ میں دھول چٹا دی۔تقسیم کے بعد گاما پاکستان چلے گئے۔1952 میں سبکدوش ہونے تک گاما کا کوئی حریف نہیں تھا۔ گاما نے اپنے بھتجے بھولو پہلوان کو تربیت دی۔۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز شریف گاما پہلوان کی پوتی تھیں

Related posts

ایم آئی ایم۔ دہلی اور یو پی کے چناؤ میں حصہ لےگی۔ کیجری وال اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ۔ امتیاز جلیل۔

qaumikhabrein

عزاداری کو عبادتوں کی قبولیت کا وسیلہ بنایا جائے: مولانا سید محمود رضوی

qaumikhabrein

کیا معمر قذافی ابھی زندہ ہے؟

qaumikhabrein

Leave a Comment