qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

انتخابی جیت کے لیے فرقہ پرستی کا سہارا۔تحریر سراج نقوی

اتر پردیش میں اس وقت ہر سیاسی پارٹی اپنی اپنی جیت کے لیے حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے لیے اب سیکولرزم کھوٹا سکہ ہو چکا ہے اس لیے وہ نرم ہندوتو اور چند عوامی مسائل کا سہارا لیکر عوام کے سامنے جانے کے لیے مجبور ہیں۔مسلمانوں کے حق کی کوئی بات کہنے میں بھی ان پارٹیوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے،جبکہ بی جے پی کے پاس فرقہ پرستی کا آزمودہ حربہ ہے۔گجرات سے لیکر مرکز کے اقتدار تک کے بی جے پی کے سفر نے یہ ثابت کیا ہے کہ فرقہ پرستی کی مخالف طاقتوں کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن ان طاقتوں کے انتشارسے فائدہ اٹھا کر اقتدار کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔چنانچہ اتر پردیش اسمبلی الیکشن قریب دیکھ کر بیحد پھوہڑ طریقے سے عوام کے جذبات کے استحصال کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔دہشت گردی،پاکستان سے خطرہ اور اب طالبان کے بہانے فرقہ پرستی کے سانپ کو دودھ پلایا جا رہا ہے تاکہ آئیندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن میں کسی بھی طرح جیت حاصل کی جا سکے۔مبینہ ’لو جہاد قانون‘،آبادی پر کنٹرول سے متعلق بل سمیت ایسی ہی کوششیں کافی دن سے جاری ہیں،لیکن اب ان کوششوں میں تیزی آنے کے ساتھ دہشت گردی کے نام پر گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ان گرفتاریوں میں نشانہ کون ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔یہ الگ بات کہ حکمرانوں کی ان سازشوں کو ناکامی کا منھ بھی دیکھنا پڑ رہا ہے۔حال ہی میں اتر پردیش اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتارکیے گئے اور دہلی پولیس کو سونپے گئے تین افراد کو دہلی پولیس نے رہا کرکے اتر پردیش پولیس کی کارکردگی کی پول کھول دی ہے۔حالانکہ خود دہلی پولیس ایسے معاملات میں کافی بدنام ہے اور دہلی فسادات کے تعلق سے اس کے جانبدارانہ و فرقہ وارانہ رویے پر عدالتیں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان فسادات کے کئی ملزمان کو رہا کر چکی ہیں لیکن اسی پولیس نے جس طرح اتر پردیش اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتار ملزمان کو پوچھ تاچھ کے بعد رہا کیا ہے اس سے اتر پردیش کی اس ایجنسی کی کارکردگی اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

واضح رہے کہ اتر پردیش اے ٹی ایس نے چند روز قبل تین افراد کو اس الزام کے تحت گرفتار کیا تھا کہ وہ ملک میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔دہلی پولیس کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ اتر پردیش اے ٹی ایس نے انھیں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے تین لوگوں کو گرفتار کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے انھیں دہلی پولیس کو سونپ دیا تھا،لیکن لوگوں کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اتر پردیش اے ٹی ایس کے ذریعہ جن لوگوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ان کے تعلق سے کوئی ثبوت نہیں تھا۔اس لیے کہ اگر ثبوت ہوتا تو دہلی پولیس آگے کی کارروائی کرتی اور ملزمان کو اپنی تحویل میں رکھنے کے لیے عدالت کا رخ کرتی،لیکن کیونکہ اس کے لیے کوئی معقول جواز یا ثبوت دہلی پولیس کو نہیں ملا اس لیے مذکورہ ملزمان کو رہا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔حالانکہ دہلی پولیس کے ذریعہ اسی طرح کے یعنی دہشت گردی کے الزامات کے تحت دیگر کئی افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف جانچ کا سلسلہ ابھی جاری ہے،لیکن جہاں تک اتر پردیش اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتار ملزمان کا معاملہ ہے تو وہ رہا کیے جا چکے ہیں۔یہاں یہ بات بھی قا بل ذکر ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے لوگوں سے ملی مبینہ معلومات کے بعد ہی اتر پردیش میں مذکورہ گرفتاریاں ہوئی تھیں لیکن ظاہر ہے اس معاملے میں مناسب احتیاط کا خیال اتر پردیش اے ٹی ایس نے نہیں رکھا۔

فرقہ پرست طاقتوں نے افغانستان مین طالبان کے اقتدار میں آنے کے معاملے کو بھی اپنے انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔درباری میڈیا جس طرح اہم قومی مسائل کو نظر انداز کرکے طالبان کی افغانستان میں واپسی کو موضوع بحث بنائے ہوئے اس سے لگتا ہے کہ طالبان افغانستان میں نہیں بلکہ ہمارے ملک میں آگئے ہیں۔حالانکہ یہ بات درست ہے کہ طالبان کی اقتدار میں واپسی اور پاکستان کے ریموٹ کنٹرول سے ان کی حکومت سازی کے بعد ہندوستان کی حکومت کو محطاط رہنے اور نئے سرے سے افغانستان کے تعلق سے اپنی پالیسی تیار کی ضرورت ہے،لیکن ان تمام باتوں کا ہمارے داخلی معاملات سے کوئی واسطہ نہیں ہو سکتا۔اس کے باوجود اگر عوام میں طالبان کا خوف پیدا کرنے کی غیر دانشمندانہ کوششیں ہو رہی ہیں تو اس کا مقصد انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے؟عوام کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر انتخابات میں ہندوتو حامی جماعت بر سر اقتدار نہیں آئی تودہشت گرد اور طالبان ذہنیت رکھنے والی طاقتیں حاوی ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ یہ کوششیں کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کے دور اقتدار میں بھی جموں کشمیرسمیت کئی علاقوں میں دہشت گردانہ واقعات ہوئے ہیں۔ ایسے کئی معاملوں میں سرکار کے مشکوک رول پر بھی انگلیاں اٹھی ہیں۔اس کے باوجود فرقہ پرست طاقتیں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیےنفرت پھیلانے والے موضوعات کا سہارا لے رہی ہیں اور حصول اقتدار کے لیے سماج کو تقسیم کرنے پر آمادہ ہیں۔کیا یہ عجیب اور شرمناک بات نہیں ہے کہ طالبان کو ہندوستان کے لیے خطرہ بتا کر ملک کو کمزور اور طالبان کو ہم سے زیادہ طاقتور ثابت کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔صرف طالبان کا خوف پیدا کرکے یا دہشت گردی کے نام پرمسلم نوجوانوں کی گرفتاری سے ہی ماحول بگاڑنے کی کوششیں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ دیگر تمام طرح کے حربے بھی فرقہ پرست طاقتیں اپنی جیت کے لیے استعمال کر رہی ہیں.

چند روز قبل ہی وزیر اعظم نے علی گڑھ میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کے نام پر قائم کی جانے والی ایک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے جو کچھ اپنی تقریر میں کہا
اسے ایک تیر سے کئی نشانے کی لگانے کی کوشش ہی کہا جائیگا۔اوّل تو یہ کہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کے بہانے مغربی اتر پردیش کی جاٹ برادری کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی گئی۔یہ برادری زرعی قوانین بل کے معاملے میں بی جے پی سے ناراض ہے اور دس ماہ سے جاری کسان تحریک چلانے میں پیش پیش ہے۔اس سے بھی اہم بات یہ کہ کسان تحریک کے بہانے مغربی اتر پردیش کے جاٹ اور مسلمان ایک مرتبہ پھر متحد ہو گئے۔جبکہ سن 2013میں فرقہ پرستوں کی سازش کے سبب دونوں ایک دوسرے سے کافی دور ہو گئے تھے اور فرقہ پرستوں نے الیکشن میں اس کا فائدہ بھی اٹھایا۔اب مسلم یونیورسٹی کے شہر یعنی علی گڑھ میں راجہ مہندر پرتاپ کے نام پر یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کرکے جاٹوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کے اجداد کے وقار کی حفاظت صرف بی جے پی ہی کر سکتی ہے۔اسی بہانے مسلمانوں اور جاٹوں میں دوبارہ دوریاں پیدا کرنے کی بالواسطہ اور ناکام کوشش بھی کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنے جلسوں میں جس طرح ملائم کو بالواسطہ طور پر ابّاجان کہہ کر ماحول کو ایک خاص سمت لے جانا چاہ رہے ہیں اسے یہاں دوہرانا ضروری نہیں،

لیکن ایک بات بہرحال واضح ہے کہ اس طرح کی تمام باتوں کا مقصد ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ایسے میں ملک کے ہر سمجھ دار اور ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ جذباتی اور فرقہ واریت پر مبنی موضوعات سے بچتے ہوئے ایک صاف ستھرے اوررواداری پر مبنی معاشرے کے حق میں اپنے ووٹ کا ستعمال کرے۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

Related posts

ایران مشرق وسطیٰ کی غالب قوت ہے۔ اخبار ‘گارجین’

qaumikhabrein

امریکہ عراق اور شام سے جانے کو تیار نہیں۔

qaumikhabrein

اورنگ آباد میں عالمی اور قومی پوسٹ دن منایا گیا

qaumikhabrein

Leave a Comment