qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

بلاول کا دورہ ہند۔رشتوں پر جمی برف نہیں پگھل سکی۔۔سراج نقوی

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹّو گوا میں منعقد ’شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن‘ میں شامل ہونے کے لیے آئے بھی اور جب قارئین یہ کالم پڑھ رہے ہونگے ا س وقت تک واپس بھی جا چکے ہونگے۔لیکن جیسا کہ خود بلاول بھٹو بھی ہندوستان آنے سے پہلے کہتے رہے اور ہماری وزارت خارجہ نے بھی کئی مرتبہ یہ وضاحت کی کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے اس دورے میں نہ تو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کا کوئی پروگرام تھا اور نہ ایسا ہو سکا۔یہ الگ بات کہ دونوں ہی ممالک میں ایسے افراد کی ایک بڑی تعدا د ہے کہ جو رشتوں پر جمی دو طرفہ برف کے پگھلنے کی منتظر ہے،اور وہ تمام وضاحتوں اور منفی بیانات کے باوجود اس بات کی منتظر تھی کہ شائد کوئی معجزہ ہو جائے۔
شائد بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں کہ پاکستان میں آج بھی ایسے افراد کی خاطر خواہ تعداد ہے کہ جو بی جے پی کی اٹل بہاری واجپئی حکومت اور خصوصاً واجپئی کو اس بات کے لیے یاد کرتی ہے کہ انھوں نے دونوں ممالک کے رشتوں کو خوشگوار بنانے کے لیے کئی قدم اٹھائے۔یہ واجپئی ہی تھے کہ جن کی کوششوں اور سفارتی پالیسی کے سبب 21فروری 1999کو تاریخی’لاہور اعلامیہ‘طے پایا۔اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے خود وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی لاہور گئے تھے،اور پاکستان کی طرف سے واجپئی کے ہم منصب نواز شریف نے لاہور اعلامیہ پر دستخط کیے تھے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اعلامیہ آج بھی دو طرفہ رشتوں کے بہتر بنانے کے لیے اہم رول ادا کر سکتا ہے،لیکن اس کے باوجودکئی سوال ایسے ہیں کہ جن کا حل یا جواب تلاش کیے بغیر دوطرفہ رشتوں پر جمی برف کے پگھلنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔اسی لیے اگر بلاول بھٹو کا دورہ بھی اس سمت میں کچھ آگے بڑھنے میں مددگار نہیں ہو سکا تو یہ بات باعث حیرت نہیں ہے۔اس صورتحال کے لیے کو ن ذمہ دار ہے،اس کا جواب بھی آسان نہیں ہے،لیکن ایک بات تو بہرحال سچ ہے کہ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے ہندوستان میں دہشت گردی کو فروغ دیکر خوشگوار رشتوں کی خود ہی بیخ کنی کرتا رہا ہے۔

مذکورہ ’لاہور اعلامیہ‘کے بعد جب دونوں ممالک رشتوں میں بہتری کے خیال سے خوش تھے تو پاکستانی فوج نے کارگل میں دہشت گردوں کی دراندازی کے لیے ہندوستان پر غیر اعلانیہ حملہ کر دیا۔اگر کارگل کے وطن پرست عوام اس موقع پر ہماری افواج کو بر وقت اطلاع نہ دیتے تو بڑا نقصان ملک کو اٹھانا پڑ سکتا تھا۔بہرحال جنگ کے محاذ پر پاکستان کو منھ کی کھانی پڑی۔پاکستان کے اس رویے نے واجپئی جیسے حساس لیڈ ر کو بھی تکلیف پہنچائی،اور انھوں نے کئی مرتبہ کارگل میں پاکستان کی فوجی کارروائی کو ”پیٹھ میں خنجر گھونپنے“ سے تعبیر کیا۔ہرچند کہ اس معاملے میں پاکستان کی جمہوری حکومت نے اشاروں اشاروں میں یہ ضرور کہا کہ پاکستانی فوج نے کارگل میں جو کچھ کیااس میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔لیکن یہ بہرحال پاکستانی فوج اور جمہوری حکومت کے درمیان آپسی اختلافات کا معاملہ ہے اور اس سے یہ سچائی نہیں بدل جاتی کہ کارگل میں دراندازی کرکے پاکستان نے ہندوستان کے معاملے میں اپنا اعتماد کھو دیا۔اس کے نتیجہ دونوں ممالک کے رشتوں میں تلخی بڑھنے کی شکل میں ظاہر ہوا،اور تب سے آج تک رشتوں میں بگاڑ کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

کارگل جنگ۔ پاکستان نے پیٹھ میں چھرا گھونپا

نواز شریف حکومت کے بعد جب بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بنیں تب بھی کچھ لوگوں کو امید تھی کہ شائد اب دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے،لیکن یہ امید بر نہیں آسکی۔کانگریس کے دور حکومت میں بھی منموہن سنگھ حکومت نے یا پھر پاکستان کی اس وقت کی حکومت نے رشتوں کو بہتر بنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔حد تو یہ ہے کہ منموہن جن کی جائے پیدائش پاکستان ہے انھوں نے بھی پاکستان کا دورہ کرنے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔دوسری طرف پاکستانی قیادت بھی اس معاملے میں سرد مہری کا ہی مظاہرہ کرتی رہی۔منموہن سنگھ حکومت کے د س سال کے دور اقتدار میں دونوں ممالک کے درمیان بہتر رشتوں کی امیدوں کی بیل بھلے ہی پروان نہ چڑھ سکی ہو،لیکن جب 2014میں بی جے پی کی مودی حکومت نے اقتدار سنبھالا اور مودی حکومت کی حلف برداری میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف شریک ہونے کے لیے نئی دلّی آئے تو سرحد کے دونوں طرف ایک مرتبہ پھر امیدوں کے چراغ روشن ہو گئے۔عوام کو لگا کہ دو دشمن پڑوسی شائد ایک مرتبہ پھر دشمنی بھلا کر دوستی کا راستہ چنیں۔ان توقعات کا سبب یہ تھا کہ بی جے پی کے وزیر اعظم واجپئی نے ہی لاہور اعلامیہ کے ذریعہ دو طرفہ رشتوں کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی تھی۔یہ الگ بات کہ پاکستانی فوج کی دغابازی کے سبب یہ کوشش ناکام ہی رہی۔لیکن کیونکہ مودی کا تعلق بھی اسی بی جے پی سے ہے کہ جس کے وزیر اعظم واجپئی نے پاکستانیوں کا دل جیتا تھا،لہٰذا نواز شریف کے مودی کی حلف برداری تقریب میں آنے اور اس کے کچھ دن بعد مودی کے اچانک اور بغیر کسی اعلان کے پاکستان پہنچ کر نواز شریف کی گھریلو تقریب میں شرکت کرنے کے سبب دونوں طرف کے لوگوں کو لگا کہ شائد دو طرف تعلقات کا منظر نامہ بدلنے والا ہے۔حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ اس دوران ہند پاک سرحدپر پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں اور پاکستان کے تربیتی کیمپوں میں دہشت گردوں کی ٹریننگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ظاہر ہے یہ پاکستان کی طرف سے اپنے دونوں ہاتھوں میں لڈّو رکھنے کی کوشش کے مترادف تھا۔اس لیے دوستی کے امکانات کم سے کم ہوتے رہے۔اس درمیان عمران کی حکومت نے سکھوں کے لیے ننکانہ صاحب تک جانے کے لیے راہداری کھولنے کا کام ضرور کیا لیکن اس کے باوجود پاکستانی فوج کا ہندوستان کے تعلق سے معاندانہ رویہ جاری رہا۔

مودی جی اچانک پہونچے پاکستان

اسی لیے جب پاکستانی فوج کی حمایت سے نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کو اسلام آباد کا تخت ملا تو شہباز یا ان کے کسی وزیر میں یہ کہنے کی جرات کس طرح ہو سکتی ہے کہ وہ ہند مخالف دہشت گردی کا رویہ ترک کرکے ہندوستان سے سفارتی رشتے بہتر بنانے پر رضامند ہیں۔ظاہر ہے دہشت گردی اور محبت کا ڈرامہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا۔دوسری طرف ہندوستان میں بھی کچھ طاقتیں دونوں ممالک کے خوشگوار رشتوں کو فروغ دینے کے تعلق سے کچھ تحفظات کی شکار ہیں۔خود سنگھ پریوار کا رویہ بھی اس معاملے میں جگ ظاہر ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلق سے ایسا بیان دے چکے ہیں جو کسی بھی ہندوستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا،اور ہر ہندوستانی خواہ وہ مودی کا سیاسی طور پر مخالف ہی کیوں نہ ہو بلاول کے اس بیان کو برداشت نہیں کر سکتا۔بلاول نے اس بیان میں وزیر اعظم مودی کو ”بوچر آف گجرات“ تک کہا۔ظاہر ہے اس نازیبا بیان نے ہر اس ہندوستانی کو بھی ناراض کیا کہ جو دونوں ممالک کے خوشگوار رشتوں کا طرفدار ہے۔اسی لیے جب پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے گووا میں منعقد ہونے والی شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن میں آنے کی خبر سامنے آئی تو کم ہی لوگ ایسے ہونگے کہ جنھوں نے بلاول کے اس دورے سے کوئی امید وابستہ کی ہو۔حالانکہ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کے کسی وزیر خارجہ نے بارہ سال بعد ہندوستان کا دورہ کیا ہے،لیکن یہ دورہ بہرحال دوطرفہ رشتوں کے فروغ کے مقصد سے نہیں کیا گیا،اور نہ ہی دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس کے تعلق سے کوئی امید افزا رد عمل ظاہر کیا،اور اس طرح بلاول بھٹّو کی ہندوستان آمد دو طرفہ رشتوں پر جمی ہوئی اس برف کو پگھلانے میں ناکام رہی کہ جس کا پگھلنا ان دونوں پڑوسیوں کے حق میں اس لیے بھی بہتر ہے کہ نئے عالمی منظر نامے میں دونوں کے خوشگوار رشتے بہت اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔
sirajnaqvi08@gmail.com Mob:9811602330
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related posts

سجادہ نشیں خانقاہ قادریہ الشیخ عبد الحمید محمد سالم قادری بدایونی کا سانحہ ارتحال۔

qaumikhabrein

مرکزی سرکار الزامات کے گھیرے میں ۔۔سراج نقوی

qaumikhabrein

امریکہ نے مدد کے نام پر یمن کو بھیجا سڑا ہوا اناج۔

qaumikhabrein

Leave a Comment