qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

بحرین میں حکومت نے مولا علی کے صحابی کے مرقد کو حملہ کر کے بند کر دیا۔

بحرین حکومت نے مولا علی کے جید صحابی’صعصعہ بن صوحان’ کے مزار پر حملہ کرکے اسے بند کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ ظالمانہ اقدام علما اور محبان اہل بیت کے اس مطالبے کے بعد کیا گیا کہ ‘صعصعہ بن صوحان’ کے مرقد کو زائرین کے لئے کھول دیا جائے۔۔علما کا حکومت سے یہ مطالبہ بھی ہیکہ اس تاریخی اور مذہبی ورثے کی حفاظت میں کوتاہی نہ کی جائے۔

مزار اور مسجد صعصعہ بن صوحان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کی تعمیر 676ہجری میں ہوئی تھی اور اس مرکز اور اس مسجد کا شمار بحرین کے قدیم ترین تاریخی اور اسلامی آثار میں ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں اس پر متعدد حملے ہوئے اور اب اس تازہ حملے میں حکومت آل خلیفہ نے اس مرقد کو زائرین کے داخلے کے لیے بند کر دیا ہے۔

صعصعہ بن صوحان مولا امام علی علیہ السلام کے قریبی اصحاب میں شامل تھے، انہوں نے امام علی علیہ السلام کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی۔ وہ ان اولین افراد میں شامل تھے جنہوں نے امیر المؤمنین علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔تاریخ کے اعتبار سے انکی پیدائش رسول کی ہجرت سے 24 برس قبل ہوئی تھی۔ انکا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا۔ وہ ایک جوشیلے مقرر اور مصنف تھے۔ صعصعہ بن صوحان کو معاویہ نے مولا علی کی دشمنی میں جلا وطن کرکے بحرین بھیج دیا تھا۔ جہاں سن 44 ہجری میں انکی وفات ہوئی۔ انکا مزار عسکر گاؤں میں ہے۔ محبان اہل بیت انکے مزار پر حاضر ہوتے ہیں۔

حملے بعد مسجد صعصہ کا اندرونی منظر

بتایا جاتا ہیکہ حکومت کے کارندوں نے مسجد صعصہ بن صوحان کے نگراں کو جان سے مارنے کی دھمکی دیکر اسے بھگا دیا اور مسجد پر حملہ کرکے وہاں رکھے تبرکات کو تہس نہس کردیا۔

Related posts

فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر۔۔متحدہ عرب امارات نے اسرائیل میں سفارتخانہ کھول لیا۔

qaumikhabrein

امام علی نقی علیہ السلام۔زیارت جامعہ کبیرہ اور زیارت غدیر آپکی تعلیم کردہ ہے

qaumikhabrein

کربلا کی کہانی تصویروں کی زبانی

qaumikhabrein

Leave a Comment