qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

اورنگ ادب کے زیر اہتمام نثر نگاروں کی محفل ۔

نئے قلمکاروں کی تخلیقات سن کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ شاعری کی طرح اورنگ آباد کے نئے نثر نگار بھی ضرور اپنا منفرد مقام بنائیں گے، ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول و افسانہ نگار نورالحسنین نے کیا ۔ نو وارد تخلیق کاروں کی ادبی و علمی تربیت اور حوصلہ افزائی کے مقصد سے قائم کی گئی خالص ادبی تنظیم ‘اورنگ ادب’ کے زیر اہتمام اورنگ آباد میں محفل نثر کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب سے نورالحسنین صدارتی خطاب کر رہے تھے۔

نئے قلمکاروں کی تخلیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہانی اور افسانہ کے فرق کو سمجھایا ۔انہوں نے افسانہ نویسی کے اصول و ضوابط کی بھی رہنمائی کی۔ معروف شاعر و تنقید نگار ڈاکٹر ارتکاز افضل نے بھی نئے قلمکاروں کی ٹھوس رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ کہانیاں ہمارے اطراف بکھری پڑی ہیں، ضرورت صرف مشاہدہ کے ذریعہ انھیں انگیز کرنے کی ہے ۔ انشائیہ، افسانچہ اور افسانہ پر مشتمل اس ادبی محفل میں کہنہ مشق شاعر وناقد ایڈوکیٹ اسلم مرزا، ڈاکٹر ارتکاز افضل، ڈاکٹر احمد اقبال، قاضی نوید مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک رہے۔ پہلے سیشن میں پڑھے گئے انشائیہ نگاروں کی تخلیقات پر استاد انشائیہ نگار سعید خان زیدی نے تبصرہ کیا۔ دوسرے سیشن میں عظیم راہی نے نئے قلمکاروں کے افسانچوں پر تجزیہ کیا اور تیسرے سیشن میں پڑھے گئے افسانوں پر عالمی شہرت یافتہ فکشن نگار نورالحسنین نے سیر حاصل تبصرہ کیا۔انہوں نے فنی باریکیوں کو واضح کرتے ہوئے افسانہ نگاری کے لوازمات پر رہنمائی کی ۔

اورنگ ادب کی یہ نثری نشست نئے قلمکاروں کے نام رہی ۔اپنی غزلوں کے ذریعہ شاعری کے افق پر تیزی سے ابھرنے والے نوجوان شاعر سعد ملک نے نظامت کے فرائض انجام دے کر ثابت کیا کہ شاعری کے ساتھ ساتھ نظامت کے شعبہ میں بھی وہ لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر قدم پر اورنگ ادب کی رہنمائی کرنے والے معروف شاعر جاوید ندا نے تنظیم کی ادبی کارکردگی اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔

نوجوان شاعر عمران رضوی کی تلاوت کلام پاک سے نشست کا آغاز ہوا۔ پہلے سیشن میں ابوالحسن، فاروق احمد، عتیق احمد عتیق، محمد یاسر خان اور سلیم احمد نے انشائیے پیش کئے ۔ دوسرے سیشن میں فاروق احمد، جاوید ندا نے افسانچے پڑھے ۔ جبکہ تیسرے سیشن میں شہباز زرین، خان آفرین، صباء تحسین، وجاہت قریشی اور سلیم احمد نے افسانے پیش کئے ۔ اس نشست میں شہر کی ادبی و علمی شخصیات کے علاوہ ادبی ذوق رکھنے والے افراد شریک رہے۔ خان یاسر کے اظہار تشکر پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

Related posts

ذاتی مخاصمت پر مبنی سیاست۔۔تحریر سراج نقوی

qaumikhabrein

عالم دین سید غلام حسنین کی سرگزشت ’حیات علامہ کنتوری‘منظرعام پر

qaumikhabrein

کورونا کی دوا آکسفورڈ زینیکا پر سولہ ملکوں میں پابندی

qaumikhabrein

Leave a Comment