qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

اقرأ اردو پرائمری اسکول میں “یومِ مطالعہ”

ٹکنالو جی کے اس ترقی یافتہ دور میں نئی نسل موبائل کی اسکرین سے اپنی آنکھیں چسپاں کی ہوئی ہے اور وہاٹس ایپ یونیورسٹی پر گردش کرنے والے غیر تحقیق شدہ اور غیر تصدیق شدہ مواد پر من و عن یقین کرلیتی ہے جس کے باعث وہ پختہ و صحیح معلومات سے محروم ہے۔ طلباء کی معلومات میں‌ اضافہ اور پختگی کا واحد طریقہ مطالعہ کتب ہے۔

طلباء میں مطالعہ کا ذوق و شوق پروان چڑھانے کی غرض سے الحراء ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اورنگ آباد کے زیر اہتمام جاری اقرأ اردو پرائمری اسکول، اورنگ آباد میں 24 فروری 2024  کو یوم مطالعہ و یوم مادری زبان  منعقد کیا گیا۔

اس کے بعد اشفاق احمد ہال میں ایک تقریب کا انعقاد محمد عارف (سیکرٹری،الحراء سوسائٹی) کی صدارت میں کیا گیا ۔صدر مدرس نوشاد خان نے یوم مطالعہ کے انعقاد کی غرض و غایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مطالعہ روح کی غذا‌ ہے۔ اگر کم عمری سے آپ میں یہ صلاحیت پیدا ہوجائے گی تو نتیجتاً زندگی بھر آپ کے ذہن میں معلومات پختہ رہے گی۔ ششم و ہفتم جماعت کے طلباء و طالبات نے مطالعہ کی اہمیت، مطالعہ کا طریقہ، مادری زبان کی اہمیت جیسے عناوین پر پرجوش انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہفتم جماعت کی طالبات نے اردو کی تاریخ و تہذیب پر اقبال اشہر کی نظم “اردو ہے مرا نام۔۔۔۔” گروپ کی شکل میں پیش کی۔ جس کی طلباء، اساتذہ اور مہمانان نے سراہنا کی۔

اس کے بعد معلمہ نزہت سلطانہ نے مادری زبان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان ہی دراصل وہ زبان ہے جس میں بچہ پڑھنے، لکھنے کے ساتھ ساتھ سوچتا بھی ہے۔ معلم ضیاء الہدی نے مادری زبان پر اظہار کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کو یاد کیا اور کہا کہ زبان کی چاشنی دراصل محنتی اساتذہ اور اسکول ہی کی بدولت حاصل ہوتی ہے.اس تقریب میں مہمانِ خصوصی کے حیثیت سے شریک معروف مصنف احمد اقبال نے کہا کہ طلباء میں مادری زبان سے محبت اور مطالعہ کا شوق و ذوق پیدا‌کرنا اقرأ اسکول کی دیرینہ روایت ہے‌ اور الحمد للہ اس طرح کی شاندار روایات آج بھی برقرار ہیں۔

صدارتی خطاب میں محمد عارف نے کہا کہ آج عموماً معاشرہ انگریزی میڈیم کے سحر میں ڈوب گیا ہے اور اردو میڈیم کو حقیر نظر سے دیکھتا ہے لیکن تاریخ سے لے کر آج تک اکثر بہتر کارکردگی کرنے والے طلباء وہی ہیں جو بنیادی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالعہ کے طریقے، مطالعہ کے اوقات،‌ اور مطالعہ کے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے طلباء کو دینی، تعلیمی اور شخصی ارتقاء کے لیے مطالعہ کی ترغیب دی۔ اس پروگرام کے انچارج معلم شیخ نواب تھے جب کہ نظامت کے فرائض معلمہ عشرت فاطمہ نے انجام دیے۔

Related posts

یوروپی ملکوں کے چہرے بے نقاب۔ فلسطین حامی مظاہروں پر پابندی۔

qaumikhabrein

ایران کورونا ویکسین کا فارمولہ عام کردیگا۔

qaumikhabrein

امروہا میں حسینی ٹائگرز کے دفتر کا افتتاح

qaumikhabrein

Leave a Comment