qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا۔یوم عاشورہ پرجلوس تعزیہ اورمجالس شام غریباں کا اہتمام

امروہا میں ایام عزا کے پہلے عشرے کا اختتام یوم عاشورہ پر ہوا۔صبح سویرسے ہی مجالس عزا ،تربتوں کی تدفین اور مخصوص اعمال عاشورہ کا اہتمام ہونے لگاتھا۔شہر میں یوم عاشورہ کی مرکزی مجلس محلہ دربار شاہ ولایت(لکڑہ) کے عزاخانے میں منعقد ہوئی۔ہم شکل پیمبر کا ماتم کے عنوان سے یہ مرکزی مجلس گزشتہ اکتیس برس سے اسی عزاخانہ میں نہایت عقیدت اورولولہ انگیز جزبات کے ساتھ منعقد کی جارہی ہے

اس مجلس کی خصوصیت یہ ہیکہ اس میں شبیہ پیغمبر جناب علی اکبر کے حال کا ہی مرثیہ پیش کیا جاتا ہے۔منبر پر ذاکر جناب علی اکبر کا کردار اور مصائب بیان کرتا ہے۔ لخت جگر زینب اور حسین کے حال کا ہی نوحہ پڑھا جاتا ہے۔ انہیں کے جنازے کی شبیہ تابوت کی شکل میں برامد کی جاتی ہے۔اس مجلس میں خاص طور سے نوجوان پیش پیش رہتے ہیں۔مجلس کے بعد نوجوان خونی ماتم کا نزرانہ جناب علی اکبر کے حضور پیش کرتے ہیں۔اس مخصوص مجلس میں افضال حیدر اور انکے ہمنواؤں نے، لاش اکبر کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسین، مرثیہ پرسوزانداز میں پیش کیا۔منبر پر مولاناضا علی رضن نے جناب علی اکبر کے کردار افعال اور مصیبتوں کو دردناک طریقے سے بیان کیا۔مجلس کے دوران شور گریہ و بکا لگاتار جاری رہا۔

مجلس کے بعد علم، تابوت اور سواری جناب علی اکبر پر مشتمل تبرکات برامد کئے گئے۔اسی دوران ،ماں کہتی تھی رو رو کر اٹھارہ برس والے،نوحے پر سینہ زنی اور زنجیر زنی ہوئی۔
موذن کربلا جناب علی اکبر سے منسوب یہ مجلس عزا گزشتہ تیس برس میں مرکزی حیثیت کی حامل ہو گئی ہے۔ اس مجلس اور ماتم کی ابتدا سے پہلے تک امروہا میں عشرہ اول آٹھ محرم تک محدود تھا۔ آٹھ محرم کی تاریخ کو اہل امروہا عاشورہ کی طرح مناتے تھے۔محرم کا اصل اور قیامت خیز دن عاشورہ محض اعمال، تربتوں کی تدفین اور تعزیوں کی برامدگی سے عبارت تھا۔ دو ایک عزاخانوں میں خاک شفا کی تسبیح اور درخت کی ایک شاخ کی زیارت کرائی جاتی تھی۔ اس تسبیح کے چند دانے سرخ ہو جاتے ہیں اور درخت کی شاخ بھی سرخی مائل ہو جاتی ہے۔ کہا جاتا ہیکہ یہ شاخ اس درخت کی ہے جس پر امام عالی مقام کی سر مبارک لٹکایا گیا تھا۔

یوم عاشورہ کو مرکزی نوعیت کی مجلس اور زنجیر زنی کی کمی کومحلہ دربار شاہ ولایت سے تعلق رکھنے والے غضنفر عباس عرف گوہر نے شدت کے ساتھ محسوس کیا اوراہل محلہ کےتعاون سے دس محرم کو جناب علی اکبر سے منسوب اس مجلس عزا اور ماتم داری کی داغ بیل ڈالی۔کچھ روایت پسند افراد کو یہ ابتدا پسند نہیں آئی اور انہوں نے اسکی مخالفت کی۔لیکن گوہر نےمخالفتوں کی پرواہ نہ کی۔جسکا نتیجہ یہ ہیکہ آج یوم عاشورہ کی یہ مجلس امروہا کی عزائی تاریخ میں اضافہ کا سبب بن کر بہت مقبول ہو چکی ہے۔ لکیر کے فقیر قسم کے افرادابھی امروہا میں پائے جاتے ہیں جو بزرگوں کے ذریعے کھینچی گئی لکیر کو ہی پیٹتے رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ پانچ محرم کے ماتمی جلوس میں دورہ بولنے کی مخالفت بھی اسی قماش کے لوگ کرتے ہیں۔

Related posts

ایران پر دباؤ کی پالیسی بری طرح ہوئی ناکام۔

qaumikhabrein

سیکولر پارٹیوں کے ایجنڈے سے مسلمان غائب۔از سراج نقوی

qaumikhabrein

عراق۔تعزیتی جلسے پر داعش کا حملہ۔7 ہلاک۔ متعدد زخمی۔

qaumikhabrein

2 comments

Mahmood alam اگست 12, 2022 at 3:55 صبح

لکیر کے فقیر قسم کے افرادابھی امروہا میں پائے جاتے ہیں جو بزرگوں کے ذریعے کھینچی گئی لکیر کو ہی پیٹتے رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

اس عبارت کو ذرا تفصیل سے سمجھا ریں کس طرف اشارہ ہے أپکا

Reply
qaumikhabrein اگست 17, 2022 at 1:05 شام

ولسلام بھائی یہ معاملہ شیعوں سےمتعلق ہے۔ عام لوگوں سے اسکا تعلق نہیں ہے۔ پریشان نہ ہوں۔

Reply

Leave a Comment