qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

شہر یار عمران۔۔ذرا سی عمر میں اسکا ہے ‘ش’ ‘ق’ درست۔

نام۔ شہر یار عمران۔عمر۔ سات برس۔ ڈھائی برس کی عمرمیں مدح سرائی کا آغاز۔خصوصیت۔ درست تلفظ کے ساتھ اشعار کی ادائےگی۔انعام۔۔’شہر یار ایوارڈ ‘سے سرفراز۔
امروہا کی ادبی انجمن ‘بزم شعرائے اہل بیت’ نے کمسن مدح خواں شہر یار عمران کو ‘شہر یار ایوارڈ’ سے نوازہ ہے۔ شہر یار عمران کو اشعار کی صحیح صحیح تلفظ کے ساتھ ادائےگی کے لئے اس انعام کا مستحق گردانا گیا۔بادی النظر میں تو اسے ایک بچے کی حوصلہ افزائی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر موجودہ دور میں اردو کی حالت زار کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ انعام بہت اہمیت کا حامل ہے۔یہ نئی نسل کو نہ صرف اردو کی جانب راغب کرنے میں معاون ہوگا بلکہ اردو کو اسکے درست تلفظ کے ساتھ بولنے کے لئے لوگوں میں دلچسپی بھی پیدا کریگا۔ ہندی اور انگریزی کے بول بالے کے دور میں ہماری نئی نسل اردو سے نابلد ہے۔وہ اگر اردو پڑھتی بھی ہے تو ہندی یا انگریزی میں لکھی ہوئی اردو پڑھتی ہے۔ آج کے دور کے مسلم بچے تو بچے بڑے بڑوں کے شین قاف درست نہیں ہیں۔ وہ کسی شعر کو صحیح تلفظ اور موزونیت کے ساتھ ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔۔ غلط تلفظ اور موزونیت کی تمیز کے بغیر شعر پڑھنا اردو کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے جیسا ہے۔ افسوس تو یہ ہیکہ اردو کا یہ قتل عام ہے اور بر سر عام ہے۔ اردو کے اس بلا دریغ قتل کے لئے نئی نسل نہیں بلکہ اسکے سرپرست پوری طرح ذمہ دار ہیں جنہوں نے بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے انہیں انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم تودلائی لیکن اردو سے انہیں دور کردیا۔ اردو سے دوری کا نقصان یہ ہوا کہ وہ اپنے دینی،مذہبی ، ثقافتی اور لسانی سرمایہ سے محروم ہو گئے ہیں۔

شہر یار عمران اس معاملے میں خوش قسمت ہیں کہ انہیں اردو کا ماحول نصیب ہوا۔ وہ جس خانوادے کی فرد ہیں وہ سخن گویوں اور سخن فہموں کا خانوادہ ہے۔ انکے دادا ڈاکٹر لاڈلے رہبر اور والد کے چچا زید بن علی شاعر ہیں اور والد ڈاکٹر شارق ریاض سخن سنج اور سخن فہم ہیں۔دادا ڈاکٹر لاڈلے رہبر کے ماموں شان حیدر بے باک امروہا کے ایک استاد شاعر ہیں۔ شہر یار عمران کو حاصل یہ انعام در حقیقت انکے سرپرستوں کی اردو عاشقی کا نتیجہ ہے۔شہر یار عمران کو سخن فہموں اور سخن گویوں کی جو سرپرستی حاصل ہے اسکا لازمی نتیجہ یہی ہونا ہیکہ وہ مستقبل میں ایک قادر الکلام شاعر کے طور پر اپنی شناخت قائم کریں گے۔
اردو کو اسکے صحیح تلفظ کے ساتھ بولنا آج لائق انعام و اکرام ہو گیا ہے تو یہ اردو کی زبوں حالی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔’بزم شعرائے اہل بیت’ نے انعام کا یہ سلسلہ شروع کرکے اردو کی ترویج اور فروغ کے لئے اپنے اوپر عائد فرض کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔خدا نہ کرے کہ وہ وقت آٰئے کہ بزم کو ‘بڑوں بڑوں’ کو صحیح تلفظ سے اردو بولنے کا کارنامہ انجام دینے کے لئے انعام دینےکا اعلان کرنا پڑے۔۔(جمال عباس فہمی)

Related posts

میلکم ایکس قتل کیس۔56 برس بعد دو مجرم الزام سے بری۔

qaumikhabrein

حسن نقوی کی کامیابی سے اہل امروہا کا سینہ فخر سے پھول گیا

qaumikhabrein

ایران فلسطنیوں کی حمایت مولا علی کی نصیحت کی بنیاد پر کرتا ہے۔ مولانا عزادار حسین

qaumikhabrein

Leave a Comment