qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

صحافی اور مداح اہل بیت نجمی امروہوی کی یاد میں محفل سلام و منقبت

صحافی، شاعر اور تحت اللفظ مرثیہ خوان ضیا عباس نجمی امروہوی مرحوم کی یاد میں ایک محفل سلام و منقبت کا اہتمام کیا گیا۔ نجمی امروہوی کے دیرینہ دوست اور صحافی بابر نقوی اور امروہا کی بزم شعرائے اہل بیت کے زیر اہتمام یہ محفل سلام و منقبت عزاخانہ علمدار علیخاں محلہ گزری میں منعقد ہوئی۔ استاد شاعر شان حیدر بے باک اموہوی ک صدارت میں منعقدہ اس محفل سلام و منقبت میں شہر کے تیس سے زائد شعرا نےبار گاہ محمد و آل محمد میں نزرانہ عقیدت پیش کیا۔ کئی شعرا نے نجمی امروہوی مرحوم کو منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

مسند پر صدر محفل کے ساتھ ساتھ مولانا کوثر مجتبیٰ، سینئر شاعر واحد امروہوی، شعر اہل بیت حسن امام، پنڈت بھون کمار شرما بھون امروہوی، مداح اہل بیت لیاقت امروہوی، سرکردہ صحافی سراج نقوی ، سماجی کارکن اور صحافی ندیم نقوی اور شاعر و صحافی اور مرحوم نجمی امروہوی کے چھوٹے بھائی جمال عباس فہمی بھی موجود تھے۔ محفل کی نظامت ڈاکٹر لاڈلے رہبر نے کی۔

شان حیدر بے باک، واحد امروہوی،لیاقت امروہوی، حسن امام امروہوی، ڈاکٹر لاڈلے رہبر۔ جمال عباس فہمی،اشرف فراز،وفا امروہوی،مبارک امروہوی،شاہنواز تقی،نوازش امروہوی، ضیا کاظمی،تاجدار امروہوی،شاندار امروہوی،ناظم امروہوی،رضوان امروہوی،تاجدار ناظم تاج امروہوی، فیضی ابن لیاقت امروہوی،شاداب امروہوی،ارمان حیدر ساحل امروہوی۔ شیبان قادری، ڈاکٹر ناصر امروہوی، بھون کمار شرما بھون امروہوی،زید بن علی امروہوی،اقتدار حسین شہپر، راحیل امروہوی اور مرحوم نجمی امروہوی کے فرزند شجاع عباس نے بار گاہ محمد اور آل محمد میں کلام پیش کیا۔بابر نقوی نے نجمی امروہوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکے ساتھ اپنی قربت کا ذکر کیا۔محفل کے کنوینر بھون شرما تھے۔

سخت سردی کے باوجود سامعین کی اچھی خاصی تعداد محفل میں موجود تھی۔
مداح اہل بیت، صحافی اور تحت اللفظ مرثیہ خواں ضیا عباس نجمی امروہوی کا مختصر بیماری کے بعد 7جولائی2021 کو انتقال ہو گیا تھا۔ وہ تحت اللفظ مرثیہ خوانوں کے خانوادے کی چھٹی پشت کے مرثیہ خوان تھے۔

Related posts

نہٹور میں صحت رضاکاروں کے لئے بیداری کیمپ لگےگا۔

qaumikhabrein

بحرین میں اسرائیل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ۔

qaumikhabrein

شام۔دہشت گردوں کے ہاتھ سے دار البلد بھی گیا۔ شامی فوج علاقے میں داخل۔

qaumikhabrein

Leave a Comment