qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا میں ایام عزا کے استقبال میں مسالمہ

بزم شعرا ئے اہل بیت کی جانب سےایام عزا کے استقبال اور امروہا میں عزاداری کی بنیاد رکھنے والے شہید شاہ مسکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک مجلس مسالمہ کا اہتمام کیا گیا۔ مجلس مسالمہ کی صدارت انجمن رضاکاران حسینی کے قائد غلام سجاد نے کی جبکہ مسند پر مولانا اظہر عباس بھی موجود تھے۔مسالمہ کا آغاز شہر یار سلمہ نے کلام الہیٰ کی تلاوت سے کیا ۔سر ور کائنات کے حضور نعت کا نزرانہ ڈاکٹر جمشید کمال نے پیش کیا۔محفل مسالمہ کی نظامت ڈاکٹر لاڈلے رہبر نے کی۔مدعو شعرا نے شہدان کربلا اور امروہا میں علمداری کے بانی شاہ مسکین کو منظوم نزرانہ عقیدت پیش کیا۔

امروہا میں محرم کے پہلے عشرے میں برامد ہونے والے ماتمی جلوس اپنی شان اور خصوصی پہچان کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔محرم کے ماتمی جلوس کی ابتدا صوفی بزرگ شاہ مسکین نے کی تھی۔ شاہ مسکین نے سب سے پہلے آٹھ محرم کو قاضی زادہ محلہ کے عزا خانہ چاند سورج سے علم کا جلوس نکالا تھا۔ یہ جلوس محلہ سدو اور عزا خانہ نقش بی سے ہوتا ہوا عزا خانہ چاند سورج میں واپس آیا تھا۔

امروہا میں ماتمی جلوس کی داغ بیل ڈالنے کی قیمت شاہ مسکین کو اپنی جان دیکر ادا کرنا پڑی۔ انکا سر قلم کردیا گیا تھا۔ انکو عزا خانہ چاند سورج کی دہلیز پر دفن کیا گیا تھا۔ وہ دور چھٹے مغل باد شاہ اورنگ زیب کا تھا۔

اورنگ زیب سن 1658 میں بادشاہ بنا تھا ۔اس نے1707 میں اپنے مرنے تک49 برس تک حکومت کی تھی۔ اورنگ زیب کا دور شیعوں کے لئے مشکلات اور آلام کا دور تھا۔نعمت خان عالی کے سوا اسکے دربار میں کوئی شیعہ اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں تھا۔ نعمت خان عالی وزیر اعظم تھا۔ اورنگ زیب اسکی ذہانت، قابلیت اور معاملہ فہمی کی بنا پر اسے وزیر اعظم بنائے رکھنے پر مجبور تھا۔

Related posts

اورنگ آباد سے پی ایف آئی کے چار ارکان گرفتار

qaumikhabrein

امروہا۔۔ شاہ ولایت کی شان میں محفل نعت و منقبت

qaumikhabrein

ضلع بڈگام میں صوفیوں کی خدمات پر سیمنار

qaumikhabrein

Leave a Comment