qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا میں 125واں جشن بوتراب

مولائے کائنات ، داماد پیمبر ، مولود کعبہ، فاتح خیبرو بدر و خندق و حنین و صفین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں امروہا میں جشن بوتراب کا اہتمام کیا گیا۔ عزاخانہ دوست علی محلہ کٹکوئی میں 125ویں جشن بوتراب کی دو روزہ تقریبات منعقد کی گئیں۔ دوست علی کلچرل فورم کے زیر اہتمام ان تقریبات کے تحت مولا علی کی شخصیت پر سیمنار، محفل منقبت اور محفل سماع کا اہتمام کیا گیا۔

سیمنار میں آئی آر ایس ناصر علی، سماجی کارکن سیدہ سیدین حمید، آچاریہ پرمود کشن اور سنیتا جھنگران نے مولائے متقیان کی آفاقی شخصیت کے مختلف پہلؤوں پر روشنی ڈالی اور مداح اہل بیت شعور اعظمی نے مولا کی شان میں منظوم نزرانہ عقیدت پیش کیا۔ جبکہ معروف شاعر افتخار عارف اور اداکار جاوید جعفری نے ویڈیو پیغام بھیج کر سیمنار میں اپنی شرکر درج کرائی۔

مقررین نے مولائے کائنات کی شخصیت کو آفاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولا علی کی شخصیت کی جاذبیت اور کشش کا یہ عالم ہیکہ مختلف مذاہب، فرقوں، علاقوں اور فکر و خیال کے افراد انکے مداح اور عاشق ہیں۔ ناصر علی نے مولا علی کی پیدائش کے واقعات کو منفرد انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ عظیم شخصیات کی دنیا میں آمد کا اہتمام بھی منفرد طریقے سے ہوتا ہے۔ خانہ کعبہ میں مولا علی کی ولادت مولا علی کی فضیلت میں اضافہ کا سبب نہیں ہے بلکہ انکی ولادت سے کعبہ کی عظمت میں اضادہ ہو گیا جو تین سو ساٹھ بتوں کا مسکن بنا ہوا تھا۔ناصر علی نے کہا کہ مولا علی کی شخصیت نے ہر فکر و خیال کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ اس تعلق سے خاص بات یہ ہیکہ مختلف مزاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے مزہب پر قائم رہتے ہوئے مولا علی کی شخصیت کے دیوانے ہیں۔

آچاریہ پرمود کشن نے ناصر علی کے خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مولا علی کی ہی محبت ہیکہ وہ اور سنتیا جھنگران جیسے لوگ آج انکی ولادت کے جشن میں شامل ہیں۔ آچاریہ پرمود کشن نے مولا علی کی شان میں اشعار بھی پیش کئے۔لکھنؤ کے برہمن خاندان سے تعلق کھنے والی سنیتا جھنگران نے اہل بیت سے اپنی عقیدت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک حسینی برہمن ہیں۔سنیتا جھنگران نےمختلف شعرا کے اشعار پیش کرکے خاندان رسالت سے اپنی گہری عقیدت ظاہر کی۔

اردو شعرو ادب کی معروف ہستی خواجہ الطاف حسین حالی کی پر پوتی اور خواجہ غلام السیدین کی دختر سیدہ سیدین حمید نے مولا علی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے افتخار عارف کی ایک نظم پیش کی اور معروف ادیبہ صالحہ عابد حسین کی ایک کتاب سے مولا علی کی خصوصیات سے متعلق ایک اقتباس پیش کیا۔ مداح اہل بیت شعور اعظمی نے مولا علی کے ایک حقیقی پیروکار اور نصیری کے مابین مکالمے پر مبنی نظم پیش کی۔۔مولانا محمد سیادت فہمی نےسیمنار کا افتتاح کیا۔ جبکہ صدارت مولانا رضا کاظم نے کی۔ مرزا انس کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا اور رضوان امروہوی نے دلکش آواز میں نعت رسول اکرم پیش کی۔ سیمنار کی نظامت شان حیدر بے باک امروہوی نے کی۔

Related posts

بی جے پی نے بد عنوان کمپنیوں سے ہفتہ وصولی کی۔۔جمال عباس فہمی

qaumikhabrein

انخلا کے بعد بھی امریکی فوجیوں کی مختصر تعداد افغانستان میں رہےگی۔

qaumikhabrein

مولانا عباس مسعود محفوظ کر رہے ہیں علمی آثار کو

qaumikhabrein

Leave a Comment