qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

حکیم سید مہدی کا نتقال۔۔ امروہا میں حکمت کے ایک دور کا خاتمہ

امروہا کےایک مشہور و معروف حکیم  سید مہدی کا92 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔یہ بھی عجیب اتفاق ہیکہ جس تاریخ کو انہوں نے اس دار فانی سے کوچ کیا اسی  تاریخ  کو1930 میں اس دنیا میں انکی آمد ہوئی تھی۔جس شخص نےاپنی زندگی میں ہزاروں بیماروں  کو  صحت  و شفا بخشی آخری وقت میں  وہ خود اپنے تمام اعضائے رئیسہ کی ناکامی کے سبب دنیا کو الوداع کہہ گیا۔محلہ دربار شاہ ولایت(لکڑہ) کے ابدال محمد کے قبرستان میں انہیں سپرد لحد کیا گیا۔

حکیم  سید مہدی امروہا کے ان حکیموں کے سلسلے کی اہم کڑی تھے جنہوں  یونانی طریقہ علاج کو عزت ووقار بخشا۔ حکیم  سید مہدی حکیموں کے اس خانوادے کی فرد تھے جس نے طبابت اور حکمت کو خدمت خلق کےلئے استعمال کیا۔انہوں نے بلا تفریق مذہب و ملت، ذات پات، فرقہ و برادری امیر و غریب  لوگوں  کی خدمت کی۔ حکیم  سید مہدی انکساری  رحمدلی،خوش مزاجی اور غربا پروری کی مثال تھے۔دور دور سے مریض انکے پاس اپنی لا علاج بماریوں کے ساتھ آتے تھے اور شفا حاصل کرتے تھے۔

حکیم سید مہدی  یونانی طریقہ  سے بیماریوں کا علاج کرنے والے امروہا کے ایک مشہور خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ اس خاندان کے حکیموں نے نہ صرف بیماروں کو شفا  بخشی بلکہ یونانی طریقہ علاج کو بھی عزت و وقار بخشا۔ حکیم مہدی کے والد  محمد طٰہ بھی نامی گرامی حکیم تھے۔انکے دو بھائی میر احمد اور میر محمد بھی حکیم تھے۔ محمد طٰہ کے والد سید محمد بھی حاذق حکیم تھے۔

۔حکیم  سید محمد مشہور زمانہ حکیم اجمل خاں کے ہم عصر تھے۔  حکیم سید محمد نے دہلی کے طبیہ کالج سے  طب و جراحت میں فاضل کیا تھا۔حکیم سید محمد کے والد  سید مرتضی بھی اپنے دور کے  حاذق حکیم تھے۔ حکیم سید مہدی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1968 میں بی یو ایم ایس کیا تھا۔ حکیم سید مہدی کی حکمت و طبابت کی میراث کو  انکے فرزند آگے بڑھا رہے ہیں۔ پانچ فرزندوں میں انکے تین  فرزند سید محمد، سید حسین اور سید عباس بھی حکیم ہیں۔حکیم سید مہدی کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت ا نکی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔

Related posts

تہران میں با اثرخواتین کی بین الاقوامی کانگرس

qaumikhabrein

دشمن حقیقی اسلام سے لوگوں کو دور رکھنے کی سازشیں کرتا ہے۔ مولانا غلام مہدی

qaumikhabrein

اورنگ ادب کے زیر اہتمام نثر نگاروں کی محفل ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment