qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

اردو شعر و ادب کا مستقبل تابناک ہے۔نئی نسل کو اردو سے جوڑنا ہماری اولین ذمہ داری۔۔ ڈاکٹرتقی عابدی۔

عالمی شہرت یافتہ ادیب، محقق، شاعر، مصنف، مرتب اور مولف ڈاکٹرتقی عابدی کا کہنا ہیکہ امروہا سمیت دنیا بھر میں نئی نسل کے شعرا جس انداز کی شاعری کررہے ہیں اسے دیکھ کر یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اردو کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔ ڈاکٹرتقی عابدی نے ان خیالات کا اظہار بر صغیر میں ادبی لحاظ سے منفرد مقام رکھنے والے شہر امروہا میں اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک ‘شام تقی عابدی کے نام’ پروگرام میں کیا۔ تقی عابدی نے کہا کہ اردو کو زندہ اور تابندہ رکھنے کے لئے ہمارا یہ فریضہ ہیکہ ہم نئی نسل کو اردو سے جوڑیں اور اردو کی جانب اسے راغب کریں۔ اردو کو سمبھالنے کی ذمہ داری ہم میں سےہر شخص پر عائد ہوتی ہے۔

.

امروہا کی شیعہ جامع مسجد کے امام جمعہ و جماعت ڈاکٹر محمد سیادت نقوی کی صدارت میں ہوئے اس پروگرام میں شہر کی ایسی ہستیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو’ فخر امروہا’ ایوارڈ سے نوازہ گیا جنہوں نے کسی بھی شعبہ حیات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جن شخصیات کو ‘فخر امروہا’ ایوارڈ سے نوازہ گیا ان میں ہاشمی گروپ آف ایجوکیشن کے چیئر مین ایڈوکیٹ سراج الدین ہاشمی، آئی ایم انٹر کالج کے پرنسپل اور شاعر جمشید کمال،ڈاکٹر دیپ گوئل، یو پی اردو ادب سوسائٹی کے صدر، کوثر علی عباسی،آرٹسٹ ذہیب خاں ،سماجی کارکن اویس مصطفیٰ رضوی ادبی تنظیم ‘کاروان خلوص ‘کے صدر محبوب زیدی اور انجمن تحفظ عزاداری کے صدر حسن شجاع، شامل ہیں۔ ڈاکٹر شان صادق کو ‘آئڈیل آف یوتھ’ اوارڈ سے نوازہ گیا۔

کورونا کے دور میں عوامی خدمت کے لئے شہر کی جن غیر سرکاری تنظیمیوں کو ایوارڈ سے نوازہ گیا ان میں انجمن رضاکار حسینی بھی شامل ہے۔شہر کے کچھ صحافیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بھی اعزاز سے نوازہ گیا۔ پروگرام کی ابتدا مولانا شہوار نقوی نے تلاوت کلام مجید سے کی جبکہ سلیم امروہوی نے نعت کا نزرانہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ناشر نقوی، سراج نقوی اورشان حیدر بے باک نے مہمان خصوصی ڈاکٹر تقی عابدی کی شخصیت اور ادبی کارناموں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ڈاکٹر لاڈلے رہبر، فرا ز عرشی، شیبان قادری، ناصر امروہوی اور پنڈت بھون شرما نے نعت اور منقبت پیش کی۔

ڈاکٹر تقی عابدی کا تعلق حیدر آباد سے ہے اور وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ وہ خود کو اردو کا وکیل کہتے ہیں جبکہ دنیائے اردو ادب انہیں ‘سفیر اردو ‘کے نام سے پہچانتی ہے۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی اردو ادب اور ادبی شخصیات کے حوالے سے پچاس سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ انہوں نے متعدد ایسی ادبی شخصیات کو بھی اردو دنیا سے متعارف کرایا جو تاریخ کے نہا خانوں میں گم تھیں۔ حال ہی میں فراق گورکھپوری کی شخصیت اور شاعری پر انکی کتاب منظر عام پر آئی ہے جسے ادبی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے۔ڈاکٹرتقی عابدی اردو کے ایسے ادیب ہیں کہ جو اردو سے پیسہ کمانے میں نہیں بلکہ اردو پر اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔

۔’ایک شام تقی عابدی کے نام’ اور تقسیم انعام کا پروگرام امروہا فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ پروگرام کی نظامت کمال حیدر نے کی۔

Related posts

لکشدیپ کے ایڈ منسڑیٹر پرفل پٹیل کے خلاف بڑھ رہا ہے احتجاج۔

qaumikhabrein

ماسکو۔ برف سے وضو اور منفی سولہ ڈگری درجہ حرارت میں نماز

qaumikhabrein

اپنے مطالبات کے حق میں اساتذہ کی 8 اگست کو ریاست گیر تحریک۔

qaumikhabrein

Leave a Comment