qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا میں جشن غدیر

میدان غدیر میں رسول اللہ کے ذریعے مولائے کائنات حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو اپنا جاں نشین مقرر کئے جانے کے تاریخی اور ایمان افروز واقعہ کی یاد ہر سال عید غدیر کے عنوان سے منائی جاتی ہے۔ عید غدیر کو عیدوں کی عید اس لئے کہا جاتا ہیکہ کیونکہ مولا علی کی ولایت کے اعلان کے ساتھ ہی اللہ نے دین کے کامل ہونے کا اعلان کیا۔

عید غدیر کی مناسبت سے امروہا میں ‘جشن غدیر’ کے عنوان سے ایک محفل منقبت کا اہتمام کیا گیا۔ انجمن بنی ہاشم کے زیر اہتمام اس ‘جشن غدیر’ کی صدارت شیعہ جامع مسجد کے امام مولانا ڈاکٹر محمد سیادت فہمی نے کی۔ مسند پر نائب امام مولانا احسن اختر سروش، مولانا کوثر مجتبیٰ ، استاد شاعر شان حیدر بے باک امروہوی اور ثمر مجتبیٰ موجود تھے۔محفل کی نظامت ڈاکٹر لاڈلے رہبر نے کی

اس موقع پر بانی جشن انجمن بنی ہاشم نے مختلف درجوں کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا او ر طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں انعامات سے نوازہ۔ مولانا محمد سیادت فہمی نے کامیاب طلبا اور طالبات کو انعامات تقسیم کئے۔
محفل منقبت میں شہر کے مدعو شعرا نے بار گاہ مولا علی میں نزرانہ عقیدت پیش کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امروہا اور عید غدیر۔ حرف معزرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا بھر میں امروہا کی ایک منفرد طرز کی عزائی شناخت ہے۔ جو محمد اور آل محمد کی محبت سے عبارت ہے۔

یہاں کے عزا خانے،انکی آرائش و زیبائش، ماتمی جلوس، انکا نظم و ضبط، اربعین کی مجالس کے عشرے، آئمہ اطہار اور خاندان نبوت اور امامت کے افراد کی ولادت کی تاریخوں پر محفلوں کا اہتمام، انکی شہادت کے موقع پر مجلسوں کا اہتمام ،حاضریاں نزر و نیاز کے سلسلے ،مخصوص طرز کی سوز خوانی،تحت اللفظ مرثیہ خوانی کا رواج ان سب کی شمولیت کے ساتھ عزاداری اور محمد اور آل محمد سے محبت اور وفاداری کے حوالے سےامروہا ایک الگ طرز کی شناخت رکھتا ہے۔

اس تمام پس منظر کے ساتھ اگر عید غدیر کے جیسے اہم اور تاریخی موقع پر شہر کی سرگرمیوں اور رونق کی بات کریں تو قدرے مایوسی کا احساس ہوتا ہے۔ اس شہر عزا میں ‘عیدوں کی عید’ کا یہ دن بے رونق سا گزر جاتا ہے۔ محلہ گزری کے عزا خانےمسماۃ صغراً کی محفل منقبت کو اگر الگ کردیں تو شہر میں نہ عید غدیر کے حوالے سے کوئی مرکزی پروگرام ہوتا ہے نہ کوئی جلوس نہ کوئی سیمنار نہ کوئی مذاکرہ حتیٰ کہ اس روز کی مخصوص نماز اور اعمال تک انجام نہیں دئے جاتے۔ محفل منقت بھی عید کا دن گزرنے کے بعد شب میں ہوتی ہے۔ عید غدیر کی نماز اور مخصوص اعمال کی آئمہ معصومین کی جانب سے بہت تاکید آئی ہے۔اسکا بے انتہا اجر و ثواب وارد ہوا ہے۔

نماز عید غدیر۔حیدر آباد

شاید ہی کوئی ایسا شہر اور قصبہ ہو جہاں مومنین عید غدیر کی مخصوص نماز اور اعمال نہ بجا لاتے ہوں۔ شہر کی ایک آدھ مسجد میں دس بارہ لوگ اس میں مشغول نظر آتے ہیں۔ عید غدیر کی بے رونقی امروہا کی عزائی شناخت اور محمد اور آل محمد سے وفاداری کے حوالے سے اسکی شناخت کے یکسر بر عکس ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہیکہ شہر کے مومنین کو عید غدیر کی نماز اور اعمال کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے یا انکی اس میں دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اوکھلا کےباب العلم میں عید غدیر کی نماز اور اعمال میں شامل مومنین کی اکثریت اہل امروہا پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔

باب العلم۔اوکھلا

اگر اشرف المساجد میں عید الفطر اور عید الاضحی کی طرح عید غدیر کی نماز اور اعمال کا بھی باقاعدہ اہتمام ہوتو شہر کے مومنین ضرور اس میں شامل ہونگے۔ عید غدیر کی مذہبی سرگرمیوں کے تعلق سے امروہا کی عدم مشغولیت پر اظہار خیال کا مقصد کسی کے جزبات کو ٹھیس پہونچانا اور کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے۔ لیکن یہ امید ضرور ہیکہ ‘شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات۔”

Related posts

ٹوپی کی سیاست اور ’سیات کی ٹوپی۔۔۔سراج نقوی

qaumikhabrein

فلسطینیوں کو انکے گھروں سے نکالنا جائز نہیں۔ اقوام متحدہ

qaumikhabrein

سلامتی کونسل ارکان کا اسرائیل کو انتباہ

qaumikhabrein

Leave a Comment