qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

امروہا.۔کانگریس امیدوار عین موقع پر پارٹی چھوڑ گیا۔ کیا ہے اصل کہانی۔؟

اتر پردیش اسمبلی چناؤ کا دوسرامرحلہ چودہ فروری کو ہوگا۔ اس دوسرے مرحلے میں امروہا صدر سیٹ پر بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ لیکن چناؤ سے محض تین روز پہلے کانگریس امیدوار سلیم خان کانگریس کو چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ سلیم خان کو کانگریس نے دوسری مرتبہ بھروسا کرتے ہوئے امروہا سے امیدوار بنایا تھا۔ سلیم خان پچھلے کچھ روز سے اپنی ریلیوں میں دوسری ہی زبان بول رہے تھے۔ وہ کھلم کھلا اکھیلیش یادو کے حق میں ووٹ دینے کی اپیلیں کررہے تھے۔ آخر کار جمعہ کو بلی تھیلے سے باہر آگئی اور جب اکھیلیش یادو چناؤ مہم کے سلسلے میں رامپور پہونچے تو ان سے ملنے کے لئے سلیم خان بھی ہیلی پیڈ پر موجود تھے۔ انکے ساتھ امروہا سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار محبوب علی بھی تھے۔محبو ب علی کے ساتھ اکھیلیش یادو سے سلیم خا ن کی ملاقات پردے کے پیچھے کی کہانی بیان کرتی ہے۔ سلیم خان اور محبوب علی میں پہلے ہی معاہدہ ہو گیا تھا۔ سلیم خان کانگرس چھوڑنے کی جو وجہ بتا رہے ہیں وہ حلق سے اترنے کو تیار نہیں ہے.

انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ یہ بتائی ہیکہ وہ پرینکا گاندھی سے امروہا میں ریلی کرنے کا وقت لینا چاہتے تھے لیکن پارٹی کا ایک حلقہ ان سے پرینکا کی بات نہیں ہونے دے رہا تھا۔ سلیم خان نے الزام لگایا کہ پرینکا گاندھی کے قریبی لوگ علاقائی لیڈروں اور پرینکا کے بیچ سیدھا ربطہ قائم نہیں ہونے دیتے۔سلیم خان کے بقول ایسا اسلئے کیا جاتا ہیکہ پرینکا گاندھی تک پارٹی کی زمینی حقیقت نہ پہونچ سکے۔ سلیم خان کہتے ہیں کہ کچھ اور بھی وجوہات ہیں جنکے سبب انہو ں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن انہوں نے وہ دوسری وجوہات بتانا ضروری نہیں سمجھا.

لیکن اس سارے معاملے کی پردے کے پیچھے کی کہانی کچھ اور ہی ہے۔جانکار لوگوں کا کہنا ہیکہ در اصل سلیم خان کو تشہیری مہم چلانے کے لئے پارٹی سے منہہ مانگا پیسہ نہیں مل رہا تھا۔ دوسری بات یہ کہ جیسے جیسے چناؤ کی تاریخ نزدیک آرہی تھی ہوا کا رخ انہیں اس بار بھی شکست کے اشارے کررہا تھا۔تیسری بات یہ کہ سماجوادی پارٹی کے امیدوار محبوب علی نے ان کو میدان سے ہٹنے کے لئے ایک موٹی رقم کی پیشکش کی تھی

نوید ایاز۔ بی ایس پی امیدوار۔امروہا
بی جے پی امیدوار سینی۔ امرہا

امروہا سیٹ سے کئی مسلم امیدوار میدان میں ہیں جنکے درمیان مسلم ووٹ تقسیم ہونے سے بی جے پی کی کامیابی کا امکان ہوسکتا ہے۔ سلیم خان نے محبوب کی پیشکش کو منظور کرنے میں بھلائی سمجھی کہ اگر خدا نخواستہ بی جے پی امروہا سے جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو مسلمانوں کی نظر میں کم از کم وہ خود تو اسکے لئے ذمہ دار نہیں ہونگے۔ سلیم خان کو اکھیلیش یادو کی جانب سے یہ بھروسا بھی دیا گیا ہیکہ اگر سماجوادی پارٹی کی حکومت بن گئی تو انہیں اچھی طرح سے نواز دیا جائےگا۔ سلیم خان کو یہ تو معلوم ہی ہیکہ یو پی میں اگر یوگی کی شکست ہوسکتی ہے تو صرف اکھیلیش یادو کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔ کانگریس کے حکومت بنانے کے تو امکان دوردور تک نہیں ہیں۔ خود اپنی شکست کا بھی سلیم خان کو یقین تھا.

موقع پر چوکا لگاتے ہوئے سلیم خان نے سماجوادی پارٹی کا دام تھام لیا۔اب دیکھنا یہ ہیکہ سلیم خان کے میدان سے ہٹ جانے اور سماجوادی پارٹی میں آجانے سے محبوب علی کو کتنا فائدہ ہوتا ہے۔اگر محبوب بازی جیت گئے تو سمجھئے انکا داؤ صحیح پڑ گیا۔ نہیں تو۔۔۔ دیکھا جائےگا ۔ اللہ اللہ خیر صلا۔۔

Related posts

طالبان کے پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں۔؟

qaumikhabrein

سویٹزر لینڈ میں برامد ہوا ماتمی جلوس۔

qaumikhabrein

عزاداروں کا جوگی پورہ تک پیدل سفر۔کیا مناسب اقدام ہے؟

qaumikhabrein

Leave a Comment