qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

غلام حیدر کے ‘بچوں کے گلد ستے’ کی رسم اجرا

بچوں  کے لئے تحریر کہانیوں کے پانچ مجموعات کے مجموعے’ بچوں کے گلدستے’ کی رسم اجرا امروہا کے آئی ایم انٹر کالج میں  ادا کی گئی۔ بچوں کی کہانیوں کے خالق معروف محقق ، ادیب اور ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ سید غلام حیدر نقوی ہیں۔ رسم اجرا کی تقریب کی صدارت شیعہ جامع مسجد کے امام ڈاکٹر محمد سیادت نے کی جبکہ آئی ایم کالج کے پرنسپل  ڈاکٹرجمشید کمال، ٹی وی سیرئل میکر منصور صفدر نقوی، پروفیسر ڈاکٹر ناشر نقوی، دہلی یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے سربراہ ڈاکٹر حسنین اختر نقوی, صحافی  سراج نقوی اور انجمن رضاکاران حسینی کے قائد غلام سجاد بحیثیت مقرر موجود تھے۔تقریب کی  نظامت ڈاکٹر لاڈلے رہبر نے کی۔

مقررین نے غلام حیدر کی شخصیت  اور بچوں کے ادب کے حوالے سے انکی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر حسنین اختر نقوی نے کہا کہ غلام حیدر نے جس موضوع پر بھی لکھا نہایت تحقیق کے بعد لکھا۔ اسی لئے انکی ہر کتاب ایک ریسرچ پیپر کی حیثیت رکھتی ہے۔سراج نقوی نے ‘بچوں کے گلدستے’ میں شامل کہانیوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غلام حیدر کی خاص بات یہ ہیکہ انہوں نے بچوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے انکے لئے کہانیاں لکھیں۔ جبکہ ڈاکٹر ناشر نقوی نے اس تقریب کے اہتمام کے لئے ‘سادات امروہا ویلفیئر آرگنائزیشن’ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہیکہ کسی شخصیت کی خدمات کا اعتراف اسکے جیتے جی کیا جائے ۔

87 سالہ غلام حیدر علالت اور دیگر مصروفیات کے سبب تقریب میں موجود نہیں تھے لیکن انہوں نے  ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے تقریب کے منتظمین، مقررین اور  شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امروہا سے اپنے قلبی اور جزباتی لگاؤ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر غلام حیدر کے  ذریعے تحریر کتابوں کی نمائش بھی کی گئی۔

غلام حیدرنے ویسے تو مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں لیکن انکی  شناخت بچوں کے قلمکار کے طور پر مستحکم اور معروف ہے۔انکی تحریر کردہ کہانیوں کے مجموعے ‘آخری چوری’ اور دیگر کہانیوں  کو ساہتیہ اکادمی نے2010 ادب اطفال کے حوالے سے انعام کا مستحق گردانا۔اس سے پہلے کسی اردو قلمکار کو ادب اطفال کے تعلق سے ساہتیہ اکادمی کا انعام حاصل کرنے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا تھا۔بچوں کے لئے لکھے گئے انکے ناول’ پگ ڈنڈی۔ جنگل سے کھیت تک’ کو ناقدوں نے ادب اطفال میں سنگ میل قرار دیا ہے۔’پیسے کی کہانی’،’خط کی کہانی’، ‘بینک کی کہانی’، ‘اخبار کی کہانی’، ‘آزادی کی کہانی۔۔ انگریزوں اور اخباروں کی زبانی’۔’غار سے جھونپڑی تک’پیڑ پیڑ میرا دانا دے’ جیسی معلوماتی کتابیں بھی بہت مقبول ہوئیں۔

غلام حیدر کا تعلق ادبی گہوارہ امروہا کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے ہے۔ انکے والد سید غلام احمد  کاتب اور خطاط تھے۔مذہبی شاعری بھی کرتے تھے۔ انکی نظم کردہ مناجات  کا شہرہ دور دورتک تھا۔ایک دور تھا کہ جب سید غلام احمد کی نظم کردہ مناجاتوں کا مجموعہ ‘پنجتنی پھول’ امروہا کے ہر شیعہ گھر میں لازمی طور سے موجود ہوتا تھا۔غلام حیدر کو بچوں  کے لئے لکھنے کا  اس قدر جنون ہے کہ  انہوں نے نہ صرف خود بچوں کی دلچسپی اور معلومات کے لئے بہت کچھ لکھا ہے بلکہ دوسرے قلمکاروں کوبھی بچوں کے لئے لکھنے کی جانب راغب کیا ہے۔بچوں کا معیاری ادب تخلیق کرنے کے لئے غلام حیدر نے باقاعدہ ‘بچوں کا ادبی ٹرسٹ’ نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔87 برس کی عمر میں مختلف بیماریوں میں مبتلا غلام حیدر کا تخلیقی جزبہ اب بھی جوان ہے اور قلمی سفر جاری ہے۔۔ وہ کئی تخلیقی پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔غلام حیدر بچوں کے ادب کے حوالے سے نئے قلمکاروں کے لئے نمونہ عمل ہیں۔

اس پروگرام  کا اہتمام ‘سادات امروہا ویلفئر آرگنائزیشن’ نے کیا تھا۔2008 میں یہ تنظیم دہلی میں امروہا کے کچھ سرگرم افراد کے ذریعے قائم کی گئی تھی۔ضرورت مندوں کی مدد و اعانت کے ساتھ ساتھ یہ تنظیم ملک و ملت کا نام روشن کرنے والی شخصیات کو انعام و اکرام سے نوازنے کا کام بھی کرتی ہے۔آرگنائزیشن شعرا اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔آرگنا ئزیشن ‘وابستہ’ کے عنوان سے ایک آن لائن مجلہ بھی شائع کرتی ہے۔ آرگنائزیشن کے موجودہ صدر غلام سجاد ہیں۔

Related posts

ضیا عباس نجمی کی موت پر اظہار تعزیت کا سلسلہ

qaumikhabrein

قرآن کی توہین پر اسلام کے پرستاروں کا برملاکا غصہ ضروری۔مولانا حیدر عباس رضوی

qaumikhabrein

مولا علی کی ولادت کے موقع پرکوئز مقابلہ

qaumikhabrein

Leave a Comment