qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

عالم دین سید غلام حسنین کی سرگزشت ’حیات علامہ کنتوری‘منظرعام پر

علامہ کنتوری کے نام سے مشہور عالم دین سید غلام حسنین کی حیات اور کارناموں پر مشتمل کتاب ’حیات علامہ کنتوری‘ منظر عام پر آگئی ہے۔ کتاب کے مولف پروفیسر حکیم سید محمد کمال الدین حسین ہمدانی ہیں۔ اس کتاب کو نشر کیا ہے نور مائکرو فلم سینٹرنے۔نور مائکرو فلم سینٹرہندوستان میں اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کی قدیمی وراثت پرمشتمل نایاب خطی نسخوں کوتلاش کرکے انکو خوبصورت کتاب کی شکل دینے اور ڈیجٹلائزیشن کے ذریعہ طویل مدت کے لئے محفوظ کرنے کی خدمات انجام دینے میں مصروف ہے۔ ’حیات علامہ کنتوری‘ شائع کرکےانٹرنیشنل نور مائکرو فلم سینٹر،ایران کلچرہاؤس نئی دہلی نے اپنے عظیم کارناموں کی فہرست میں ایک اور باب کا اضافہ کیا ہے۔

’ حیات علامہ کنتوری‘ کتاب سید غلام حسنین المشتہر بہ علامہ کنتوری کی مختصر سر گذشت حیات کے ساتھ ان کے ذریعہ انجام دیے جانے والے عظیم علمی کارناموں پر مشتمل ہے جو پروفیسر حکیم محمد کمال الدین حسین ہمدانی کی وہ تھیسز ہے جسے علی گڑھ یونیورسٹی میں انہوں نے صدر شعبہ دینیات شیعہ ڈاکٹر علامہ سید مجتبیٰ حسن کا مونپوری کی نگرانی میں تحریر کیا تھا۔
اس کتاب میں اولاً علامہ کامونپوری کی تقریظ شامل ہے، کتاب میں مولف نے علامہ کنتوری کی شخصیت ،خاندان، شجرہ نسب، درسیات و تحصیلات کا تذکرہ کیا ہے نیز ان کے معاصر مجتہدین اور اساتیذ کے ذریعہ دئیے گئے اجتہاد کے اجازات کا بھی ذکر کیا ہے۔ کتاب میں علامہ مرحوم کی مختلف علوم و فنون میں مہارت علی الخصوص علم طب و علم کیمیا اور علم الادویہ میں علامہ کنتوری کی مہارت کوکہیں بالا جمال اور کہیں بالتفصیل تحریر کیا گیاہے۔
کتاب دو حصوں میں تقسیم ہے جس کے حصہ اول میں علامہ کی شخصیت ،خاندان ،تبلیغی خدمات ،علمی و فنی مشاغل کا تذکرہ ہے جبکہ حصہ دوم میں علم طب نیز علم الادویہ کے نسخوں کے ساتھ علم کیمیا میں ان کے قیمتی اور گرانقدر معالجات و تجاویز کو تحریر کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں مرحوم کی دیگر تصانیف و تراجم کا نام بہ نام تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پروفیسر حکیم سید کمال الدین حسین ہمدانی کی کمال جدو جہد اور حد درجہ عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔۔ جس کے لئے مولف موصوف مدح و ستائش کے کما حقہ مستحق ہیں ۔

ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری۔ڈائریکٹر۔نور مائکرو فلم سینٹر

واضح رہے کہ نور مائکرو فلم سینٹرکے ڈائرکٹر ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کی رہنمائی میں محققین اور دانشوروں کی ایک ٹیم ملک کے کونے کونے سے بوسیدہ ترین نایاب خطی نسخوں کی تلاش کرکے انہیں خوبصورت کتابی شکل دینے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے انہیں محفوظ کرنے کا کام انجام دے رہی ہے۔ 20 سالہ خدمات کے دوران اب تک سینٹر کے کئی شاہکار منظرعام پر آچکے ہیں جنہیں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

Related posts

افغانستان۔ خواتین وہی کام کریںگی جو مرد نہیں کرسکتے۔

qaumikhabrein

کووڈ کی دوا محفوظ ہے۔ہرشوردھن کا دعویٰ

qaumikhabrein

یو پی۔ اعلیٰ حکام لاپرواہ۔ نہیں اٹھاتے فون

qaumikhabrein

Leave a Comment